Showing posts with label منیر نیازی. Show all posts
Showing posts with label منیر نیازی. Show all posts

Sunday, 15 October 2023

اسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں

اور ان کے درمیان جو ہیں مکینوں اور مکانوں میں

ہوا چلتی ہے باغوں میں تو اس کی یاد آتی ہے

ستارے، چاند، سورج ہیں سبھی اس کے نشانوں میں

اسی کے دم سے طے ہوتی ہے منزل خوابِ ہستی کی

وہ نام اک حرفِ نورانی ہے ظلمت کے جہانوں میں

Saturday, 29 July 2023

خواب جمال عشق کی تعبیر ہے حسین

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


خوابِ جمالِ عشق کی تعبیر ہے حُسینؑ

شامِ ملالِ عشق کی تصویر ہے حسینؑ

حیراں وہ بے یقینیِ اہلِ جہاں سے ہے

دنیا کی بے وفائی سے دلگیر ہے حسینؑ

یہ زیست ایک دشت ہے لا حد و بے کنار

اس دشتِ غم پہ ابر کی تاثیر ہے حسینؑ

Monday, 29 May 2023

منیر نیازی (شخصی و علمی تعارف و حالات زندگی)

 منیر نیازی

منیر نیازی (اصل نام منیر احمد خان) 9 اپریل 1923سن عیسوی کو متحدہ ہندوستان کے ضلع ہوشیار پور کے ایک نواحی گاؤں خانپور میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک سال کے تھے جب آپ والد فتح محمد خان نیازی کا انتقال ہو گیا، والدہ کی دوسری شادی کے بعد کے خانگی مسائل کی وجہ سے ان کا بچپن نہایت نامساعد حالات میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم سری نگر سے حاصل کی، میٹرک (منٹگمری) ساہیوال سے کیا،  دیال سنگھ کالج سے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ منیر نیازی نے 17 سال کی کچی عمر میں ایک خوبصورت بیوہ خاتون صغریٰ خانم کو اپنا رفیق زندگی بنایا، جو 1985 میں کینسر میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئیں۔ پہلی اہلیہ کے انتقال کے بعد منیر نیازی کی تنہائی کو دیکھتے ہوئے بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نے ان کی دوسری شادی رامپور، یو پی سے مہاجرت کر کے کراچی آ کر بس جانے والے خاندان کی ناہید بیگم سے کروا دی۔ دوسری شادی کے بعد بے چین منیر نیازی کی زندگی میں بڑی حد تک ٹھہراؤ آ گیا۔ منیر نیازی 26 دسمبر 2006 سن عیسوی کو انتقال کر گئے اور لاہور ماڈل ٹاؤن میں مدفون ہوئے۔ 

Monday, 26 December 2022

اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا

 آج منیر نیازی جی کا یوم وفات ہے


اپنی ہی تیغِ ادا سے آپ گھائل ہو گیا

چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

وہ ہوا تھی شام ہی سے رستے خالی ہو گئے

وہ گھٹا برسی کے سارا شہر جل تھل ہو گیا

میں اکیلا اور سفر کی شام رنگوں میں‌ ڈھلی

پھر یہ منظر میری آنکھوں سے بھی اوجھل ہو گیا

Wednesday, 20 April 2022

میری دعائیں پیچیدہ بہت ہیں

 مختصر نظم


میری دعائیں پیچیدہ بہت ہیں

شام کا وقت ہے

دعاؤں کی منظوری کا وقت ہے

میں کن دعاؤں کو یاد کروں

میری دعائیں پیچیدہ بہت ہیں

Tuesday, 19 April 2022

خزاں ایک بہار رنگ موسم ہے

 خزاں ایک بہار رنگ موسم ہے

درختوں سے پتے جھڑ رہے ہیں

کبھی ایک کر کے ہوا کے مطابق

کبھی اچانک بے شمار ہوا کے مطابق

خزاں کے بہاروں میں خوب دلکشی ہے

وسوسوں اور وہموں سے بھری ہوئی

Thursday, 7 April 2022

لال گلاب کے پھول تجھے تو روگ لگا ہے

 بیمار گلاب


لال گلاب کے پھول

تجھے تو روگ لگا ہے

وہ کیڑا جو شور مچاتے طوفانوں میں

رات کو اڑتا پھرتا ہے

اور آنکھ سے اوجھل رہتا ہے

Tuesday, 5 April 2022

یہ لڑکی جو اس وقت سر بام کھڑی ہے

 یہ لڑکی جو اس وقت سرِ بام کھڑی ہے

اُڑتا ہوا بادل ہے کہ پھولوں کی لڑی ہے

شرماتے ہوئے بندِ قبا کھولے ہیں اس نے

یہ شب کے اندھیروں کے مہکنے کی گھڑی ہے

اک پیرہنِ سُرخ کا جلوہ ہے نظر میں

اک شکل نگینے کی طرح دل میں جڑی ہے

Monday, 19 July 2021

بس اتنی بات کہنے میں لگے بارہ برس مجھ کو

 بس اتنی بات کہنے میں


مجھے تم سے محبت ہے

بس اتنی بات کہنے میں

لگے بارہ برس مجھ کو


منیر نیازی

Saturday, 26 December 2020

ابھی ان گنت دلربا صورتیں ہیں

 فنا اور بقا


ابھی ان گنت دلربا صورتیں ہیں

جو مٹی کے ذروں، ہوا کے جھکوروں، فلک کے ستاروں، گُلوں کے تعطر میں پوشیدہ و نادمیدہ پڑی ہیں

