ساقیا! یہ جو تجھ کو گھیرے ہیں
ان میں کچھ رِند کچھ لٹیرے ہیں
اپنی تہذیب کھا رہی ہے ہمیں
سانپ کے منہ میں خود سپیرے ہیں
جس نے بخشے ہیں پھول گلشن کو
اس نے کچھ خار بھی بکھیرے ہیں
ساقیا! یہ جو تجھ کو گھیرے ہیں
ان میں کچھ رِند کچھ لٹیرے ہیں
اپنی تہذیب کھا رہی ہے ہمیں
سانپ کے منہ میں خود سپیرے ہیں
جس نے بخشے ہیں پھول گلشن کو
اس نے کچھ خار بھی بکھیرے ہیں
نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی
گھڑ لو کوئی کہانی ہمارے قصور کی
کیوں دل کی آگ لے نہ خبر دور دور کی
کوندی ہے ہر دماغ میں بجلی فتور کی
ہر ظلم پر کیا ہے زمانے سے احتجاج
کچھ بھی نہ بن پڑا تو مذمت ضرور کی
اشکِ غم وہ ہے جو دنیا کو دکھا بھی نہ سکوں
اور گر جائے زمیں پر تو اٹھا بھی نہ سکوں
یہ مِرے غم کا فسانہ ہے، رہے گا لب پر
تیری روداد نہیں ہے کہ سنا بھی نہ سکوں
پرتوِ حسن ہوں اس واسطے محدود ہوں میں
حسن ہو جاؤں تو دنیا میں سما بھی نہ سکوں
تاروں سے ماہتاب سے اور کہکشاں سے کیا
میرا وطن زمیں ہے مجھے آسماں سے کیا
ٹکڑے جگر کے ہوں کہ ٹپکتا ہو خونِ دل
عنواں جو تم نہیں تو تمہیں داستاں سے کیا
جینا جو جانتا ہو تڑپ کر تِرے بغیر
اس کو تِری گلی سے تِرے آستاں سے کیا
کوئے جاناں میں نہیں کوئی گزر کی صورت
دل اڑا پھرتا ہے ٹوٹے ہوئے پر کی صورت
ہم تو منزل کے طلبگار تھے, لیکن منزل
آگے بڑھتی ہی گئی راہگزر کی صورت
وہ رہیں سامنے میرے تو تسلی, ورنہ
دل بھی کمبخت بھٹکتا ہے نظر کی صورت