Showing posts with label جاوید جدون. Show all posts
Showing posts with label جاوید جدون. Show all posts

Tuesday, 16 June 2026

دلگیر ہیں بس اس لیے دلشاد نہیں ہم

 دلگیر ہیں، بس اس لیے دلشاد نہیں ہم

کہنے کو تو آزاد ہیں، آزاد نہیں ہم

اب کون سِکھائے ہمیں تہذیب و تمدن

اک قوم ہیں جنگل میں تو آباد نہیں ہم

برتر نہیں کوئی بھی فقط حسب و نسب سے

سوچو ذرا اک باپ کی اولاد نہیں ہم؟

Wednesday, 18 September 2024

ہے رہنما ہر ایک جو فرمان آپ کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے رہنما ہر ایک جو فرمان آپﷺ کا

امت پہ آپ کی ہے یہ احسان آپﷺ کا

باندھے ہوئے تھے پیٹ پہ پتھر تو خود مگر

بھوکا گیا نہ کوئی بھی مہمان آپﷺ کا

ہے آپﷺ کا ہی تذکرہ سب کی زبان پر

کرتا ہے ذکر جا بجا قرآن آپﷺ کا

Monday, 16 October 2023

مرے جیون کا یوں واحد سہارا چھن گیا مجھ سے

 مِرے جیون کا یوں واحد سہارا چھن گیا مجھ سے

کہ جیسے ہاتھ میں تھاما غبارہ چھن گیا مجھ سے

نہیں آنکھوں کی بینائی کے جانے پر فغاں میری

گِلہ یہ ہے کہ سورج کا نظارہ چھن گیا مجھ سے

مجھے لگتا ہے دریا کی بھی سازش تھی ڈبونے میں

میں پہنچا جب کنارے پر، کنارہ چھن گیا مجھ سے

Friday, 6 January 2023

یوں جھکاتے ہی ترے در پہ جبیں کانپتی ہے

 یوں جھکاتے ہی تِرے در پہ جبیں کانپتی ہے

جیسے بھونچال میں کچھ پل کو زمیں کانپتی ہے

جب بھی ڈرتا ہوں مِرا جھوٹ نہ پکڑا جائے

ہائے، کم بخت! یہ آواز وہیں کانپتی ہے

اس نے دیکھا ہے معلم کی جو آنکھوں میں شرر

چھپ کے بیٹھی ہے وہ مکتب میں کہیں، کانپتی ہے

Wednesday, 23 February 2022

کہ جیسے ایک چنگاری جلائے راکھ ہونے تک

 کہ جیسے ایک چنگاری جلائے راکھ ہونے تک

نہیں جھکتی یوں ہی گردن ہماری خاک ہونے تک

ابھی ہوں اس قدر سادہ محبت کر نہیں سکتا

تُو میری سادگی پہ مر مِرے چالاک ہونے تک

نہ جانے رو پڑا وہ کیوں لہو میرا جو ٹپکا تو

ستم جس نے کیے مجھ پر جگر کے چاک ہونے تک

Monday, 14 February 2022

نہ ہے اجل کی صدا کہیں سے نہ وصل جاناں کی آس کوئی

 نہ ہے اجل کی صدا کہیں سے نہ وصلِ جاناں کی آس کوئی

زمانے بھر میں کہیں نہ ہو گا ہمارے جیسا اداس کوئی

میں ریگزاروں پہ چل کے آیا ہوئے نہیں لب یہ خشک میرے

ہوں مےکدے میں تو ایسا تشنہ بجھا نہ پایا یہ پیاس کوئی

علاج ممکن کچھ اس لیے بھی نہ ہوسکا ہے مریضِ غم کا

ملے ہیں مجھ کو طبیب سارے نہیں ملا غم شناس کوئی

Thursday, 10 February 2022

یہ تیرے حکم پر انکار کیسا

 یہ تیرے حکم پر انکار کیسا

