Sunday, 28 April 2024

یہ کون سی صدی کا سویرا ہے سامنے

سورج بس حجاب اندھیرا ہے سامنے

یہ کون سی صدی کا سویرا ہے سامنے

معتوب مسئلوں کا اندھیروں ہے سامنے

محبوب ساعتوں کا اُجالا ہے سامنے

بے نام خواہشوں کی سُلگتی ہوئی چتا

معصوم حسرتوں کا جنازہ ہے سامنے

اک بار اپنے دل کے کھنڈر سے نکل کے دیکھ

پھیلا ہوا سکوں کا اُجالا ہے سامنے

اپنا ہی عکس دیکھ کے خُوش ہو رہے ہیں لوگ

نا فہمیوں کا آئینہ رکھا ہے سامنے

لفظوں پہ ہے گرفت نہ رنگوں پہ اختیار

اُمڈ ہوا خیال کا دریا ہے سامنے

اختر یہ کیا طلسم ہماری صدی کا ہے

سُورج ہے سر پہ اور دھندلکا ہے سامنے

    

اختر عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment