کاش جمہور اٹھے
کلف میں ڈوبے ہوئے
اکڑے ہوئے یہ ملبوس
اور ان میں پھنسی، باہر کو نکلی توندیں
میری دھرتی کی معیشت کے یہی مدفن ہیں
کاش جمہور اٹھے
مار کے نیزے ایک انی
کاش جمہور اٹھے
کلف میں ڈوبے ہوئے
اکڑے ہوئے یہ ملبوس
اور ان میں پھنسی، باہر کو نکلی توندیں
میری دھرتی کی معیشت کے یہی مدفن ہیں
کاش جمہور اٹھے
مار کے نیزے ایک انی
رعایا اپنی سے جو فورسز لڑاتا ہے
وہ جان لے کہ ایسے ملک ٹوٹ جاتا ہے
تمہارا فیصلہ یہ ہے کہ حق نہیں دینا؟
یہ تم سے کون ایسے فیصلے کراتا ہے
آباء و جد کو گہرے پانیوں میں ڈبوا کر
یہ میرپور ہی تیرے قمقمے جلاتا ہے
زندگی شاہ کی چوکھٹ پہ کیوں واری جائے
تخت سے نعش کیوں نہ اب یہ اُتاری جائے
ظُلم کو ہم نے بہت دیر تلک جھیلا ہے
اب کہ لازم ہے کیا جان بھی ہاری جائے
قوم کو ظُلم سے جھٹکارا دلانا ہو گا
دیکھنا رائیگاں محنت نہ ہماری جائے