Showing posts with label عابد بنوی. Show all posts
Showing posts with label عابد بنوی. Show all posts

Wednesday, 13 July 2022

میں جانتا ہوں عدو سے بھی پیار واجب ہے

 میں جانتا ہوں عدو سے بھی پیار واجب ہے

ملن کے وقت بھی کچھ انتظار واجب ہے

ہمیشہ جیت کے رہنا کوئی کمال نہیں

کبھی کبھی تو حقیقت میں ہار واجب ہے

اے حسن سادہ یہ نکتہ مجھے تو سمجھا دے

کہ ذوقِ چشم میں کتنا وقار واجب ہے

Tuesday, 29 March 2022

آج ہی بس نہیں اکثر بھی تو ہو سکتا ہے

 آج ہی بس نہیں، اکثر بھی تو ہو سکتا ہے 

قد مِرا، تیرے برابر بھی تو ہو سکتا ہے 

ضبط کی قید میں وہ شخص پڑا ہے کب سے

وہ کبھی قید سے باہر بھی تو ہو سکتا ہے 

دستِ قاضی میں بظاہر جو قلم ہے یارو 

تیر، تلوار یا خنجر بھی تو ہو سکتا ہے 

Saturday, 19 March 2022

برسوں میں اک مقام سے آگے نہیں بڑھے

 برسوں میں اک مقام سے آگے نہیں بڑھے

گویا کہ در و بام سے آگے نہیں بڑھے

ان کو انا عزیز تھی، ہم کو وفا عزیز

ہم اپنے اپنے کام سے آگے نہیں بڑھے

وہ بھی ملے تھے آج ہمیں بے رخی کے ساتھ

ہم بھی دعا، سلام سے آگے نہیں بڑھے

Thursday, 17 March 2022

نجانے کیوں دلوں کے سلسلے پیہم نہیں ملتے

 نجانے کیوں دلوں کے سلسلے پیہم نہیں ملتے

جہاں پر ہم میسر ہوں وہاں پر تم نہیں ملتے

یقیناً فاصلوں میں اک طرح سے جوش قربت ہے

کنارے ساتھ چلتے ہیں مگر باہم نہیں ملتے

ترستا ہے کوئی اک پل کی راحت کے لیے برسوں

کسی کو چاہ کر بھی زندگی میں غم نہیں ملتے

Wednesday, 21 July 2021

دیے کی گود میں جگنو کبھی نہیں پلتے

 دیے کی گود میں جگنو کبھی نہیں پلتے

بڑے مزاج کے لوگوں سے ہم نہیں ملتے

ہوا اداس ہو یارو تو ایسے عالم میں

شجر تو دور ہے، پتے تلک نہیں ہلتے

کسی کی چپ پہ کبھی تبصرہ نہیں کرنا

کہ راز دل کے سرِ انجمن نہیں کھلتے 

Wednesday, 7 April 2021

جو خود ناشاد رہ کر دوسروں کو شاد رکھتے ہیں

 جو خود ناشاد رہ کر دوسروں کو شاد رکھتے ہیں

حقیقت میں وہی ویرانیاں آباد رکھتے ہیں

کسی کے ظرف نے یہ فلسفہ ہم کو سکھایا ہے

جسے پابند رکھنا ہو اسے آزاد رکھتے ہیں

محبت کے بنا میں قیدِ تنہائی میں رہتا ہوں

وہ اپنی قید میں لے کر مجھے آزاد رکھتے ہیں

Thursday, 8 October 2020

اک شوق آرزو ہے جو پورا نہیں ہوتا

 اک شوق آرزو ہے جو پورا نہیں ہوتا

اک یار کا وعدہ ہے جو سچا نہیں ہوتا

کہتا ہے کون غم نہیں رکھتا کوئی وجود

کہتا ہے کون درد کا چہرہ نہیں ہوتا

مجھ سے مِرے جنون پہ سب لوگ خفا ہیں

ورنہ تمام شہر میں کیا کیا نہیں ہوتا

Wednesday, 7 October 2020

پھر نئے درد کو تم میرے مقابل نہ کرو

 پھر نئے درد کو تم میرے مقابل نہ کرو

میری آنکھوں میں کسی خواب کو داخل نہ کرو

حد سے بڑھ آؤ مگر جان وفا یہ سن لو

مجھ کو اپنا لو، مِری ذات کو حاصل نہ کرو

