دماغِ خشک سے تنہائی کا جو ڈر نہیں جاتا
اسی ڈر کی وجہ سے ہی میں اکثر گھر نہیں جاتا
وہ بولا؛ پاس رہنے کی تمہیں تب تک اجازت ہے
کہ جب تک پاس رہنے سے مِرا دل بھر نہیں جاتا
مِرے دل کے مکیں ہو تم، یہ اس نے جان کر بولا
کہ عملاً تو کبھی دل کے مکیں اندر نہیں جاتا
نہ رکھے یاد جو کوئی تو ہوتا درد ہے، لیکن
کسی کے بھول جانے پر بھی کوئی مر نہیں جاتا
جاوید جدون
No comments:
Post a Comment