Showing posts with label عاجز بھوپالی. Show all posts
Showing posts with label عاجز بھوپالی. Show all posts

Tuesday, 27 September 2022

صد شکر کہ نصیب ہوئے دن بہار کے

 صد شکر کہ نصیب ہوئے دن بہار کے

ہم کو سکوں ملا ہے خزاں کو گزار کے

سہنی پڑیں گی سختیاں صحرائے عشق میں

سنتے ہیں راستے ہیں کٹھن کُوئے یار کے

اس کو جہاں میں اور کہیں کیا سکوں ملے

دیدار ہو سکیں نہ جسے رُوئے یار کے

Friday, 2 September 2022

وہ ایسے بات کرتی جا رہی ہے

وہ ایسے بات کرتی جا رہی ہے

مہک جیسے بکھرتی جا رہی ہے

تِری زلفوں کی بھینی بھینی خوشبو

مجھے مدہوش کرتی جا رہی ہے

تِری تعریف کے صدقے میں جاناں

غزل میری نکھرتی جا رہی ہے

Wednesday, 31 August 2022

نہ ہو جو ختم ایسی داستاں میں چھوڑ جائیں گے

 نہ ہو جو ختم ایسی داستاں میں چھوڑ جائیں گے

ہمیں معلوم تھا وہ درمیاں میں چھوڑ جائیں گے

در و دیوار بھی روتے رہیں گے یاد کر کر کے

ہم اپنی یاد کی کھڑکی مکاں میں چھوڑ جائیں گے

اگر ہم سے کبھی ملنے کی خواہش ہو تو پڑھ لینا

کہ اپنے آپ کو اردو زباں میں چھوڑ جائیں گے

Monday, 29 August 2022

بوجھ کاندھوں پہ جو ہمارے ہیں

 بوجھ کاندھوں پہ جو ہمارے ہیں

ہم نے اب تک نہیں اتارے ہیں

اب دوا ہو یہ کیسے ممکن ہے

زخم سینے پہ اتنے سارے ہیں

وہ کہیں بھی سکوں نہ پائے گا

جس نے ہم سے کیے کنارے ہیں

Sunday, 28 August 2022

کبھی اپنوں نے منہ پھیرا کبھی یاران بدلے ہیں

 کبھی اپنوں نے منہ پھیرا کبھی یاران بدلے ہیں

ذرا سا وقت کیا بدلا کہ سب انسان بدلے ہیں

سکوں پھر بھی نہ مل پایا ہمارے قلبِ مضطر کو

اگرچہ اس کی خاطر سینکڑوں سامان بدلے ہیں

یہ دنیا چار دن کی ہے سنبھل جا وقت ہے اب بھی

کہ دولت نے ہزاروں کے یہاں ایمان بدلے ہیں