تن، بدن اپنا میں شیشے میں تو ڈالوں لیکن

میرے ہمزاد! مجھے قتل پہ مائل نہ کرو

آج جو میرے گریباں پہ ہے برسا پانی

 آج جو میرے گریباں پہ ہے برسا پانی

کس قدر سرد ہے آنکھوں کا یہ جلتا پانی

کس قدر شوق سے ہونٹوں پہ ہنسی آئی ہے

آج اک مان سے آنکھوں میں ہے اترا پانی

لوگ بے کار میں اب خون بہا دیتے ہیں

اب تو پیاسوں پہ بھروسہ نہیں کرتا پانی

Tuesday, 6 October 2020

یہ تم سے کس نے کہا جابجا تلاش کرو

 یہ تم سے کس نے کہا جابجا تلاش کرو

کسی غریب کے دل میں خدا تلاش کرو

ہوا میں کس لیے کچی اڑان بھرتے ہو

زمیں پہ اپنے لیے راستہ تلاش کرو

یہ ہم نے مانا حقیقت شناس ہو لیکن

جو ہو سکے تو کوئی آئینہ تلاش کرو

وہ شخص دیدہ گریہ کو دھو نہیں پاتا

 وہ شخص دیدۂ گریہ کو دھو نہیں پاتا

جو چاہ کر بھی کبھی دل سے رو نہیں پاتا

ارے میں تجھ کو مسرت کی حد بتاؤں کیا

میں تو اداس بھی جی بھر کے ہو نہیں پاتا

مدارِ عشق کی سرحد سے دل نکل کر بھی

طلب کی آخری منزل کو تو نہیں پاتا

کیوں نہ اس طور سے یہ عمر گزاری جائے

کیوں نہ اس طور سے یہ عمر گزاری جائے

جیسے جیتی ہوئی بازی کوئی ہاری جائے

ہے عبث میرے مقدر سے الجھنا تیرا

یہ تِری زلف نہیں ہے کہ سنواری جائے

شام دلہن کی طرح ہوتی ہے رخصت، لیکن

ہر سحر اب بھی مِرے گھر سے کنواری جائے

ہم کو برسوں کی ریاضت کی کمائی دے دو

 ہم کو برسوں کی ریاضت کی کمائی دے دو

یا ہمیں اپنے تعلق سے رہائی دے دو

تم نے اک روز رعایت میں لیا تھا ہم سے

بس ہمیں آج وہ احساس خدائی دے دو

شاخِ گل ہاتھ میں میرے جو تھما دی تم نے

کب کہا، ہاتھ میں تم دست حنائی دے دو

Monday, 5 October 2020

جب سے وہ مجھ سے ہے بچھڑا مرے دروازے پر

 جب سے وہ مجھ سے ہے بچھڑا مِرے دروازے پر

پھر کوئی آ کے نہ ٹھہرا مِرے دروازے پر

جب کبھی برف ہوئیں گھر کی مِری دیواریں

کوئی سورج نہیں نکلا مرے دروازے پر

آج پھر کس نے مجھے اپنا جنوں سونپ دیا

رکھ گیا کون یہ صحرا مرے دروازے پر

بس محبت میں یہی ایک خسارہ ہے مجھے

 بس محبت میں یہی ایک خسارا ہے مجھے

تُو نے غیروں کی طرح دل سے اتارا ہے مجھے

کرب، جس لفظ کا مفہوم تھا پوچھا تُو نے

تُو نے اس لفظ سے ہر روز گزارا ہے مجھے

کچھ بھی ہو تیرے حوالے سے ہے شہرت میری

اک اسی بات کا اے دوست سہارا ہے مجھے

Sunday, 4 October 2020

فلک جھکا ہے یا تارے زمین پر آئے

 فلک جھکا ہے یا تارے زمین پر آئے

زمانے بعد کے ہم پر جو پیشتر آئے

عیاں تھے اتنے مناظر شباہتوں کے جو

شکستہ آئینے میں بھی ہمیں نظر آئے

مِری وفا کا زیاں کیا مِرے لیے کم تھا

تِری جفا کے بھی الزام میرے سر آئے

میری آنکھوں میں خواب رہنے دو

 میری آنکھوں میں خواب رہنے دو

مستقل یہ عذاب رہنے دو

جی بہلتا نہیں حقیقت سے

میرے آگے سراب رہنے دو

اس کے چہرے سے اشک نہ پونچھو

چاند کو زیرِآب رہنے دو