تیرے مِرے میان جو دیوار بھی نہیں
دنیا میں ایسا اور کوئی معیار بھی نہیں
ہم نے ازل سے جھوٹ کو ہی جھوٹ ہے کہا
یہ کیا ہوا جو ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
جو دشت کربلا کے ستم دیکھتا نہیں
اس کی نظر میں طاقتِ دیدار بھی نہیں
تیرے مِرے میان جو دیوار بھی نہیں
دنیا میں ایسا اور کوئی معیار بھی نہیں
ہم نے ازل سے جھوٹ کو ہی جھوٹ ہے کہا
یہ کیا ہوا جو ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
جو دشت کربلا کے ستم دیکھتا نہیں
اس کی نظر میں طاقتِ دیدار بھی نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سطرٍ مِدحت کا سفر شہرٍ مدینہ کی طرف
ہوتا رہے شام و سحر شہرٍ مدینہ کی طرف
ذہن تو میرا متاعٍ نفس میں اُلجھا رہا
چل پڑا ہے دل مگر شہرٍ مدینہ کی طرف
دیکھ لے گا وہ تیری جلوہ نمائی کا اثر
جائے جو سب چھوڑ کر شہرٍ مدینہ کی طرف
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بے مِثل تیری مِثل ہے دونوں جہان میں
یہ بات کہہ رہا ہے خُدا خود قُرآن میں
تُو طیبؐ و طحہؐ ہے تُو طاہرؐ و اطہرﷺ
اُترے یہ نام بھی ہیں فقط تیری شان میں
چادر جو اُوڑھی آپؐ نے تو فاطمہؑ کے ساتھ
آئے علیؑ، حُسینؑ و حسنؑ درمیان میں
کڑواہٹ
دو طبقے ہیں
دونوں میں اک جنگ ازل سے جاری ہے
ایک طبقے پر رحمت ہے، خوشحالی ہے
ایک طبقے پر خوف مُسلسل طاری ہے
ایک طبقہ جو حاکِم ہے اور ظالم ہے
اس طبقے کی اُنگلی تھامے