اللہ رے خود فریبی جب غم کی رات آئی
ہم یہ پکار اٹھے؛ لو صبح 🌞 مسکرائی
ضبطِ فغاں کی ہم کو تاکید کرنے والو
کانٹوں کی سیج پر ہے کب کس کو نیند آئی
سچ ہے کہ غمزدوں کو ہے غمزدوں سے نسبت
جب دل سے درد اٹھا تو آنکھ بھی بھر آئی
اللہ رے خود فریبی جب غم کی رات آئی
ہم یہ پکار اٹھے؛ لو صبح 🌞 مسکرائی
ضبطِ فغاں کی ہم کو تاکید کرنے والو
کانٹوں کی سیج پر ہے کب کس کو نیند آئی
سچ ہے کہ غمزدوں کو ہے غمزدوں سے نسبت
جب دل سے درد اٹھا تو آنکھ بھی بھر آئی
ہاں خوش ہوں کہ اس بزم میں غمخوار بہت ہیں
غمخوار بھی ایسے جو پُر اسرار بہت ہیں
چُپ رہنے کی عادت ہو تو کیا کچھ نہیں ممکن
اظہار صداقت کے خریدار بہت ہیں
اس شہر عنایات کی توصیف کہاں تک
سائے ہیں بہت کم، در و دیوار بہت ہیں
فریب دے نہ کہیں عزم مستقل میرا
ہجوم یاس سے گھبرا نہ جائے دل میرا
یہ کس مقام پہ پہنچا دیا محبت نے
کہ میرے بس میں نہیں ہے خود آج دل میرا
مبارک عیش کا ماحول خوش نصیبوں کو
بہت ہے میرے لیے درد مستقل میرا
فطرتِ عشق کسی رنگ میں شامل نہ ہوئی
یہ صدا وہ ہے جو پابند سلاسل نہ ہوئی
ہم نے کیا کیا نہ کیا دل کی تسلی کے لیے
اور تسلی ہے کہ خوابوں میں بھی حاصل نہ ہوئی
کوششیں لاکھ ہوئیں دل کی فضا دل سے ملے
یہ زمیں آج تک اس رسم کے قابل نہ ہوئی