Showing posts with label تبسم صدیقی. Show all posts
Showing posts with label تبسم صدیقی. Show all posts

Sunday, 14 November 2021

بہ مصلحت ہی سہی رازداں ضروری ہے

 بہ مصلحت ہی سہی رازداں ضروری ہے

رہِ وفا میں کوئی مہرباں ضروری ہے

جو تو شجر ہے تو مجھ کو پناہ دے جاناں

مسافروں کے لیے سائباں ضروری ہے

بغیر نام کے تیرے نہیں مِری پہچان

زمیں کے واسطے ایک آسماں ضروری ہے

Friday, 12 November 2021

یہ جو تم دیکھ رہے ہو خس و خاشاک پہ خاک

 یہ جو تم دیکھ رہے ہو خس و خاشاک پہ خاک

اس سے بڑھ کر ہے مِری خواہشِ صد چاک پہ خاک

گر کوئی خواب نہیں ہے مِری آنکھوں میں تو پھر

میرے سامان پہ حسرت، مِری املاک پہ خاک

میں نے اڑنے ہی نہیں دی ہے رہِ عشق میں گرد

میں نے پڑنے ہی نہیں دی تِری پوشاک پہ خاک

Tuesday, 9 November 2021

یہ جو ہم اختلاف کرتے ہیں

 یہ جو ہم اختلاف کرتے ہیں

آپ کا اعتراف کرتے ہیں

آؤ دھوتے ہیں دل کے داغوں کو

آؤ، آئینے صاف کرتے ہیں

تم کو خوش دیکھنے کی خاطر ہم

بات اپنے خلاف کرتے ہیں

Monday, 31 May 2021

اب وہ پہلا سا سلسلہ بھی نہیں

 اب وہ پہلا سا سلسلہ بھی نہیں

آنکھ میں کوئی رتجگا بھی نہیں

ہجر کی اک کسک تو ہے، لیکن

میں محبت کی شاعرہ بھی نہیں

یہ عبادت نہیں، محبت ہے

آپ انسان ہیں، خدا بھی نہیں

Saturday, 24 April 2021

تاکید ہے کہ راز محبت عیاں نہ ہو

 تاکید ہے کہ رازِ محبت عیاں نہ ہو

ممکن کہاں کہ آگ لگے اور دھواں نہ ہو

دعویٰ جنہیں خدائی کا ہے ان سے یہ کہو

ایسی بہار لائیں کہ جس کی خزاں نہ ہو

اب شوقِ راہنمائی میں اُڑنے لگا غُبار

اب راستے میں خضر کوئی مہرباں نہ ہو