Showing posts with label فارغ بخاری. Show all posts
Showing posts with label فارغ بخاری. Show all posts

Monday, 4 April 2022

دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں

 دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں

کتنے ہی زخموں کے شہر بساتے ہیں

کرب کی ہاہا کار لیے جسموں میں ہم

جنگل جنگل صحرا صحرا جاتے ہیں

دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں

دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں

Sunday, 3 April 2022

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے

 یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے

جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے

دیکھ یوں وقت کی دہلیز سے ٹکرا کے نہ گِر

راستے بند نہیں سوچنے والوں کے لیے

⛪آؤ، تعمیر کریں اپنی وفا کا معبد

ہم نہ مسجد کے لیے ہیں نہ شوالوں کے لیے

Tuesday, 1 March 2022

یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہو گا

 یہی ہے دورِ غمِ عاشقی تو کیا ہو گا؟

اسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہو گا

ابھی تو ہم نفسوں کو ہے وہمِ چارہ گری

ہوئی نہ درد میں پھر بھی کمی تو کیا ہو گا

یہ تیرگی تو بہر حال چھٹ ہی جائے گی

نہ راس آئی ہمیں روشنی تو کیا ہو گا

Thursday, 10 February 2022

دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں

 دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں

چبھ گیا کانٹا دل حسرت زدہ کے پاؤں میں

کم نہیں ہیں جب کہ شہروں میں بھی کچھ ویرانیاں

کس توقع پر کوئی جائے گا اب صحراؤں میں

کچی کلیاں پکی فصلیں سر چھپائیں گی کہاں

آگ شہروں کی لپک کر آ رہی ہے گاؤں میں

Wednesday, 29 September 2021

حواس لوٹ لیے شورش تمنا نے

 حواس لوٹ لیے شورشِ تمنا نے

ہری رُتوں کے لیے بن گئے ہیں دیوانے

بدلتے دیر نہیں لگتی اب حقیقت کو

جو کل کی باتیں ہیں وہ آج کے ہیں افسانے

ہے اب تو قطعِ تعلق کی ایک ہی صورت

خدا کرے تُو ہمیں دیکھ کر نہ پہچانے

Thursday, 3 December 2020

دیکھا تجھے تو آنکھوں نے ایواں سجا لئے

 دیکھا تجھے تو آنکھوں نے ایواں سجا لیے

جیسے تمام کھوئے ہوئے خواب پا لیے

جتنے تھے تیرے مہکے ہوئے آنچلوں کے رنگ

سب تتلیوں نے اور دھنک نے اڑا لیے

ایسے گھٹی فضاؤں میں کیسے جئیں گے وہ

کچھ قافلے جو آئے ہیں تازہ ہوا لیے

Wednesday, 2 December 2020

ہمیں سلیقہ نہ آیا جہاں میں جینے کا

 ہمیں سلیقہ نہ آیا جہاں میں جینے کا

کبھی کیا نہ کوئی کام بھی قرینے کا

تمہارے ساتھ ہی اس کو بھی ڈوب جانا ہے

یہ جانتا ہے مسافر تِرے سفینے کا

کچھ اس کا ساتھ نبھانا محال تھا یوں بھی

ہمارا اپنا تھا انداز ایک جینے کا

Thursday, 8 October 2020

میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں

 میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں

کتنے بے خواب دریچوں سے گزر آیا ہوں

مجھ کو احساس ہے حالات کی مجبوری کا

بے وفا کہہ کے تجھے آپ بھی شرمایا ہوں

مجھ کو مت دیکھ مرے ذوق سماعت کو تو دیکھ

کہ تِرے جسم کی ہر تان پہ لہرایا ہوں

Monday, 13 July 2020

ایک تصویر سے البم کو سجا رکھا ہے

تیری خاطر یہ فسوں ہم نے جگا رکھا ہے
ورنہ "آرائش" افکار میں کیا رکھا ہے
ہے تِرا "عکس" ہی آئینۂ دل کی زینت
ایک تصویر سے البم کو "سجا" رکھا ہے
برگ صد چاک کا "پردہ" ہے شگفتہ گل سے
قہقہوں سے کئی زخموں کو چھپا رکھا ہے

کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتے

کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتے
آنکھ میں رنگ تماشا نہیں رہنے دیتے
چہچہاتے ہوئے پنچھی کو اڑا دیتے ہیں
کسی سر میں کوئی سودا نہیں رہنے دیتے
روشنی" کا کوئی "پرچم" جو اٹھا کر نکلے"
اس طرحدار کو زندہ نہیں رہنے دیتے

