نہ رکھنا خاص تم ہم کو، بھلے ہی عام رکھ لینا
مگر محفل میں تم اپنی، ہمارا نام رکھ لینا
تمہارے نام سے پہلے ہمارا نام آئے تو
ہمارے نام کو بے شک برائے نام رکھ لینا
گوارا گر نہ ہو تم کو ہمیں احباب میں رکھنا
تمہیں یہ بھی اجازت ہے، ہمیں گمنام رکھ لینا
نہ رکھنا خاص تم ہم کو، بھلے ہی عام رکھ لینا
مگر محفل میں تم اپنی، ہمارا نام رکھ لینا
تمہارے نام سے پہلے ہمارا نام آئے تو
ہمارے نام کو بے شک برائے نام رکھ لینا
گوارا گر نہ ہو تم کو ہمیں احباب میں رکھنا
تمہیں یہ بھی اجازت ہے، ہمیں گمنام رکھ لینا
محبت چھوڑ دیتے ہیں
بڑے معصوم ساتھی نے
بڑے معصوم لہجے میں
یہ آج مجھ سے پوچھا ہے
بچھڑنا کیسا ہوتا ہے؟
جدائی کس کو کہتے ہیں؟
تیرا غم بھی ہے مسلسل، وحشتیں بھی طاری ہیں
اشک یوں تو تھم چکے ہیں، پلکیں اب بھی بھاری ہیں
جن کو بچپن سے ہی میں نے جیت جانا سیکھا تھا
تیری خاطر میں نے اکثر، ایسی چالیں ہاری ہیں
اس سے بڑھ کر فُرقتوں میں، کچھ نہ مجھ سے بن پڑا
جان تم کو دان کر دی،۔ تم پہ سانسیں واری ہیں
کیوں تِرے دل میں مستقل واس نہیں مِلا ہمیں
چاہتوں کا صِلہ بھی کچھ خاص نہیں ملا ہمیں
زندگی بس وہی تھی جو سنگ تِرے گزر گئی
جب سے گئے ہو چین کا سانس نہیں ملا ہمیں
کوئی نہیں ہے روبرو تیری کمی ہے چار سُو
جب بھی تجھے پکارا تُو پاس نہیں ملا ہمیں
آدھا پونا ہی مل گیا ہوتا
دل کا کونا ہی مل گیا ہوتا
باخدا پایا ہی نہیں ان کو
پا کے کھونا ہی مل گیا ہوتا
کھل کے ہنسنا تو مل نہیں پایا
کھل کے رونا ہی مل گیا ہوتا
ہر ساتھ گزری رات کو ہلکا لیا گیا
سارے معاملات کو ہلکا لیا گیا
نا آشنا نہ تھے مِرے حالات سے مگر
پھر بھی مِری بساط کو ہلکا لیا گیا
کچھ سوچ کر ہی آیا تھا دہلیز پر تِری
محفل میں جس کی بات کو ہلکا لیا گیا
کسی کی محبت میں مسمار ہونا
بڑا پُر خطر ہے یہاں پیار ہونا
کہیں دھڑکنیں بند کر دے نہ میری
کہیں جاں نہ لے لے جگر تار ہونا
سزا پائی ہے بے گناہی کی میں نے
سو واجب ہے اب تو گنہگار ہونا
بات کیا ہے اپنا ہی خوں جلاتے رہتے ہو
کیا کسی کی یاد میں، تلملاتے رہتے ہو
تم کو کس کی جستجو کھینچ کر لے جاتی ہے
آج کل ویرانوں میں آتے جاتے رہتے ہو
کون ہے جس کا غم تم کو کھائے جاتا ہے
کون ہے وہ جس کا ماتم مناتے رہتے ہو
ملتا نہیں جہان سے میرا مزاج اور ہے
تیرا اجالا اور ہے، میرا سراج اور ہے
مانا تِرے دیار میں ملتی ہے ہر دوا مگر
میرے طبیب مان جا، میرا علاج اور ہے
مجھ کو خبر ہے چارہ گر میرا سفر ہے مختصر
یعنی مِرے نصیب میں، تھوڑا اناج اور ہے