عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تجھ سے فریاد ہے یہ گُنبد خضریٰ والے
تنگ کرتے ہیں غلاموں کو یہ دنیا والے
سخت حاجت ہے غلاموں کو مسیحائی کی
ہاں ذرا ایک نظر نازش ایشاں والے
آ بچا لے مجھے اس قبر کی تاریکی سے
زُلفِ خمدار کا صدقہ شبِ اسریٰ والے
حشر میں بندۂ مولیٰ کی طلب یوں ہو گی
یاد کرتے ہیں تجھے دیر سے بطحا والے
بخش دے گا انہیں اللہ بغیر پُرسش
جب پُکاریں گے گُنہگار یہ مولیٰ والے
رحم کر رحمت عالم کی قسم ہے تجھ کو
اے محمدﷺ کے خدا عرش معلیٰ والے
آ کے قدموں سے لپٹ جائے نصیر عاصی
اے رسول عربیﷺ فاطمہ زہرا والے
نصیر نیازی
No comments:
Post a Comment