وہ میری فکر کی لذت سے آشنا ہو گا
دریچہ ذہن کا جس روز بھی کُھلا ہو گا
اداس شب ہے ستاروں کی آنکھ بھی نم ہے
کوئی ضرور اکیلے میں رو رہا ہو گا
اسے تو اپنی ہی اک فکر کھائے جاتی ہے
ہمارے بارے وہ کیسے سوچتا ہو گا
وہ میری فکر کی لذت سے آشنا ہو گا
دریچہ ذہن کا جس روز بھی کُھلا ہو گا
اداس شب ہے ستاروں کی آنکھ بھی نم ہے
کوئی ضرور اکیلے میں رو رہا ہو گا
اسے تو اپنی ہی اک فکر کھائے جاتی ہے
ہمارے بارے وہ کیسے سوچتا ہو گا
سورج بس حجاب اندھیرا ہے سامنے
یہ کون سی صدی کا سویرا ہے سامنے
معتوب مسئلوں کا اندھیروں ہے سامنے
محبوب ساعتوں کا اُجالا ہے سامنے
بے نام خواہشوں کی سُلگتی ہوئی چتا
معصوم حسرتوں کا جنازہ ہے سامنے
شہروں کی فصیلوں پہ جب نام مِرا لکھنا
تفصیلِ سِتم دینا، پھر اپنا پتا لکھنا
یہ ظرفِ محبت ہے، معراج شرافت کی
جو قطرۂ خُوں نکلے قاتل کو دُعا لکھنا
اس شہر کے لوگوں کا انداز نہیں مِلتا
مٹی میں اثر کیا ہے کیسی ہے ہوا لکھنا
ایسے ہنگاموں میں اب لُطفِ سحر دیکھے گا کون
رات پاگل ہو گئی رقصِ شرر دیکھے گا کون
زرد موسم کا وہی آسیب ہے چاروں طرف
میں نقیبِ سبز موسم ہوں مگر دیکھے گا کون
ہو رہی ہے ہر طرف برسات سنگ و خشت کی
لاکھ نازک ہو مزاجِ شیشہ گر دیکھے گا کون