میں جانتا ہوں عدو سے بھی پیار واجب ہے
ملن کے وقت بھی کچھ انتظار واجب ہے
ہمیشہ جیت کے رہنا کوئی کمال نہیں
کبھی کبھی تو حقیقت میں ہار واجب ہے
اے حسن سادہ یہ نکتہ مجھے تو سمجھا دے
کہ ذوقِ چشم میں کتنا وقار واجب ہے
میں جانتا ہوں عدو سے بھی پیار واجب ہے
ملن کے وقت بھی کچھ انتظار واجب ہے
ہمیشہ جیت کے رہنا کوئی کمال نہیں
کبھی کبھی تو حقیقت میں ہار واجب ہے
اے حسن سادہ یہ نکتہ مجھے تو سمجھا دے
کہ ذوقِ چشم میں کتنا وقار واجب ہے
آج ہی بس نہیں، اکثر بھی تو ہو سکتا ہے
قد مِرا، تیرے برابر بھی تو ہو سکتا ہے
ضبط کی قید میں وہ شخص پڑا ہے کب سے
وہ کبھی قید سے باہر بھی تو ہو سکتا ہے
دستِ قاضی میں بظاہر جو قلم ہے یارو
تیر، تلوار یا خنجر بھی تو ہو سکتا ہے
برسوں میں اک مقام سے آگے نہیں بڑھے
گویا کہ در و بام سے آگے نہیں بڑھے
ان کو انا عزیز تھی، ہم کو وفا عزیز
ہم اپنے اپنے کام سے آگے نہیں بڑھے
وہ بھی ملے تھے آج ہمیں بے رخی کے ساتھ
ہم بھی دعا، سلام سے آگے نہیں بڑھے
نجانے کیوں دلوں کے سلسلے پیہم نہیں ملتے
جہاں پر ہم میسر ہوں وہاں پر تم نہیں ملتے
یقیناً فاصلوں میں اک طرح سے جوش قربت ہے
کنارے ساتھ چلتے ہیں مگر باہم نہیں ملتے
ترستا ہے کوئی اک پل کی راحت کے لیے برسوں
کسی کو چاہ کر بھی زندگی میں غم نہیں ملتے
دیے کی گود میں جگنو کبھی نہیں پلتے
بڑے مزاج کے لوگوں سے ہم نہیں ملتے
ہوا اداس ہو یارو تو ایسے عالم میں
شجر تو دور ہے، پتے تلک نہیں ہلتے
کسی کی چپ پہ کبھی تبصرہ نہیں کرنا
کہ راز دل کے سرِ انجمن نہیں کھلتے
جو خود ناشاد رہ کر دوسروں کو شاد رکھتے ہیں
حقیقت میں وہی ویرانیاں آباد رکھتے ہیں
کسی کے ظرف نے یہ فلسفہ ہم کو سکھایا ہے
جسے پابند رکھنا ہو اسے آزاد رکھتے ہیں
محبت کے بنا میں قیدِ تنہائی میں رہتا ہوں
وہ اپنی قید میں لے کر مجھے آزاد رکھتے ہیں
اک شوق آرزو ہے جو پورا نہیں ہوتا
اک یار کا وعدہ ہے جو سچا نہیں ہوتا
کہتا ہے کون غم نہیں رکھتا کوئی وجود
کہتا ہے کون درد کا چہرہ نہیں ہوتا
مجھ سے مِرے جنون پہ سب لوگ خفا ہیں
ورنہ تمام شہر میں کیا کیا نہیں ہوتا
پھر نئے درد کو تم میرے مقابل نہ کرو
میری آنکھوں میں کسی خواب کو داخل نہ کرو
حد سے بڑھ آؤ مگر جان وفا یہ سن لو
مجھ کو اپنا لو، مِری ذات کو حاصل نہ کرو
تن، بدن اپنا میں شیشے میں تو ڈالوں لیکن
میرے ہمزاد! مجھے قتل پہ مائل نہ کرو
آج جو میرے گریباں پہ ہے برسا پانی
کس قدر سرد ہے آنکھوں کا یہ جلتا پانی
کس قدر شوق سے ہونٹوں پہ ہنسی آئی ہے
آج اک مان سے آنکھوں میں ہے اترا پانی
لوگ بے کار میں اب خون بہا دیتے ہیں
اب تو پیاسوں پہ بھروسہ نہیں کرتا پانی
یہ تم سے کس نے کہا جابجا تلاش کرو
کسی غریب کے دل میں خدا تلاش کرو
ہوا میں کس لیے کچی اڑان بھرتے ہو
زمیں پہ اپنے لیے راستہ تلاش کرو
یہ ہم نے مانا حقیقت شناس ہو لیکن
جو ہو سکے تو کوئی آئینہ تلاش کرو
وہ شخص دیدۂ گریہ کو دھو نہیں پاتا
جو چاہ کر بھی کبھی دل سے رو نہیں پاتا
ارے میں تجھ کو مسرت کی حد بتاؤں کیا
میں تو اداس بھی جی بھر کے ہو نہیں پاتا
مدارِ عشق کی سرحد سے دل نکل کر بھی
طلب کی آخری منزل کو تو نہیں پاتا
کیوں نہ اس طور سے یہ عمر گزاری جائے
جیسے جیتی ہوئی بازی کوئی ہاری جائے
ہے عبث میرے مقدر سے الجھنا تیرا
یہ تِری زلف نہیں ہے کہ سنواری جائے
شام دلہن کی طرح ہوتی ہے رخصت، لیکن
ہر سحر اب بھی مِرے گھر سے کنواری جائے
ہم کو برسوں کی ریاضت کی کمائی دے دو
یا ہمیں اپنے تعلق سے رہائی دے دو
تم نے اک روز رعایت میں لیا تھا ہم سے
بس ہمیں آج وہ احساس خدائی دے دو
شاخِ گل ہاتھ میں میرے جو تھما دی تم نے
کب کہا، ہاتھ میں تم دست حنائی دے دو
جب سے وہ مجھ سے ہے بچھڑا مِرے دروازے پر
پھر کوئی آ کے نہ ٹھہرا مِرے دروازے پر
جب کبھی برف ہوئیں گھر کی مِری دیواریں
کوئی سورج نہیں نکلا مرے دروازے پر
آج پھر کس نے مجھے اپنا جنوں سونپ دیا
رکھ گیا کون یہ صحرا مرے دروازے پر
بس محبت میں یہی ایک خسارا ہے مجھے
تُو نے غیروں کی طرح دل سے اتارا ہے مجھے
کرب، جس لفظ کا مفہوم تھا پوچھا تُو نے
تُو نے اس لفظ سے ہر روز گزارا ہے مجھے
کچھ بھی ہو تیرے حوالے سے ہے شہرت میری
اک اسی بات کا اے دوست سہارا ہے مجھے
فلک جھکا ہے یا تارے زمین پر آئے
زمانے بعد کے ہم پر جو پیشتر آئے
عیاں تھے اتنے مناظر شباہتوں کے جو
شکستہ آئینے میں بھی ہمیں نظر آئے
مِری وفا کا زیاں کیا مِرے لیے کم تھا
تِری جفا کے بھی الزام میرے سر آئے
میری آنکھوں میں خواب رہنے دو
مستقل یہ عذاب رہنے دو
جی بہلتا نہیں حقیقت سے
میرے آگے سراب رہنے دو
اس کے چہرے سے اشک نہ پونچھو
چاند کو زیرِآب رہنے دو