میری فریاد کے شعلوں کو عنایت سمجھو
میرے ہر زخم کو الفت کی روایت سمجھو
ایک مجبور تمنا کی گراں بار تھکن
میں نے کب تم سے کہا یہ اسے الفت سمجھو
لذتِ غم میں نہیں خونِ تمنا کا علاج
مِری ہر ٹیس کو خاموش بغاوت سمجھو
میری فریاد کے شعلوں کو عنایت سمجھو
میرے ہر زخم کو الفت کی روایت سمجھو
ایک مجبور تمنا کی گراں بار تھکن
میں نے کب تم سے کہا یہ اسے الفت سمجھو
لذتِ غم میں نہیں خونِ تمنا کا علاج
مِری ہر ٹیس کو خاموش بغاوت سمجھو
اک خلش سی تھی نہ کہنے کی نہ سمجھانے کی
اب وہی ہو گئی سرخی کسی افسانے کی
لوگ سمجھاتے رہے راہ خرد نے رد کی
گرمئ شوق نہ کم ہو سکی دیوانے کی
آپ پر جرأتِ اقرار سے گزری ہے
میں سمجھتا ہوں نہ کوشش کریں سمجھانے کی
در پہ کس کے صدا کرے کوئی
روشنی لے کے کیا کرے کوئی
حسرتوں کا کفن بھی بھاری ہے
کس کی حاجت روا کرے کوئی
جب دواؤں میں مرض پلتے ہیں
مرض کیسے جدا کرے کوئی
قرضِ یاراں ادا نہیں ہوتا
شعر دُکھ کا صِلہ نہیں ہوتا
وہ جُدا مجھ سے ہو گیا لیکن
داغ دل سے جُدا نہیں ہوتا
ایک پل میں صدی گُزرتی ہے
اس کے آنے سے کیا نہیں ہوتا