Showing posts with label راجز ودوان. Show all posts
Showing posts with label راجز ودوان. Show all posts

Thursday, 24 March 2022

بنانے والے کو بننے والے کا غم پتا تھا تو کیوں بنایا

 بنانے والے کو بننے والے کا غم پتا تھا تو کیوں بنایا

یہ بن کے اتنے ستم سہے گا وہ جانتا تھا تو کیوں بنایا

میں پوچھتا ہوں کہ کیا ضرورت تھی دین و دنیا کے فلسفے کی

میں سوچتا ہوں کہ سب کو جاں سے گزارنا تھا تو کیوں بنایا

ہزاروں رنگوں کی خواہشوں کے کروڑوں آنکھوں کو خواب دے کر

حقیقتوں کی اذیتوں سے گزارنا تھا تو کیوں بنایا

Sunday, 27 February 2022

عجب محبت کے سلسلے ہیں

 عجب محبت کے سلسلے ہیں

نہ مر رہے ہیں نہ جی رہے ہیں

اگر یہی زندگی ہے یا رب

تو ایسے جینے سے ہم بھلے ہیں

گزار آئے ہیں ایک دنیا

یہ درد کیا کوئی آج کے ہیں

Friday, 28 January 2022

جب تم نہیں تو تخت سلیماں کا کیا کریں

 جب تم نہیں تو تختِ سلیماں کا کیا کریں

ہم دولتِ دمشق و خراساں کا کیا کریں

ہوں لاکھ مہربان بہاریں گلاب پر

اندیشۂ فراقِ بہاراں کا کیا کریں

توبہ کا در بھی بند ہے اور میکدہ بھی بند

کوئی بتائے نفسِ پشیماں کا کیا کریں

Monday, 3 January 2022

رگوں میں خون علی ہے مگر غلام حسین

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

درگاہِ مظلومِ کربلا میں


رگوں میں خونِ علیؑ ہے مگر غلامِ حسینؑ

مجھے بتایا ہے عباسؑ نے مقامِ حسینؑ

میں سوچتا ہوں کہ کارِ خدا ہے ذکرِ رسولؐ

اور آسمان و زمیں زیرِ انتظامِ حسینؑ

اسی لیے تو خدا اس پہ زور دیتا ہے

نماز ہم کو سکھاتی ہے احترامِ حسینؑ

Sunday, 2 January 2022

چلا گیا ہے جو دور تم کو نہیں ملے گا

 چلا گیا ہے جو دُور تم کو نہیں ملے گا

رفاقتوں کا سرُور تم کو نہیں ملے گا

چراغ بن کر جلاؤ خود ہی وجود اپنا

کسی کے سورج سے نُور تم کو نہیں ملے گا.

سزا تو دے دو گے تم گواہی کی روشنی میں

مگر ہمارا قصور تم کو نہیں ملے گا

Friday, 18 June 2021

زہر کی بوتل نیند کی گولی پنکھا رسی سب کچھ ہے

 زہر کی بوتل، نیند کی گولی، پنکھا، رسی سب کچھ ہے

موت کا جذبہ، زیست سے نفرت اور اداسی سب کچھ ہے

اک تیرے دیدار کی خاطر، باقی ہے جان آنکھوں میں

ورنہ دل رکنا، دم گھٹنا، موت کی ہچکی سب کچھ ہے

میرے بعد زمیں والوں سے میرا خالق نپٹے گا

جس کے پاس، عقیم، جہنم، آگ اور مٹی سب کچھ ہے