دلگیر ہیں، بس اس لیے دلشاد نہیں ہم
کہنے کو تو آزاد ہیں، آزاد نہیں ہم
اب کون سِکھائے ہمیں تہذیب و تمدن
اک قوم ہیں جنگل میں تو آباد نہیں ہم
برتر نہیں کوئی بھی فقط حسب و نسب سے
سوچو ذرا اک باپ کی اولاد نہیں ہم؟
دلگیر ہیں، بس اس لیے دلشاد نہیں ہم
کہنے کو تو آزاد ہیں، آزاد نہیں ہم
اب کون سِکھائے ہمیں تہذیب و تمدن
اک قوم ہیں جنگل میں تو آباد نہیں ہم
برتر نہیں کوئی بھی فقط حسب و نسب سے
سوچو ذرا اک باپ کی اولاد نہیں ہم؟
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے رہنما ہر ایک جو فرمان آپﷺ کا
امت پہ آپ کی ہے یہ احسان آپﷺ کا
باندھے ہوئے تھے پیٹ پہ پتھر تو خود مگر
بھوکا گیا نہ کوئی بھی مہمان آپﷺ کا
ہے آپﷺ کا ہی تذکرہ سب کی زبان پر
کرتا ہے ذکر جا بجا قرآن آپﷺ کا
مِرے جیون کا یوں واحد سہارا چھن گیا مجھ سے
کہ جیسے ہاتھ میں تھاما غبارہ چھن گیا مجھ سے
نہیں آنکھوں کی بینائی کے جانے پر فغاں میری
گِلہ یہ ہے کہ سورج کا نظارہ چھن گیا مجھ سے
مجھے لگتا ہے دریا کی بھی سازش تھی ڈبونے میں
میں پہنچا جب کنارے پر، کنارہ چھن گیا مجھ سے
یوں جھکاتے ہی تِرے در پہ جبیں کانپتی ہے
جیسے بھونچال میں کچھ پل کو زمیں کانپتی ہے
جب بھی ڈرتا ہوں مِرا جھوٹ نہ پکڑا جائے
ہائے، کم بخت! یہ آواز وہیں کانپتی ہے
اس نے دیکھا ہے معلم کی جو آنکھوں میں شرر
چھپ کے بیٹھی ہے وہ مکتب میں کہیں، کانپتی ہے
کہ جیسے ایک چنگاری جلائے راکھ ہونے تک
نہیں جھکتی یوں ہی گردن ہماری خاک ہونے تک
ابھی ہوں اس قدر سادہ محبت کر نہیں سکتا
تُو میری سادگی پہ مر مِرے چالاک ہونے تک
نہ جانے رو پڑا وہ کیوں لہو میرا جو ٹپکا تو
ستم جس نے کیے مجھ پر جگر کے چاک ہونے تک
نہ ہے اجل کی صدا کہیں سے نہ وصلِ جاناں کی آس کوئی
زمانے بھر میں کہیں نہ ہو گا ہمارے جیسا اداس کوئی
میں ریگزاروں پہ چل کے آیا ہوئے نہیں لب یہ خشک میرے
ہوں مےکدے میں تو ایسا تشنہ بجھا نہ پایا یہ پیاس کوئی
علاج ممکن کچھ اس لیے بھی نہ ہوسکا ہے مریضِ غم کا
ملے ہیں مجھ کو طبیب سارے نہیں ملا غم شناس کوئی
یہ تیرے حکم پر انکار کیسا
قبیلے کا ہے تُو سردار کیسا
تجھے دیکھا تو دل کی برف پر بھی
دہک اٹھا ہے اک انگار کیسا
مجھے اپنی خبر کچھ بھی نہیں ہے
بتا مجھ کو ہوں میرے یار کیسا
زیادہ ہو گئی ہے یہ ذرا سی، کم نہ ہو پائی
لگائے قہقہے، لیکن اداسی کم نہ ہو پائی
امیرِ شہر کا تو بڑھ گیا ہے کام کپڑے کا
مگر اس شہر میں کیوں بے لباسی کم نہ ہو پائی
جہاں گرما گرم کی لت وہاں ٹھنڈے پڑے چولہے
جنہیں روٹی ملا کرتی ہے باسی، کم نہ ہو پائی
فلک پر ہم پکارے جا رہے ہیں
زمیں سے بس گزارے جا رہے ہیں
کہانی کار کو جلدی ہے شاید
سبھی کردار مارے جا رہے ہیں
گِرانے کے بہانے یہ ستارے
زمیں پر کیوں اتارے جا رہے ہیں
یعنی تشنہ کا مقدر بھی سنوارا جائے
کوئی دریا کسی صحرا سے گزارا جائے
ہو گماں اس پہ کسی رات کی سیدھائی کا
زلفِ پُر خم کو ذرا اور سدھارا جائے
کیوں بھلا چاند سے تشبیہہ تجھے دے کوئی
حسنِ نوخیز کو مدھم سا نکھارا جائے
سب جو کرتے ہیں اسی کام سے ڈر لگتا ہے
اے محبت! تِرے انجام سے ڈر لگتا ہے
مجھ پہ یہ جہدِ مسلسل ہے کچھ ایسے لازم
تھک بھی جاتا ہوں تو آرام سے ڈر لگتا ہے
مِری وحشت نے کہیں کا نہیں چھوڑا مجھ کو
اپنے گھر کے ہی در و بام سے ڈر لگتا ہے
دماغِ خشک سے تنہائی کا جو ڈر نہیں جاتا
اسی ڈر کی وجہ سے ہی میں اکثر گھر نہیں جاتا
وہ بولا؛ پاس رہنے کی تمہیں تب تک اجازت ہے
کہ جب تک پاس رہنے سے مِرا دل بھر نہیں جاتا
مِرے دل کے مکیں ہو تم، یہ اس نے جان کر بولا
کہ عملاً تو کبھی دل کے مکیں اندر نہیں جاتا
میرے جو بنے بیٹھے ہیں اب یار کہیں کے
اندر سے ہیں کچھ اور یہ مکار کہیں کے
جب میں نے کہا؛ درد بڑھا جاتا ہے حد سے
کہنے لگے؛ اب مر بھی جا بیمار کہیں کے
ہے تیری طلب کس کو یہاں مجھ سے زیادہ
دیکھوں تو ذرا میں بھی طلب گار کہیں کے
جتنا کمایا، گھر کو بنانے پہ لگ گیا
میں گھر بنا کے پھر سے کمانے پہ لگ گیا
بچوں نے میرے مجھ کو سکھا دی ہیں جدتیں
پیوند یوں نئے کا پرانے پہ لگ گیا
ویسے بھی سانس چل رہی تھی آخری مری
الزام یوں ہی آپ کے آنے پہ لگ گیا