Showing posts with label افضل ضیائی. Show all posts
Showing posts with label افضل ضیائی. Show all posts

Sunday, 11 August 2024

کاش جمہور اٹھے

 کاش جمہور اٹھے


کلف میں ڈوبے ہوئے

اکڑے ہوئے یہ  ملبوس

اور ان میں پھنسی، باہر کو نکلی توندیں

میری دھرتی کی معیشت کے یہی مدفن ہیں

کاش جمہور اٹھے

مار کے نیزے ایک انی

Monday, 22 July 2024

رعایا اپنی سے جو فورسز لڑاتا ہے

 رعایا اپنی سے جو فورسز لڑاتا ہے

وہ جان لے کہ ایسے ملک ٹوٹ جاتا ہے

تمہارا فیصلہ یہ ہے کہ حق نہیں دینا؟

یہ تم سے کون ایسے فیصلے کراتا ہے

آباء و جد کو گہرے پانیوں میں ڈبوا کر

یہ میرپور ہی تیرے قمقمے جلاتا ہے

Saturday, 20 July 2024

زندگی شاہ کی چوکھٹ پہ کیوں واری جائے

 زندگی شاہ کی چوکھٹ پہ کیوں واری جائے

تخت سے نعش کیوں نہ اب یہ اُتاری جائے

ظُلم کو ہم نے بہت دیر تلک جھیلا ہے

اب کہ لازم ہے کیا جان بھی ہاری جائے

قوم کو ظُلم سے جھٹکارا دلانا ہو گا

دیکھنا رائیگاں محنت نہ ہماری جائے