آپ ہیں صاحب کرم تنہا
ہم ہیں گرویدۂ ستم تنہا
نہ خوشی ہے نہ آرزوئیں ہیں
ڈستے رہتے ہیں دل کو غم تنہا
ماہِ نو کا جواب ہیں شاید
آپ کی ابروؤں کے خم تنہا
آپ ہیں صاحب کرم تنہا
ہم ہیں گرویدۂ ستم تنہا
نہ خوشی ہے نہ آرزوئیں ہیں
ڈستے رہتے ہیں دل کو غم تنہا
ماہِ نو کا جواب ہیں شاید
آپ کی ابروؤں کے خم تنہا
ایک ہی لفظ میں دفتر لکھنا
خط اسے سوچ سمجھ کر لکھنا
جب چلی تیز ہوا کی تلوار
کتنے پنچھی ہوئے بے پر لکھنا
چاندنی کس کا مقدر ٹھہری
کس کا تاریک رہا گھر لکھنا
داغ ہیں دل کی یادگاروں میں
آگ لگ جائے ان بہاروں میں
ہے عجب دلکشی کا اک عالم
ان کی تصویر ہے نظاروں میں
آج جنسِ خلوص مہنگی ہے
اک نمائش ہے غمگساروں میں
غم حیات کی یہ دل کشی غنیمت ہے
میرے قریب نہ آئی خوشی غنیمت ہے
وہ زندگی جو تیری یاد کی اسیر رہی
کسی طرح سے گزر ہی گئی غنیمت ہے
حیات معرکۂ غم سے کم نہیں اے دوست
یہ چند لمحوں کی فرصت بڑی غنیمت ہے