عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کون کہتا ہے مجھے شان سکندر دے دے
میرے معبود! مجھے فقر ابو ذرؑ دے دے
عشق جو تُو نے اویس قرنیؑ کو بخشا
ہو جو ممکن تو مجھے اس سے فزوں تر دے دے
تاجور بھی میرے قدموں میں سعادت ڈھونڈیں
زینت سر کو جو نعلین پیمبرﷺ دے دے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کون کہتا ہے مجھے شان سکندر دے دے
میرے معبود! مجھے فقر ابو ذرؑ دے دے
عشق جو تُو نے اویس قرنیؑ کو بخشا
ہو جو ممکن تو مجھے اس سے فزوں تر دے دے
تاجور بھی میرے قدموں میں سعادت ڈھونڈیں
زینت سر کو جو نعلین پیمبرﷺ دے دے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حسرتِ دیدِ ارضِ نبیؐ رہ گئی
شاخِ نخلِ تمنّا ہری رہ گئی
دیکھ تو آئے نجد و حجاز و یمن
حسرتِ دِیدِ ارضِ نبیﷺ رہ گئی
اُمتِ مُسلمہ جس کو مل کر منائے
ایک میلاد ہی کی خوشی رہ گئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مکر اور خود نمائی کے اس دور میں
جب نہ معلوم ہو اجنبی کون ہے
از حدیثِ نبیﷺ لے کے نامِ علیؑ
جان لو کم نسب آدمی کون ہے
جو خدا کا مُحِب اور محبوب ہے
وہ جو کرار ہے غیر فرار ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نظروں سے آپ کیوں ہیں نہاں
آ بھی جائیے آ جائيے امام زمانؑ
دین خدا ہے دشمن دیں کے حصار میں
دلوائے جلد فتح ہمیں کارزار میں
دم گھٹ رہا ہے ایٹمی گرد و غبار میں
ہر لمحہ کٹ رہا ہے فقط انتظار میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کتنا میٹھا کتنا پیارا
نامِ محمدؐ نامِ علیؑ
آنکھوں کی ٹھنڈَک دل کا اُجالا
نامِ محمدؐ نامِ علیؑ
ہستی اپنی عشقِ محمدؐ
دولت اپنی حُب علیؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ شہیدوں کا لہو
ہے شہیدوں کا لہُو خاص عطائے باری
قوم اور فرد کو بھی دیتا ہے اک زیست نئی
ہے رواں جس کی رگوں میں ہے وہ قسمت کا دھنی
یہ شہیدوں کا لہو
یہ شہیدوں کا لہو پھول کھلا دے بن میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اقربا کٹ گئے جب شاہؑ كے باری باری
اور عدم چلنے کی اس شاہ نے کی تیاری
خیمے کا پردہ اُٹھا زینؑ العباء اک باری
دیکھ مقتل کی طرف کرنے لگے یوں زاری
خُلد كے کُوچ میں ہم کو نہیں بُلواتے ہو
قافلے والو! ہمیں چھوڑے چلے جاتے ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حال ہم سنائيں گے، جب امام آئيں گے
زخم دل دکھائيں گے، جب امام آئيں گے
محفل جمائيں گے، جب امام آئيں گے
بام و در سجائيں گے، جب امام آئيں گے
جشن ہم منائيں گے، جب امام آئيں گے
زخم ہیں ابھی تازہ مکہ اور مدینہ کے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ دین محمدﷺ کا تیرے نام سے زندہ ہے
اللہ کا بھی کلمہ تیرے نام سے زندہ ہے
پھیلی ہیں زمانے میں توحید کی تنویریں
گونجی ہیں تیرے دم سے کونین میں تکبیریں
حق تجھ سے ہے پائندہ تیرے نام سے زندہ ہے
تعبیرِ خلیلؑ ہے تُو اور فخر مسیحا کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زیست جس کی باندی ہے، وہ حُسینؑ میرا ہے
موت جس پر مرتی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے
جس کی سب خُدائی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے
کبریا بھی اُس کا ہے، انبیاء بھی اُس کے ہیں
غوثیہ بھی اُس کے ہیں، اولیاء بھی اُس کے ہیں
خلد ساری جس کی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کلمہ جس کا پڑھتے ہو
بغض ان سے رکھتے ہو
بھیک کے بھی طالب ہو
دم بھی اُن کا بھرتے ہو
ان کے دشمنوں سے تم راہ و رسم رکھتے ہو
دعوئ محبت ہے، دشمنی بھی کرتے ہو