وہ رات ابھی تک باقی ہے
جس رات جرنیلوں کا جرگہ بیٹھا
جس رات ’جمہوریت اور عوام‘ پر
کار و کاری‘ کا الزام عاید ہوا’
جس رات اس دیس کی محبت مقتول بنی
جس رات جبر کا پیاسا خنجر
اس سرزمین کے سینے میں پیوست ہوا
وہ رات ابھی تک باقی ہے
جس رات جرنیلوں کا جرگہ بیٹھا
جس رات ’جمہوریت اور عوام‘ پر
کار و کاری‘ کا الزام عاید ہوا’
جس رات اس دیس کی محبت مقتول بنی
جس رات جبر کا پیاسا خنجر
اس سرزمین کے سینے میں پیوست ہوا
عالمی زوال کا علاج
ترقی کے اس طوفان میں
عمارتیں اونچی اور انسان
چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں
ترقی اس طوفان میں نام بڑے
ویرانی کا پتہ پوچھ رہے ہیں
ترقی کے اس طوفان میں
چاند رات
اے آسمان کے چاند
تم کتنے پتھر دل ہو
اس دھرتے کے چاند کو
ایک بادل کی قمیص دے دو
ستاروں سے سجی ہوئی
کرم کر
تم مجھ سے رامائن کا کیوں پوچھ رہے ہو؟
رامائن کی کتھا کا کل یگ میں کیا ارتھ؟
تم مجھ سے گیتا کے بارے میں پوچھو
وہ گیتا جس کا گیان مدفون ہے مندروں میں
تم مندر جاتے ہو، گھنٹی بجاتے ہو
کنوارہ دل
جب وہ پہلی بار مجھ سے ملی
تب اس کی عمر پندرہ برس تھی
پھر ہم بچھڑ گئے
دس برس بعد جب وہ میرے سامنے آئی
تب مجھ سے لپٹ کر کہنے لگی
عورت؛ عشق اور لطیف
‘‘اس نے پوچھا ’’شاہ لطیف کون تھا؟
‘‘میں نے کہا ’’دنیا کا پہلا فیمینسٹ شاعر
‘‘اس نے پوچھا ’’کس طرح؟
میں نے کہا؛ اس طرح کہ
وہ جانتا تھا کہ عورت کیا چاہتی ہے؟
سازش کس نے گھڑی
بم کس نے پھوڑا
میں نہیں جانتا
میں صرف اتنا جانتا ہوں
اس رات حکمران
سیاستدانوں سے ہمبستر تھے
ایک اداس عورت کے آٹھ ایس ایم ایس
(١)
میرے محبوب
میرے بند ہونٹوں میں ایک بات ہے
کاش! میں تمہیں چُوم سکتی
اور ہونٹوں کو ہونٹ وہ بات بتا سکتے
جس کا اظہار الفاظ سے ممکن نہیں
ارون دھتی کی آنکھیں اور کرفیو کا قیدی کشمیر
راہول گاندھی
انہوں نے تمہیں ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا
اور تم، اچھے بچے کی طرح واپس لوٹ آئے
سرینگر میں داخل نہ ہونے کا پوائنٹ اسکور کرنا
ایک الگ بات ہے