سورج بس حجاب اندھیرا ہے سامنے
یہ کون سی صدی کا سویرا ہے سامنے
معتوب مسئلوں کا اندھیروں ہے سامنے
محبوب ساعتوں کا اُجالا ہے سامنے
بے نام خواہشوں کی سُلگتی ہوئی چتا
معصوم حسرتوں کا جنازہ ہے سامنے
اک بار اپنے دل کے کھنڈر سے نکل کے دیکھ
پھیلا ہوا سکوں کا اُجالا ہے سامنے
اپنا ہی عکس دیکھ کے خُوش ہو رہے ہیں لوگ
نا فہمیوں کا آئینہ رکھا ہے سامنے
لفظوں پہ ہے گرفت نہ رنگوں پہ اختیار
اُمڈ ہوا خیال کا دریا ہے سامنے
اختر یہ کیا طلسم ہماری صدی کا ہے
سُورج ہے سر پہ اور دھندلکا ہے سامنے
اختر عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment