ہاں خوش ہوں کہ اس بزم میں غمخوار بہت ہیں
غمخوار بھی ایسے جو پُر اسرار بہت ہیں
چُپ رہنے کی عادت ہو تو کیا کچھ نہیں ممکن
اظہار صداقت کے خریدار بہت ہیں
اس شہر عنایات کی توصیف کہاں تک
سائے ہیں بہت کم، در و دیوار بہت ہیں
ہنس کر کے گُزر جائیے کانٹے ہوں کہ پتھر
کیوں کہیے کہ راہیں یہ دلآزار بہت ہیں
ملتی ہے یہاں بھیک گدائے رہِ شب کو
کیوں کر نہ ملے صاحبِ ایثار بہت ہیں
حامد الہ آبادی
No comments:
Post a Comment