صد شکر کہ نصیب ہوئے دن بہار کے
ہم کو سکوں ملا ہے خزاں کو گزار کے
سہنی پڑیں گی سختیاں صحرائے عشق میں
سنتے ہیں راستے ہیں کٹھن کُوئے یار کے
اس کو جہاں میں اور کہیں کیا سکوں ملے
دیدار ہو سکیں نہ جسے رُوئے یار کے
صد شکر کہ نصیب ہوئے دن بہار کے
ہم کو سکوں ملا ہے خزاں کو گزار کے
سہنی پڑیں گی سختیاں صحرائے عشق میں
سنتے ہیں راستے ہیں کٹھن کُوئے یار کے
اس کو جہاں میں اور کہیں کیا سکوں ملے
دیدار ہو سکیں نہ جسے رُوئے یار کے
وہ ایسے بات کرتی جا رہی ہے
مہک جیسے بکھرتی جا رہی ہے
تِری زلفوں کی بھینی بھینی خوشبو
مجھے مدہوش کرتی جا رہی ہے
تِری تعریف کے صدقے میں جاناں
غزل میری نکھرتی جا رہی ہے
نہ ہو جو ختم ایسی داستاں میں چھوڑ جائیں گے
ہمیں معلوم تھا وہ درمیاں میں چھوڑ جائیں گے
در و دیوار بھی روتے رہیں گے یاد کر کر کے
ہم اپنی یاد کی کھڑکی مکاں میں چھوڑ جائیں گے
اگر ہم سے کبھی ملنے کی خواہش ہو تو پڑھ لینا
کہ اپنے آپ کو اردو زباں میں چھوڑ جائیں گے
بوجھ کاندھوں پہ جو ہمارے ہیں
ہم نے اب تک نہیں اتارے ہیں
اب دوا ہو یہ کیسے ممکن ہے
زخم سینے پہ اتنے سارے ہیں
وہ کہیں بھی سکوں نہ پائے گا
جس نے ہم سے کیے کنارے ہیں
کبھی اپنوں نے منہ پھیرا کبھی یاران بدلے ہیں
ذرا سا وقت کیا بدلا کہ سب انسان بدلے ہیں
سکوں پھر بھی نہ مل پایا ہمارے قلبِ مضطر کو
اگرچہ اس کی خاطر سینکڑوں سامان بدلے ہیں
یہ دنیا چار دن کی ہے سنبھل جا وقت ہے اب بھی
کہ دولت نے ہزاروں کے یہاں ایمان بدلے ہیں