Tuesday, 6 October 2020

یہ تم سے کس نے کہا جابجا تلاش کرو

 یہ تم سے کس نے کہا جابجا تلاش کرو

کسی غریب کے دل میں خدا تلاش کرو

ہوا میں کس لیے کچی اڑان بھرتے ہو

زمیں پہ اپنے لیے راستہ تلاش کرو

یہ ہم نے مانا حقیقت شناس ہو لیکن

جو ہو سکے تو کوئی آئینہ تلاش کرو

جو میرے گھر کے چراغوں میں روشنی بھر دے

فضائے دہر میں ایسی ہوا تلاش کرو

فقیہ شہر جو فتووں پہ سود لیتا ہے

کوئی تو اس کے لیے بھی سزا تلاش کرو

مِری انا کو مرا جرم جاننے والو 

مِرے گریز میں میری وفا تلاش کرو

نہیں یہ عشق اگر کوئی معجزہ عابد

تو جاؤ تم بھی کہیں معجزہ تلاش کرو


عابد بنوی

1 comment: