بہ مصلحت ہی سہی رازداں ضروری ہے
رہِ وفا میں کوئی مہرباں ضروری ہے
جو تو شجر ہے تو مجھ کو پناہ دے جاناں
مسافروں کے لیے سائباں ضروری ہے
بغیر نام کے تیرے نہیں مِری پہچان
زمیں کے واسطے ایک آسماں ضروری ہے
بہ مصلحت ہی سہی رازداں ضروری ہے
رہِ وفا میں کوئی مہرباں ضروری ہے
جو تو شجر ہے تو مجھ کو پناہ دے جاناں
مسافروں کے لیے سائباں ضروری ہے
بغیر نام کے تیرے نہیں مِری پہچان
زمیں کے واسطے ایک آسماں ضروری ہے
یہ جو تم دیکھ رہے ہو خس و خاشاک پہ خاک
اس سے بڑھ کر ہے مِری خواہشِ صد چاک پہ خاک
گر کوئی خواب نہیں ہے مِری آنکھوں میں تو پھر
میرے سامان پہ حسرت، مِری املاک پہ خاک
میں نے اڑنے ہی نہیں دی ہے رہِ عشق میں گرد
میں نے پڑنے ہی نہیں دی تِری پوشاک پہ خاک
یہ جو ہم اختلاف کرتے ہیں
آپ کا اعتراف کرتے ہیں
آؤ دھوتے ہیں دل کے داغوں کو
آؤ، آئینے صاف کرتے ہیں
تم کو خوش دیکھنے کی خاطر ہم
بات اپنے خلاف کرتے ہیں
اب وہ پہلا سا سلسلہ بھی نہیں
آنکھ میں کوئی رتجگا بھی نہیں
ہجر کی اک کسک تو ہے، لیکن
میں محبت کی شاعرہ بھی نہیں
یہ عبادت نہیں، محبت ہے
آپ انسان ہیں، خدا بھی نہیں
تاکید ہے کہ رازِ محبت عیاں نہ ہو
ممکن کہاں کہ آگ لگے اور دھواں نہ ہو
دعویٰ جنہیں خدائی کا ہے ان سے یہ کہو
ایسی بہار لائیں کہ جس کی خزاں نہ ہو
اب شوقِ راہنمائی میں اُڑنے لگا غُبار
اب راستے میں خضر کوئی مہرباں نہ ہو