Showing posts with label کاظم علی. Show all posts
Showing posts with label کاظم علی. Show all posts

Monday, 4 July 2022

نہ رکھنا خاص تم ہم کو بھلے ہی عام رکھ لینا

 نہ رکھنا خاص تم ہم کو، بھلے ہی عام رکھ لینا

مگر محفل میں تم اپنی، ہمارا نام رکھ لینا

تمہارے نام سے پہلے ہمارا نام آئے تو

ہمارے نام کو بے شک برائے نام رکھ لینا

گوارا گر نہ ہو تم کو ہمیں احباب میں رکھنا

تمہیں یہ بھی اجازت ہے، ہمیں گمنام رکھ لینا

Tuesday, 22 March 2022

محبت میں کیا رکھا ہے محبت چھوڑ دیتے ہیں

 محبت چھوڑ دیتے ہیں


بڑے معصوم ساتھی نے

بڑے معصوم لہجے میں

یہ آج مجھ سے پوچھا ہے

بچھڑنا کیسا ہوتا ہے؟

جدائی کس کو کہتے ہیں؟

Saturday, 18 December 2021

تیرا غم بھی ہے مسلسل وحشتیں بھی طاری ہیں

 تیرا غم بھی ہے مسلسل، وحشتیں بھی طاری ہیں

اشک یوں تو تھم چکے ہیں، پلکیں اب بھی بھاری ہیں

جن کو بچپن سے ہی میں نے جیت جانا سیکھا تھا

تیری خاطر میں نے اکثر، ایسی چالیں ہاری ہیں

اس سے بڑھ کر فُرقتوں میں، کچھ نہ مجھ سے بن پڑا

جان تم کو دان کر دی،۔ تم پہ سانسیں واری ہیں

Saturday, 4 December 2021

کیوں ترے دل میں مستقل واس نہیں ملا ہمیں

 کیوں تِرے دل میں مستقل واس نہیں مِلا ہمیں

چاہتوں کا صِلہ بھی کچھ خاص نہیں ملا ہمیں

زندگی بس وہی تھی جو سنگ تِرے گزر گئی

جب سے گئے ہو چین کا سانس نہیں ملا ہمیں

کوئی نہیں ہے روبرو تیری کمی ہے چار سُو

جب بھی تجھے پکارا تُو پاس نہیں ملا ہمیں

Thursday, 2 December 2021

آدھا پونا ہی مل گیا ہوتا

 آدھا پونا ہی مل گیا ہوتا

دل کا کونا ہی مل گیا ہوتا

باخدا پایا ہی نہیں ان کو

پا کے کھونا ہی مل گیا ہوتا

کھل کے ہنسنا تو مل نہیں پایا

کھل کے رونا ہی مل گیا ہوتا

Saturday, 27 November 2021

ہر ساتھ گزری رات کو ہلکا لیا گیا

 ہر ساتھ گزری رات کو ہلکا لیا گیا

سارے معاملات کو ہلکا لیا گیا

نا آشنا نہ تھے مِرے حالات سے مگر

پھر بھی مِری بساط کو ہلکا لیا گیا

کچھ سوچ کر ہی آیا تھا دہلیز پر تِری

محفل میں جس کی بات کو ہلکا لیا گیا

Friday, 26 November 2021

کسی کی محبت میں مسمار ہونا

 کسی کی محبت میں مسمار ہونا

بڑا پُر خطر ہے یہاں پیار ہونا

کہیں دھڑکنیں بند کر دے نہ میری

کہیں جاں نہ لے لے جگر تار ہونا

سزا پائی ہے بے گناہی کی میں نے

سو واجب ہے اب تو گنہگار ہونا

Thursday, 25 November 2021

بات کیا ہے اپنا ہی خوں جلاتے رہتے ہو

 بات کیا ہے اپنا ہی خوں جلاتے رہتے ہو

کیا کسی کی یاد میں، تلملاتے رہتے ہو

تم کو کس کی جستجو کھینچ کر لے جاتی ہے

آج کل ویرانوں میں آتے جاتے رہتے ہو

کون ہے جس کا غم تم کو کھائے جاتا ہے

کون ہے وہ جس کا ماتم مناتے رہتے ہو

Wednesday, 28 April 2021

ملتا نہیں جہان سے میرا مزاج اور ہے

 ملتا نہیں جہان سے میرا مزاج اور ہے

تیرا اجالا اور ہے، میرا سراج اور ہے

مانا تِرے دیار میں ملتی ہے ہر دوا مگر

میرے طبیب مان جا، میرا علاج اور ہے

مجھ کو خبر ہے چارہ گر میرا سفر ہے مختصر

یعنی مِرے نصیب میں، تھوڑا اناج اور ہے