کبھی شام آئے گی

جب ہر جگہ ان کی باتوں کی بجتی ہوئی گھنٹیوں کے مدھُر شور کی لَے سے بھر جائے گی

ہر گلی ان کے نازک دبے پاؤں چلنے کی آہٹ کے جادو میں کھو جائے گی

ہر بجھی صبح ان کے تنفس کی جلتی ہوئی خوشبوؤں سے مہک جائے گی

خواہشیں ہیں دل میں اتنی جتنے اس دنیا میں غم

 ایک اور خواہش


خواہشیں ہیں دل میں اتنی جتنے اس دنیا میں غم

شوق سے جلتی جبینیں اور جادو کے صنم

مہرباں سرگوشیاں، نا مہربانی کے ستم

آنکھ کے پُر پیچ رستے، ریشمی زلفوں کے خم

اصل میں کیا ہے یہ سب، کچھ بھی پتہ چلتا نہیں

چاند جیسے آسماں کا جو کبھی ڈھلتا نہیں

Sunday, 18 October 2020

دور ہی دور رہی بس مجھ سے

 دوری


دور ہی دور رہی بس مجھ سے

پاس وہ میرے آ نہ سکی تھی

لیکن اس کو چاہ تھی میری

وہ یہ بھید چھپا نہ سکی تھی


اب وہ کہاں ہے اور کیسی ہے

Monday, 12 October 2020

اے دوشیزہ مت گھبرا

 اے دوشیزہ مت گھبرا

اب سورج ڈوبنے والا ہے

سورج ڈوب کے ایک اندھیری کالی رات کو لائے گا

لاکھوں انہونی باتوں کا میلہ دھیان میں لائے گا

پھر بادل گھِر کر آئیں گے

گرج گرج کر چمک چمک کر تیرا جی دہلائیں گے

Saturday, 10 October 2020

کسی سائے کا نقش گہرا نہیں ہے

 کسی سائے کا نقش گہرا نہیں ہے

ہر اک سایہ اک آنکھ ہے

جس میں عشرت کدوں نارسا خواہشوں

ان کہی دل نشیں داستانوں کا میلا لگا ہے

مگر آنکھ کا سحر پلکوں کی چلمن کی ہلکی سی جنبش ہے

اور کچھ نہیں ہے

Friday, 9 October 2020

دیتی نہیں اماں جو زمیں آسماں تو ہے

 دیتی نہیں اماں جو زمیں آسماں تو ہے

کہنے کو تو اپنے دل میں کوئی داستاں تو ہے

یوں تو ہے رنگ زرد مگر ہونٹ لال ہیں

صحرا کی وسعتوں میں کہیں گلستاں تو ہے

اک چیل ایک ممٹی پہ بیٹھی ہے دھوپ میں

گلیاں اجڑ گئی ہیں مگر پاسباں تو ہے

Sunday, 2 August 2020

اس کو مجھ سے حجاب سا کیا ہے

اس کو مجھ سے حجاب سا کیا ہے
آئینے میں سراب سا کیا ہے
آنکھ نشے میں مست سی کیوں ہے
رخ پہ زہرِ شباب سا کیا ہے
گھر میں کوئی مکیں نہیں لیکن
سیڑھیوں پر گلاب سا کیا ہے

Wednesday, 10 January 2018

کوئی آئے باغ میں اس طرح

کار اصل زیست 

کوئی آئے باغ میں اس طرح 
کوئی دید جیسے بہار میں
کوئی رنگدار سحر اڑے 
کسی گوشۂ شب تار میں 
کوئی یاد اس میں ہو اس طرح
کوئی رنج جیسے خمار میں

زندگی شام کا سورج خود اپنے ہی لہو کی دھار

زندگی

شام کا سورج خود اپنے ہی لہو کی دھاریوں میں ڈوب کر
دیکھتا ہے بجھتی آنکھوں سے سوادِ شہر کے سونے کھنڈر
اس کو لے جائے گی پل بھر میں فنا کے گھاٹ پر
رات کے بحرِ سیہ کی موج ہے گرمِ سفر
دیکھتی آنکھوں افق کے سرد ساحل پر اندھیرا چھائے گا
ڈوبتا سورج ابھی بھولے دنوں کی داستاں بن جائے گا

راستے کی تھکن

راستے کی تھکن

آس پاس کوئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے
شام بھی جیسے کسی پرانے سوگ میں ڈوبی آئی ہے
پل پل بجلی چمک رہی ہے اور میلوں تنہائی ہے

کتنے جتن کیے ملنے کو پھر بھی کتنی دوری ہے
چلتے چلتے ہار گیا میں پھر بھی راہ ادھوری ہے
گھائل ہے آواز ہوا کی اور دل کی مجبوری ہے

منیر نیازی

وہاں جس جگہ پر صدا سو گئی ہے

تُو

وہاں، جس جگہ پر صدا سو گئی ہے
ہر اک سمت اونچے درختوں کے جھنڈ
ان گنت سانس روکے ہوئے کھڑے ہیں
جہاں ابر آلود شام اڑتے لمحوں کو روکے ابد بن گئی ہے
وہاں عشق پیچاں کی بیلوں میں لپٹا ہوا اک مکاں ہو
اگر میں کبھی راہ چلتے ہوئے اس مکاں کے دریچوں کے