گل بداماں ہر خوشی ہے، تیرے مل جانے کے بعد
زندگی اب زندگی ہے، تیرے مل جانے کے بعد
جل اٹھے ہیں ہر طرف، تیری محبت کے چراغ
روشنی ہی روشنی ہے، تیرے مل جانے کے بعد
تیرے قدموں پر جبینِ شوق نے پایا سکوں
سر بسجدہ بندگی ہے، تیرے مل جانے کے بعد
اب کسی کا غم نہیں، دشمن زمانہ ہو تو کیا
دشمنی بھی دوستی ہے، تیرے مل جانے کے بعد
فرش پر ہونے لگا مجھ کو گماں اب عرش کا
بیخودی سی بیخودی ہے، تیرے مل جانے کے بعد
یا عمر! خود میں نہیں ہے، یا ہے معراجِ جنوں
جستجو اب بھی تِری ہے، تیرے مل جانے کے بعد
عمر قریشی
No comments:
Post a Comment