Showing posts with label عمر قریشی. Show all posts
Showing posts with label عمر قریشی. Show all posts

Tuesday, 4 July 2023

نہ شاعروں سے نہ مجھ کو یہ فکر و فن سے ملا

 نہ شاعروں سے، نہ مجھ کو یہ فکر و فن سے ملا

مجھے غزل کا تصور، ترے بدن سے ملا

نظر میں لا نہ سکے دلکشی ماہ و نجوم

یہ حوصلہ تو ہمیں تیرے بانکپن سے ملا

میں ڈھونڈتا رہا خود کو گلی گلی، لیکن

مجھے تو اپنا پتہ تیری انجمن سے ملا

Saturday, 17 June 2023

داستاں عشق کی انجام تک آ پہنچی ہے

 داستاں عشق کی انجام تک آ پہنچی ہے 

بات اب حسرت ناکام تک آ پہنچی ہے 

جانے کیا حال ہو رِندان بلا نوش کا اب 

مے کشی درد تہ جام تک آ پہنچی ہے 

بات پھیلی ہے تِرے ظلم کی شہروں شہروں 

داستاں تیری مرے نام تک آ پہنچی ہے 

Monday, 5 June 2023

ظالم کی جفاؤں کا انداز نرالا ہے

 ظالم کی جفاؤں کا انداز نرالا ہے

پھر اس نے بلایا ہے کچھ دال میں کالا ہے

ہے سارا جہاں اس کا یہ فرق ہے مگر کیسا

ایک سمت اندھیرا ہے، اک سمت اُجالا ہے

للّٰه نہ تم آنا اب میرے خیالوں میں

میں نے دلِ مضطر کو مشکل سے سنبھالا ہے

Sunday, 4 June 2023

گل بداماں ہر خوشی ہے تیرے مل جانے کے بعد

 گل بداماں ہر خوشی ہے، تیرے مل جانے کے بعد

زندگی اب زندگی ہے، تیرے مل جانے کے بعد

جل اٹھے ہیں ہر طرف، تیری محبت کے چراغ

روشنی ہی روشنی ہے، تیرے مل جانے کے بعد

تیرے قدموں پر جبینِ شوق نے پایا سکوں

سر بسجدہ بندگی ہے، تیرے مل جانے کے بعد

Sunday, 5 March 2023

مانجھی تری کشتی کے طلبگار بہت ہیں

 مانجھی تِری کشتی کے طلبگار بہت ہیں

کچھ لوگ ہیں اس پار تو اس پار بہت ہیں

جس شہر میں پتھر کی دکاں کھولی ہے تو نے

اس شہر میں شیشے کے خریدار بہت ہیں

اب تک نہ بنا پائے کوئی تاج محل اور

کہنے کو تو اس شہر میں معمار بہت ہیں