Showing posts with label حامد الہ آبادی. Show all posts
Showing posts with label حامد الہ آبادی. Show all posts

Wednesday, 20 August 2025

اللہ رے خود فریبی جب غم کی رات آئی

 اللہ رے خود فریبی جب غم کی رات آئی

ہم یہ پکار اٹھے؛ لو صبح 🌞 مسکرائی

ضبطِ فغاں کی ہم کو تاکید کرنے والو

کانٹوں کی سیج پر ہے کب کس کو نیند آئی

سچ ہے کہ غمزدوں کو ہے غمزدوں سے نسبت

جب دل سے درد اٹھا تو آنکھ بھی بھر آئی

Thursday, 6 October 2022

ہاں خوش ہوں کہ اس بزم میں غمخوار بہت ہیں

ہاں خوش ہوں کہ اس بزم میں غمخوار بہت ہیں

غمخوار بھی ایسے جو پُر اسرار بہت ہیں

چُپ رہنے کی عادت ہو تو کیا کچھ نہیں ممکن

اظہار صداقت کے خریدار بہت ہیں

اس شہر عنایات کی توصیف کہاں تک

سائے ہیں بہت کم، در و دیوار بہت ہیں

Friday, 26 February 2021

فریب دے نہ کہیں عزم مستقل میرا

فریب دے نہ کہیں عزم مستقل میرا

ہجوم یاس سے گھبرا نہ جائے دل میرا

یہ کس مقام پہ پہنچا دیا محبت نے

کہ میرے بس میں نہیں ہے خود آج دل میرا

مبارک عیش کا ماحول خوش نصیبوں کو

بہت ہے میرے لیے درد مستقل میرا

Wednesday, 2 December 2020

فطرت عشق کسی رنگ میں شامل نہ ہوئی

فطرتِ عشق کسی رنگ میں شامل نہ ہوئی

یہ صدا وہ ہے جو پابند سلاسل نہ ہوئی

ہم نے کیا کیا نہ کیا دل کی تسلی کے لیے

اور تسلی ہے کہ خوابوں میں بھی حاصل نہ ہوئی

کوششیں لاکھ ہوئیں دل کی فضا دل سے ملے

یہ زمیں آج تک اس رسم کے قابل نہ ہوئی