Showing posts with label ثمر جاذب. Show all posts
Showing posts with label ثمر جاذب. Show all posts

Sunday, 7 January 2024

ابھی زہرا کے بیٹوں کا بشر کو دان باقی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ابھی زہراؑ کے بیٹوں کا بشر کو دان باقی ہے

سلامت نوکِ نیزہ ہے، ابھی قرآن باقی ہے

ضمیر اپنے جو منصب سے گِرا ہے چودہ صدیوں سے

یزیدی سوچ رکھتا ہے، ابھی شیطان باقی ہے

جو تم نے نُورِ احمدؐ پر چلائی تیغ تھی ظالم

اے مُنکر! جنگ کربل کا ابھی میزان باقی ہے

Monday, 11 December 2023

یہ بار شرم و حیا کا اتار کر خوش ہیں

 یہ بارِ شرم و حیا کا اُتار کر خُوش ہیں

یہ لوگ دِین کو ایسے سنوار کر خوش ہیں

یہ نفس بیچنے آئے ہیں زر کی منڈی میں

ضمیر راہِ تمنّا میں مار کر خوش ہیں

ہمیں خبر ہے یہ دُنیا فریب کاری ہے

ہم ایسی راہوں سے خُود کو گُزار کر خوش ہیں

Thursday, 7 December 2023

عروج ہو یا زوال رکھنا تم اپنی ماں کا خیال رکھنا

 ماں

اگر کبھی تُم اُداس راتوں میں خیمہ زن ہو

یا اوس پڑتی مسافتوں میں

محسوس تم کو کبھی تھکن ہو

اپنے اندر کی وحشتوں میں

تیرا سہما ہوا بدن ہو

تو ایک ہستی جو ہے زمیں پر

Saturday, 23 September 2023

درد پہلوئے شکستہ میں نمو ہوتا ہوا

 درد پہلوئے شکستہ میں نمو ہوتا ہوا

ایک لہجے کی مسافت کا لہو ہوتا ہوا

اک حقیقت مِرے آگے ہے نگوں ہوتی ہوئی

اک زمانہ میرے پیچھے ہے عدو ہوتا ہوا

ایک آنسو تھا ندامت کی فصیلوں میں گِھرا

وہ چھلک اٹھا ہے دامن میں سبُو ہوتا ہوا