کن الجھنوں میں چھوڑ گئی جستجو مجھے
میں آرزو کو ڈھونڈھتا ہوں، آرزو مجھے
امید نے بھی ہاتھ سے دامن چھڑا لیا
کیا حال ہو جو ایسے میں مل جائے تو مجھے
مقصودِ دل کچھ اور ہے، ذوقِ نظر کچھ اور
کس کشمکش میں ڈال گئی آرزو مجھے
کن الجھنوں میں چھوڑ گئی جستجو مجھے
میں آرزو کو ڈھونڈھتا ہوں، آرزو مجھے
امید نے بھی ہاتھ سے دامن چھڑا لیا
کیا حال ہو جو ایسے میں مل جائے تو مجھے
مقصودِ دل کچھ اور ہے، ذوقِ نظر کچھ اور
کس کشمکش میں ڈال گئی آرزو مجھے
محبت ہے تو پھر اندازۂ شوق وفا کیوں ہو
شکایت درد کی کیوں ہو جفاؤں کا گِلہ کیوں ہو
کسی کے کان تک پہنچے وہ میری التجا کیوں ہو
بر آنا جس کا ممکن ہو وہ میرا مدعا کیوں ہو
یہ راہِ عشق ہے اے دل! مآل اندیشیاں کیسی
جنوں ہے دستگیر اپنا کوئی زنجیر پا کیوں ہو
ساز دل تشنۂ مضراب تمنا نہ رہا
دیدۂ شوق تماشا ہے تماشا نہ رہا
دل رہا دل میں مگر جوش تمنا نہ رہا
انجمن رہ گئی اور انجمن آرا نہ رہا
ہے وہی طور وہی برق وہی شان جمال
ہاں کوئی آگ سے اب کھیلنے والا نہ رہا
ڈھونڈ لیں ہم کو ہماری جو خبر رکھتے ہیں
ہم کو دیکھیں وہ اگر حسن نظر رکھتے ہیں
واقف راہ ہیں منزل کی خبر رکھتے ہیں
کچھ سمجھ سوچ کے ہم عزم سفر رکھتے ہیں
آنکھ کو وقف سرِ راہ گزر رکھتے ہیں
خاک ہونے کے لیے ذوق نظر رکھتے ہیں
ہمارا جذبِ صادق، شوقِ کامل دیکھتے جاؤ
یہیں کِھنچ کر چلی آئے گی منزل دیکھتے جاؤ
وفا آموز ہے رشکِ شہادت آج مقتل میں
ہزاروں ہوں گے بسمل گردِ بسمل دیکھتے جاؤ
دمِ آخر ہے، ٹھہرو کرب خود تسکین بنتا ہے
ہوئی جاتی ہے اب آسان مشکل دیکھتے جاؤ
تابِ دیدار لا نہیں سکتے
ان سے نظریں ملا نہیں سکتے
رازِ دل اب چھپا نہیں سکتے
اور زباں پر بھی لا نہیں سکتے
دل میں رہتی ہے اک خلش پیہم
جس کو ہم خود بتا نہیں سکتے
محبت میں اک ایسا بھی مقام آتا ہے مشکل کا
جہاں خود دل ہی بن جاتا ہے دشمن ہستیِ دل کا
نظر کیسی خیالوں سے ہے اونچا سلسلہ دل کا
پتہ خود پوچھتا ہے عشق مجھ سے میری منزل کا
ہر اک کروٹ پہ درد عشق کی تڑپا نہیں جاتا
کہاں تک ساتھ دے گی زندگی بے تابئ دل کا