Friday, 17 December 2021

ہمارا جذب صادق شوق کامل دیکھتے جاؤ

 ہمارا جذبِ صادق، شوقِ کامل دیکھتے جاؤ

یہیں کِھنچ کر چلی آئے گی منزل دیکھتے جاؤ

وفا آموز ہے رشکِ شہادت آج مقتل میں

ہزاروں ہوں گے بسمل گردِ بسمل دیکھتے جاؤ

دمِ آخر ہے، ٹھہرو کرب خود تسکین بنتا ہے

ہوئی جاتی ہے اب آسان مشکل دیکھتے جاؤ

جن آنکھوں سے ابھی تصویرِ راحت تم نے دیکھی ہے

انہیں آنکھوں سے خونِ حسرتِ دل دیکھتے جاؤ

دلم شد خون خوں شد اشک اشک از دیدہ بیروں شد

محبت کا ثمر، الفت کا حاصل دیکھتے جاؤ

تمہیں دشمن سمجھ کر بھی تمہیں پر جان دیتا ہوں

مِری ہمت، مِری جرأت، مِرا دل دیکھتے جاؤ

کوئی بد ظن نہ ہو اور خاتمہ با لخیر ہو جائے

بہ اندازِ تغافل سُوئے بسمل دیکھتے جاؤ

نہ گم کر دے کہیں وارفتگی اے قافلہ والو

مجھے ہر گام پر منزل بمنزل دیکھتے جاؤ

انہیں بے چین کر دیں گی فلک کو بھی جلا دیں گی

منیر آہوں کا اپنی زعمِ باطل دیکھتے جاؤ


منیر بھوپالی

No comments:

Post a Comment