Showing posts with label قاسم خیال. Show all posts
Showing posts with label قاسم خیال. Show all posts

Thursday, 2 April 2026

تیرے مرے میان جو دیوار بھی نہیں

 تیرے مِرے میان جو دیوار بھی نہیں

دنیا میں ایسا اور کوئی معیار بھی نہیں

ہم نے ازل سے جھوٹ کو ہی جھوٹ ہے کہا

یہ کیا ہوا جو ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

جو دشت کربلا کے ستم دیکھتا نہیں

اس کی نظر میں طاقتِ دیدار بھی نہیں

Saturday, 8 June 2024

سطر مدحت کا سفر شہر مدینہ کی طرف

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سطرٍ مِدحت کا سفر شہرٍ مدینہ کی طرف

ہوتا رہے شام و سحر شہرٍ مدینہ کی طرف

ذہن تو میرا متاعٍ نفس میں اُلجھا رہا

چل پڑا ہے دل مگر شہرٍ مدینہ کی طرف

دیکھ لے گا وہ تیری جلوہ نمائی کا اثر

جائے جو سب چھوڑ کر شہرٍ مدینہ کی طرف

Friday, 7 June 2024

بے مثل تیری مثل ہے دونوں جہان میں

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 بے مِثل تیری مِثل ہے دونوں جہان میں 

یہ بات کہہ رہا ہے خُدا خود قُرآن میں

تُو طیبؐ و طحہؐ ہے تُو طاہرؐ و اطہرﷺ 

اُترے یہ نام بھی ہیں فقط تیری شان میں 

چادر جو اُوڑھی آپؐ نے تو فاطمہؑ  کے ساتھ 

آئے علیؑ، حُسینؑ و حسنؑ درمیان میں

Thursday, 6 June 2024

دو طبقے ہیں دونوں میں اک جنگ ازل سے جاری ہے

 کڑواہٹ


دو طبقے ہیں 

دونوں میں اک جنگ ازل سے جاری ہے 

ایک طبقے پر رحمت ہے، خوشحالی ہے 

ایک طبقے پر خوف مُسلسل طاری ہے 

ایک طبقہ جو حاکِم ہے اور ظالم ہے 

اس طبقے کی اُنگلی تھامے