Showing posts with label منیر بھوپالی. Show all posts
Showing posts with label منیر بھوپالی. Show all posts

Monday, 17 October 2022

کن الجھنوں میں چھوڑ گئی جستجو مجھے

 کن الجھنوں میں چھوڑ گئی جستجو مجھے

میں آرزو کو ڈھونڈھتا ہوں، آرزو مجھے

امید نے بھی ہاتھ سے دامن چھڑا لیا

کیا حال ہو جو ایسے میں مل جائے تو مجھے

مقصودِ دل کچھ اور ہے، ذوقِ نظر کچھ اور

کس کشمکش میں ڈال گئی آرزو مجھے

Friday, 22 April 2022

محبت ہے تو پھر اندازۂ شوق وفا کیوں ہو

 محبت ہے تو پھر اندازۂ شوق وفا کیوں ہو

شکایت درد کی کیوں ہو جفاؤں کا گِلہ کیوں ہو

کسی کے کان تک پہنچے وہ میری التجا کیوں ہو

بر آنا جس کا ممکن ہو وہ میرا مدعا کیوں ہو

یہ راہِ عشق ہے اے دل! مآل اندیشیاں کیسی

جنوں ہے دستگیر اپنا کوئی زنجیر پا کیوں ہو

Friday, 25 February 2022

ساز دل تشنۂ مضراب تمنا نہ رہا

 ساز دل تشنۂ مضراب تمنا نہ رہا

دیدۂ شوق تماشا ہے تماشا نہ رہا

دل رہا دل میں مگر جوش تمنا نہ رہا

انجمن رہ گئی اور انجمن آرا نہ رہا

ہے وہی طور وہی برق وہی شان جمال

ہاں کوئی آگ سے اب کھیلنے والا نہ رہا

Monday, 3 January 2022

ڈھونڈ لیں ہم کو ہماری جو خبر رکھتے ہیں

 ڈھونڈ لیں ہم کو ہماری جو خبر رکھتے ہیں

ہم کو دیکھیں وہ اگر حسن نظر رکھتے ہیں

واقف راہ ہیں منزل کی خبر رکھتے ہیں

کچھ سمجھ سوچ کے ہم عزم سفر رکھتے ہیں

آنکھ کو وقف سرِ راہ گزر رکھتے ہیں

خاک ہونے کے لیے ذوق نظر رکھتے ہیں

Friday, 17 December 2021

ہمارا جذب صادق شوق کامل دیکھتے جاؤ

 ہمارا جذبِ صادق، شوقِ کامل دیکھتے جاؤ

یہیں کِھنچ کر چلی آئے گی منزل دیکھتے جاؤ

وفا آموز ہے رشکِ شہادت آج مقتل میں

ہزاروں ہوں گے بسمل گردِ بسمل دیکھتے جاؤ

دمِ آخر ہے، ٹھہرو کرب خود تسکین بنتا ہے

ہوئی جاتی ہے اب آسان مشکل دیکھتے جاؤ

Thursday, 16 December 2021

تاب دیدار لا نہیں سکتے

 تابِ دیدار لا نہیں سکتے

ان سے نظریں ملا نہیں سکتے

رازِ دل اب چھپا نہیں سکتے

اور زباں پر بھی لا نہیں سکتے

دل میں رہتی ہے اک خلش پیہم

جس کو ہم خود بتا نہیں سکتے

Wednesday, 15 December 2021

محبت میں اک ایسا بھی مقام آتا ہے مشکل کا

 محبت میں اک ایسا بھی مقام آتا ہے مشکل کا

جہاں خود دل ہی بن جاتا ہے دشمن ہستیِ دل کا

نظر کیسی خیالوں سے ہے اونچا سلسلہ دل کا

پتہ خود پوچھتا ہے عشق مجھ سے میری منزل کا

ہر اک کروٹ پہ درد عشق کی تڑپا نہیں جاتا

کہاں تک ساتھ دے گی زندگی بے تابئ دل کا