Showing posts with label فلک دہلوی. Show all posts
Showing posts with label فلک دہلوی. Show all posts

Tuesday, 23 November 2021

ساقیا یہ جو تجھ کو گھیرے ہیں

 ساقیا! یہ جو تجھ کو گھیرے ہیں

ان میں کچھ رِند کچھ لٹیرے ہیں

اپنی تہذیب کھا رہی ہے ہمیں

سانپ کے منہ میں خود سپیرے ہیں

جس نے بخشے ہیں پھول گلشن کو

اس نے کچھ خار بھی بکھیرے ہیں

Friday, 22 October 2021

نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی

 نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی

گھڑ لو کوئی کہانی ہمارے قصور کی

کیوں دل کی آگ لے نہ خبر دور دور کی

کوندی ہے ہر دماغ میں بجلی فتور کی

ہر ظلم پر کیا ہے زمانے سے احتجاج

کچھ بھی نہ بن پڑا تو مذمت ضرور کی

Tuesday, 19 October 2021

اشک غم وہ ہے جو دنیا کو دکھا بھی نہ سکوں

 اشکِ غم وہ ہے جو دنیا کو دکھا بھی نہ سکوں

اور گر جائے زمیں پر تو اٹھا بھی نہ سکوں

یہ مِرے غم کا فسانہ ہے، رہے گا لب پر

تیری روداد نہیں ہے کہ سنا بھی نہ سکوں

پرتوِ حسن ہوں اس واسطے محدود ہوں میں

حسن ہو جاؤں تو دنیا میں سما بھی نہ سکوں

Friday, 15 October 2021

تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا

 تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا

میرا وطن زمیں ہے مجھے آسماں سے کیا

ٹکڑے جگر کے ہوں کہ ٹپکتا ہو خونِ دل

عنواں جو تم نہیں تو تمہیں داستاں سے کیا

جینا جو جانتا ہو تڑپ کر تِرے بغیر

اس کو تِری گلی سے تِرے آستاں سے کیا

Monday, 30 November 2020

کوئے جاناں میں نہیں کوئی گزر کی صورت

 کوئے جاناں میں نہیں کوئی گزر کی صورت

دل اڑا پھرتا ہے ٹوٹے ہوئے پر کی صورت

ہم تو منزل کے طلبگار تھے, لیکن منزل

آگے بڑھتی ہی گئی راہگزر کی صورت

وہ رہیں سامنے میرے تو تسلی, ورنہ

دل بھی کمبخت بھٹکتا ہے نظر کی صورت