بنانے والے کو بننے والے کا غم پتا تھا تو کیوں بنایا
یہ بن کے اتنے ستم سہے گا وہ جانتا تھا تو کیوں بنایا
میں پوچھتا ہوں کہ کیا ضرورت تھی دین و دنیا کے فلسفے کی
میں سوچتا ہوں کہ سب کو جاں سے گزارنا تھا تو کیوں بنایا
ہزاروں رنگوں کی خواہشوں کے کروڑوں آنکھوں کو خواب دے کر
حقیقتوں کی اذیتوں سے گزارنا تھا تو کیوں بنایا