Showing posts with label سعید سہروردی. Show all posts
Showing posts with label سعید سہروردی. Show all posts

Monday, 12 May 2025

میری فریاد کے شعلوں کو عنایت سمجھو

 میری فریاد کے شعلوں کو عنایت سمجھو

میرے ہر زخم کو الفت کی روایت سمجھو

ایک مجبور تمنا کی گراں بار تھکن

میں نے کب تم سے کہا یہ اسے الفت سمجھو

لذتِ غم میں نہیں خونِ تمنا کا علاج

مِری ہر ٹیس کو خاموش بغاوت سمجھو

Thursday, 8 May 2025

اک خلش سی تھی نہ کہنے کی نہ سمجھانے کی

 اک خلش سی تھی نہ کہنے کی نہ سمجھانے کی

اب وہی ہو گئی سرخی کسی افسانے کی

لوگ سمجھاتے رہے راہ خرد نے رد کی

گرمئ شوق نہ کم ہو سکی دیوانے کی

آپ پر جرأتِ اقرار سے گزری ہے

میں سمجھتا ہوں نہ کوشش کریں سمجھانے کی

Sunday, 2 May 2021

در پہ کس کے صدا کرے کوئی

در پہ کس کے صدا کرے کوئی

روشنی لے کے کیا کرے کوئی

حسرتوں کا کفن بھی بھاری ہے

کس کی حاجت روا کرے کوئی

جب دواؤں میں مرض پلتے ہیں

مرض کیسے جدا کرے کوئی

Tuesday, 20 April 2021

قرض یاراں ادا نہیں ہوتا

قرضِ یاراں ادا نہیں ہوتا

شعر دُکھ کا صِلہ نہیں ہوتا

وہ جُدا مجھ سے ہو گیا لیکن

داغ دل سے جُدا نہیں ہوتا

ایک پل میں صدی گُزرتی ہے

اس کے آنے سے کیا نہیں ہوتا