نہ شاعروں سے، نہ مجھ کو یہ فکر و فن سے ملا
مجھے غزل کا تصور، ترے بدن سے ملا
نظر میں لا نہ سکے دلکشی ماہ و نجوم
یہ حوصلہ تو ہمیں تیرے بانکپن سے ملا
میں ڈھونڈتا رہا خود کو گلی گلی، لیکن
مجھے تو اپنا پتہ تیری انجمن سے ملا
نہ شاعروں سے، نہ مجھ کو یہ فکر و فن سے ملا
مجھے غزل کا تصور، ترے بدن سے ملا
نظر میں لا نہ سکے دلکشی ماہ و نجوم
یہ حوصلہ تو ہمیں تیرے بانکپن سے ملا
میں ڈھونڈتا رہا خود کو گلی گلی، لیکن
مجھے تو اپنا پتہ تیری انجمن سے ملا
داستاں عشق کی انجام تک آ پہنچی ہے
بات اب حسرت ناکام تک آ پہنچی ہے
جانے کیا حال ہو رِندان بلا نوش کا اب
مے کشی درد تہ جام تک آ پہنچی ہے
بات پھیلی ہے تِرے ظلم کی شہروں شہروں
داستاں تیری مرے نام تک آ پہنچی ہے
ظالم کی جفاؤں کا انداز نرالا ہے
پھر اس نے بلایا ہے کچھ دال میں کالا ہے
ہے سارا جہاں اس کا یہ فرق ہے مگر کیسا
ایک سمت اندھیرا ہے، اک سمت اُجالا ہے
للّٰه نہ تم آنا اب میرے خیالوں میں
میں نے دلِ مضطر کو مشکل سے سنبھالا ہے
گل بداماں ہر خوشی ہے، تیرے مل جانے کے بعد
زندگی اب زندگی ہے، تیرے مل جانے کے بعد
جل اٹھے ہیں ہر طرف، تیری محبت کے چراغ
روشنی ہی روشنی ہے، تیرے مل جانے کے بعد
تیرے قدموں پر جبینِ شوق نے پایا سکوں
سر بسجدہ بندگی ہے، تیرے مل جانے کے بعد
مانجھی تِری کشتی کے طلبگار بہت ہیں
کچھ لوگ ہیں اس پار تو اس پار بہت ہیں
جس شہر میں پتھر کی دکاں کھولی ہے تو نے
اس شہر میں شیشے کے خریدار بہت ہیں
اب تک نہ بنا پائے کوئی تاج محل اور
کہنے کو تو اس شہر میں معمار بہت ہیں