دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں
کتنے ہی زخموں کے شہر بساتے ہیں
کرب کی ہاہا کار لیے جسموں میں ہم
جنگل جنگل صحرا صحرا جاتے ہیں
دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں
دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں
دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں
کتنے ہی زخموں کے شہر بساتے ہیں
کرب کی ہاہا کار لیے جسموں میں ہم
جنگل جنگل صحرا صحرا جاتے ہیں
دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں
دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں
یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے
جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے
دیکھ یوں وقت کی دہلیز سے ٹکرا کے نہ گِر
راستے بند نہیں سوچنے والوں کے لیے
⛪آؤ، تعمیر کریں اپنی وفا کا معبد
ہم نہ مسجد کے لیے ہیں نہ شوالوں کے لیے
یہی ہے دورِ غمِ عاشقی تو کیا ہو گا؟
اسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہو گا
ابھی تو ہم نفسوں کو ہے وہمِ چارہ گری
ہوئی نہ درد میں پھر بھی کمی تو کیا ہو گا
یہ تیرگی تو بہر حال چھٹ ہی جائے گی
نہ راس آئی ہمیں روشنی تو کیا ہو گا
دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں
چبھ گیا کانٹا دل حسرت زدہ کے پاؤں میں
کم نہیں ہیں جب کہ شہروں میں بھی کچھ ویرانیاں
کس توقع پر کوئی جائے گا اب صحراؤں میں
کچی کلیاں پکی فصلیں سر چھپائیں گی کہاں
آگ شہروں کی لپک کر آ رہی ہے گاؤں میں
حواس لوٹ لیے شورشِ تمنا نے
ہری رُتوں کے لیے بن گئے ہیں دیوانے
بدلتے دیر نہیں لگتی اب حقیقت کو
جو کل کی باتیں ہیں وہ آج کے ہیں افسانے
ہے اب تو قطعِ تعلق کی ایک ہی صورت
خدا کرے تُو ہمیں دیکھ کر نہ پہچانے
دیکھا تجھے تو آنکھوں نے ایواں سجا لیے
جیسے تمام کھوئے ہوئے خواب پا لیے
جتنے تھے تیرے مہکے ہوئے آنچلوں کے رنگ
سب تتلیوں نے اور دھنک نے اڑا لیے
ایسے گھٹی فضاؤں میں کیسے جئیں گے وہ
کچھ قافلے جو آئے ہیں تازہ ہوا لیے
ہمیں سلیقہ نہ آیا جہاں میں جینے کا
کبھی کیا نہ کوئی کام بھی قرینے کا
تمہارے ساتھ ہی اس کو بھی ڈوب جانا ہے
یہ جانتا ہے مسافر تِرے سفینے کا
کچھ اس کا ساتھ نبھانا محال تھا یوں بھی
ہمارا اپنا تھا انداز ایک جینے کا
میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں
کتنے بے خواب دریچوں سے گزر آیا ہوں
مجھ کو احساس ہے حالات کی مجبوری کا
بے وفا کہہ کے تجھے آپ بھی شرمایا ہوں
مجھ کو مت دیکھ مرے ذوق سماعت کو تو دیکھ
کہ تِرے جسم کی ہر تان پہ لہرایا ہوں