قبیلے کا ہے تُو سردار کیسا

تجھے دیکھا تو دل کی برف پر بھی

دہک اٹھا ہے اک انگار کیسا

مجھے اپنی خبر کچھ بھی نہیں ہے

بتا مجھ کو ہوں میرے یار کیسا

Monday, 7 February 2022

زیادہ ہو گئی ہے یہ ذرا سی کم نہ ہو پائی

 زیادہ ہو گئی ہے یہ ذرا سی، کم نہ ہو پائی

لگائے قہقہے، لیکن اداسی کم نہ ہو پائی

امیرِ شہر کا تو بڑھ گیا ہے کام کپڑے کا

مگر اس شہر میں کیوں بے لباسی کم نہ ہو پائی

جہاں گرما گرم کی لت وہاں ٹھنڈے پڑے چولہے

جنہیں روٹی ملا کرتی ہے باسی، کم نہ ہو پائی

Sunday, 8 August 2021

فلک پر ہم پکارے جا رہے ہیں

 فلک پر ہم پکارے جا رہے ہیں

زمیں سے بس گزارے جا رہے ہیں

کہانی کار کو جلدی ہے شاید

سبھی کردار مارے جا رہے ہیں

گِرانے کے بہانے یہ ستارے

زمیں پر کیوں اتارے جا رہے ہیں

Tuesday, 3 August 2021

یعنی تشنہ کا مقدر بھی سنوارا جائے

 یعنی تشنہ کا مقدر بھی سنوارا جائے

کوئی دریا کسی صحرا سے گزارا جائے

ہو گماں اس پہ کسی رات کی سیدھائی کا

زلفِ پُر خم کو ذرا اور سدھارا جائے

کیوں بھلا چاند سے تشبیہہ تجھے دے کوئی

حسنِ نوخیز کو مدھم سا نکھارا جائے

سب جو کرتے ہیں اسی کام سے ڈر لگتا ہے

 سب جو کرتے ہیں اسی کام سے ڈر لگتا ہے

اے محبت! تِرے انجام سے ڈر لگتا ہے

مجھ پہ یہ جہدِ مسلسل ہے کچھ ایسے لازم

تھک بھی جاتا ہوں تو آرام سے ڈر لگتا ہے

مِری وحشت نے کہیں کا نہیں چھوڑا مجھ کو

اپنے گھر کے ہی در و بام سے ڈر لگتا ہے

Monday, 19 July 2021

دماغ خشک سے تنہائی کا جو ڈر نہیں جاتا

 دماغِ خشک سے تنہائی کا جو ڈر نہیں جاتا

اسی ڈر کی وجہ سے ہی میں اکثر گھر نہیں جاتا

وہ بولا؛ پاس رہنے کی تمہیں تب تک اجازت ہے

کہ جب تک پاس رہنے سے مِرا دل بھر نہیں جاتا

مِرے دل کے مکیں ہو تم، یہ اس نے جان کر بولا

کہ عملاً تو کبھی دل کے مکیں اندر نہیں جاتا

Sunday, 18 July 2021

میرے جو بنے بیٹھے ہیں اب یار کہیں کے

 میرے جو بنے بیٹھے ہیں اب یار کہیں کے 

اندر سے ہیں کچھ اور یہ مکار کہیں کے 

جب میں نے کہا؛ درد بڑھا جاتا ہے حد سے 

کہنے لگے؛ اب مر بھی جا بیمار کہیں کے

ہے تیری طلب کس کو یہاں مجھ سے زیادہ

دیکھوں تو ذرا میں بھی طلب گار کہیں کے

Friday, 13 November 2020

جتنا کمایا گھر کو بنانے پہ لگ گیا

 جتنا کمایا، گھر کو بنانے پہ لگ گیا

میں گھر بنا کے پھر سے کمانے پہ لگ گیا

بچوں نے میرے مجھ کو سکھا دی ہیں جدتیں

پیوند یوں نئے کا پرانے پہ لگ گیا

ویسے بھی سانس چل رہی تھی آخری مری

الزام یوں ہی آپ کے آنے پہ لگ گیا