Showing posts with label اختر عظیم آبادی. Show all posts
Showing posts with label اختر عظیم آبادی. Show all posts

Wednesday, 5 August 2026

دریچہ ذہن کا جس روز بھی کھلا ہو گا

 وہ میری فکر کی لذت سے آشنا ہو گا

دریچہ ذہن کا جس روز بھی کُھلا ہو گا

اداس شب ہے ستاروں کی آنکھ بھی نم ہے

کوئی ضرور اکیلے میں رو رہا ہو گا

اسے تو اپنی ہی اک فکر کھائے جاتی ہے

ہمارے بارے وہ کیسے سوچتا ہو گا

Sunday, 28 April 2024

یہ کون سی صدی کا سویرا ہے سامنے

سورج بس حجاب اندھیرا ہے سامنے

یہ کون سی صدی کا سویرا ہے سامنے

معتوب مسئلوں کا اندھیروں ہے سامنے

محبوب ساعتوں کا اُجالا ہے سامنے

بے نام خواہشوں کی سُلگتی ہوئی چتا

معصوم حسرتوں کا جنازہ ہے سامنے

Thursday, 17 November 2022

شہروں کی فصیلوں پہ جب نام مرا لکھنا

شہروں کی فصیلوں پہ جب نام مِرا لکھنا

تفصیلِ سِتم دینا، پھر اپنا پتا لکھنا

یہ ظرفِ محبت ہے، معراج شرافت کی

جو قطرۂ خُوں نکلے قاتل کو دُعا لکھنا

اس شہر کے لوگوں کا انداز نہیں مِلتا

مٹی میں اثر کیا ہے کیسی ہے ہوا لکھنا

Saturday, 21 November 2020

ایسے ہنگاموں میں اب لطف سحر دیکھے گا کون

ایسے ہنگاموں میں اب لُطفِ سحر دیکھے گا کون

رات پاگل ہو گئی رقصِ شرر دیکھے گا کون

زرد موسم کا وہی آسیب ہے چاروں طرف

میں نقیبِ سبز موسم ہوں مگر دیکھے گا کون

ہو رہی ہے ہر طرف برسات سنگ و خشت کی

لاکھ نازک ہو مزاجِ شیشہ گر دیکھے گا کون