دیکھ کر روپ کے سمندر کو

دیکھ کر اس "حسیں" پیکر کو
نشہ" سا آ گیا "سمندر" کو"
"ڈولتی، "ڈگمگاتی" سی "ناؤ
پی گئی آ کے سارے سمندر کو
خشک پیڑوں میں جان پڑنے لگی
دیکھ کر "روپ" کے سمندر کو

Monday, 6 November 2017

چاندنی نے رات کا موسم جواں جیسے کیا

چاندنی نے رات کا موسم جواں جیسے کیا 
ہم نے بھی چہرہ فروزاں شیشۂ مے سے کیا 
پاسِ خودداری تو ہے لیکن وفا دشمن نہیں 
تم  نے ہم پر ترکِ الفت کا گماں کیسے کیا 
ہم گناہوں کی شریعت سے ہوئے جب آشنا 
جسم نے جو فیصلہ جیسے دیا، ویسے کیا 

دیکھے کوئی جو چاک گریباں کے پار بھی

دیکھے کوئی جو چاک گریباں کے پار بھی 
آئینۂ خزاں میں ہے عکس بہار بھی 
اب ہر نفس ہے بھیگی صداؤں کی اک فصیل 
موجِ ہوس تھی گردشِ لیل و نہار بھی 
کیا شورشِ جنوں ہے، ذرا کم نہیں ہوا 
قربت کے باوجود تِرا انتظار بھی 

کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاں

کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاں 
کون آ کر ناپتا احساس کی پہنائیاں 
اب کسی موسم کی بے رحمی کا کوئی غم نہیں 
ہم نے آنکھوں میں سجائی ہیں تِری انگڑائیاں 
آپ کیا آئے بہاروں کے دریچے کھل گئے 
خوشبوؤں میں بس گئیں ترسی ہوئی تنہائیاں 

Friday, 28 October 2016

ہم کہ جو ایک آدم کی اولاد ہیں

ایک آدمؑ کی اولاد

ہم کہ جو ایک آدمؑ کی اولاد ہیں
ایک دھرتی پہ، ایک آسماں کے تلے، سانس لیتے ہیں جو
بے لباسی کے ملبوس میں آنکھ کھلتی ہے سب کی
اور دو گز زمیں میں، اسی جامۂ اصلی میں لوٹ جاتے ہیں سب
دھوپ، بارش، ہوا، روشنی کی سبھی نعمتیں
سب پہ ارزاں ہیں یکساں

دشمن خود اپنے ہی در و دیوار ہو گئے

دشمن خود اپنے ہی در و دیوار ہو گئے
ہم تم سے پیار کر کے گنہ گار ہو گئے
پھیلے تو سب جہاں کو ملی ہم سے روشنی 
سمٹے تو تیرا سایۂ دیوار ہو گئے
اک سازِ بے صدا کی طرح ہم خموش تھے
گویا ہوئے تو شعلۂ اظہار ہو گئے

حسین نوع بشر کی ہے آبرو تجھ سے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام

حسینؓ نوعِ بشر کی ہے آبرو تجھ سے
حدیثِ حرمتِ انساں ہے سرخرو تجھ سے
ملایا خاک میں تُو نے ستمگروں کا غرور
یزیدیت کے ارادے ہوئے لہو تجھ سے
بہت بلند ہے تیری جراحتوں کا مقام
صداقتوں کے چمن میں ہے رنگ و بُو تجھ سے

Thursday, 19 November 2015

میں شعلہ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تک

میں شعلۂ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تک
وسعت مِرِی دیکھو تو ہے دیوارِ، ابد تک
ماحول میں سب گھولتے ہیں اپنی سیاہی
رخ ایک ہی تصویر کے ہیں نیک سے بد تک
کچھ فاصلے ایسے ہیں جو طے ہو نہیں سکتے
جو لوگ کہ بھٹکے ہیں، وہ بھٹکیں کے ابد تک

کفر کا رنگ جھلکتا ہے نہ اسلام کا رنگ

کفر کا رنگ جھلکتا ہے نہ اسلام کا رنگ
کچھ عجب ہے میرے افکار کے اصنام کا رنگ
چند افراد یہاں رنگوں کے سوداگر ہیں
کتنے چہرے ہیں کہ جن پر ہے فقط نام کا رنگ
منجمد غم کی فصیلوں میں گھِرے ہیں ہم لوگ
دل کے آئینے میں ہے حسرتِ ناکام کا رنگ

Monday, 16 November 2015

جبیں کا چاند بنوں آنکھ کا ستارا بنوں

جبیں کا چاند بنوں آنکھ کا ستارا بنوں
کسی جمالِ شفق تاب کا سہارا بنوں
محبتوں کی شکستوں کا اک خرابہ ہوں
خدارا! مجھ کو گراؤ کہ میں دوبارا بنوں
یہ بھیگی بھیگی ہواؤں کی سرد سرد مہک
جو دل کی آگ میں اترے تو کچھ گوارا بنوں