Showing posts with label سبط جعفر. Show all posts
Showing posts with label سبط جعفر. Show all posts

Sunday, 25 August 2024

کون کہتا ہے مجھے شان سکندر دے دے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کون کہتا ہے مجھے شان سکندر دے دے

میرے معبود! مجھے فقر ابو ذرؑ دے دے

عشق جو تُو نے اویس قرنیؑ کو بخشا

ہو جو ممکن تو مجھے اس سے فزوں تر دے دے

تاجور بھی میرے قدموں میں سعادت ڈھونڈیں

زینت سر کو جو نعلین پیمبرﷺ دے دے

Tuesday, 13 August 2024

حسرت دید ارض نبی رہ گئی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حسرتِ دیدِ ارضِ نبیؐ رہ گئی

شاخِ نخلِ تمنّا ہری رہ گئی

دیکھ تو آئے نجد و حجاز و یمن

حسرتِ دِیدِ ارضِ نبیﷺ رہ گئی

اُمتِ مُسلمہ جس کو مل کر منائے

ایک میلاد ہی کی خوشی رہ گئی

Monday, 12 August 2024

پوچھتے پھر رہے ہیں علی کون ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مکر اور خود نمائی کے اس دور میں 

جب نہ معلوم ہو اجنبی کون ہے 

از حدیثِ نبیﷺ لے کے نامِ علیؑ

جان لو کم نسب آدمی کون ہے


جو خدا کا مُحِب اور محبوب ہے

وہ جو کرار ہے غیر فرار ہے

Monday, 22 July 2024

آ بھی جائیے آ جائيے امام زمان

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نظروں سے آپ کیوں ہیں نہاں

آ بھی جائیے آ جائيے امام زمانؑ


دین خدا ہے دشمن دیں کے حصار میں

دلوائے جلد فتح ہمیں کارزار میں

دم گھٹ رہا ہے ایٹمی گرد و غبار میں

ہر لمحہ کٹ رہا ہے فقط انتظار میں

Thursday, 18 July 2024

نام محمد نام علی کتنا میٹھا کتنا پیارا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کتنا میٹھا کتنا پیارا

نامِ محمدؐ نامِ علیؑ

آنکھوں کی ٹھنڈَک دل کا اُجالا 

نامِ محمدؐ نامِ علیؑ

ہستی اپنی عشقِ محمدؐ

دولت اپنی حُب علیؑ

Wednesday, 17 July 2024

ہے شہیدوں کا لہو خاص عطائے باری

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

یہ شہیدوں کا لہو


ہے شہیدوں کا لہُو خاص عطائے باری

قوم اور فرد کو بھی دیتا ہے اک زیست نئی

ہے رواں جس کی رگوں میں ہے وہ قسمت کا دھنی 

یہ شہیدوں کا لہو


یہ شہیدوں کا لہو پھول کھلا دے بن میں 

اقربا کٹ گئے جب شاہ كے باری باری

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اقربا کٹ گئے جب شاہؑ كے باری باری

اور عدم چلنے کی اس شاہ نے کی تیاری 

خیمے کا پردہ اُٹھا زینؑ العباء اک باری

دیکھ مقتل کی طرف کرنے لگے یوں زاری 

خُلد كے کُوچ میں ہم کو نہیں بُلواتے ہو 

قافلے والو! ہمیں چھوڑے چلے جاتے ہو 

حال ہم سنائيں گے جب امام آئيں گے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حال ہم سنائيں گے، جب امام آئيں گے

زخم دل دکھائيں گے، جب امام آئيں گے

محفل جمائيں گے، جب امام آئيں گے

بام و در سجائيں گے، جب امام آئيں گے

جشن ہم منائيں گے، جب امام آئيں گے


زخم ہیں ابھی تازہ مکہ اور مدینہ کے

Tuesday, 16 July 2024

یہ دین محمد کا تیرے نام سے زندہ ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہ دین محمدﷺ کا تیرے نام سے زندہ ہے

اللہ کا بھی کلمہ تیرے نام سے زندہ ہے


پھیلی ہیں زمانے میں توحید کی تنویریں

گونجی ہیں تیرے دم سے کونین میں تکبیریں

حق تجھ سے ہے پائندہ تیرے نام سے زندہ ہے


تعبیرِ خلیلؑ ہے تُو اور فخر مسیحا کا

Monday, 15 July 2024

زیست جس کی باندی ہے وہ حسین میرا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زیست جس کی باندی ہے، وہ حُسینؑ میرا ہے

موت جس پر مرتی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے

جس کی سب خُدائی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے


کبریا بھی اُس کا ہے، انبیاء بھی اُس کے ہیں

غوثیہ بھی اُس کے ہیں، اولیاء بھی اُس کے ہیں

خلد ساری جس کی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے

Monday, 24 May 2021

کلمہ جس کا پڑھتے ہو بغض ان سے رکھتے ہو

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 کلمہ جس کا پڑھتے ہو

بغض ان سے رکھتے ہو

بھیک کے بھی طالب ہو

دم بھی اُن کا بھرتے ہو

ان کے دشمنوں سے تم راہ و رسم رکھتے ہو

دعوئ محبت ہے، دشمنی بھی کرتے ہو