Showing posts with label ازہر ندیم. Show all posts
Showing posts with label ازہر ندیم. Show all posts

Sunday, 10 April 2022

اک آس کی تھوڑی قیمت پر

 اک آس کی تھوڑی قیمت پر

اک عہد کے تھوڑے حرفوں میں

یہ پھول یہ شجر یہ خواب سبھی

چاہو تو مفت بھی لے جاؤ

بس رنگوں کی آرائش سے

اور سبزے کی زیبائش سے

Thursday, 31 March 2022

لیکن تم ان سب سے خوبصورت ہو

 لیکن تم ان سب سے خوبصورت ہو


میں زیادہ سے زیادہ ایک تتلی کو سوچ سکتا ہوں

تمہارے رنگوں کو دیکھتے ہوئے

یا کسی چڑیا کو

تمہاری نزاکت کو تصور کرتے ہوئے

تمہاری سبک رو شرارتیں

Wednesday, 16 February 2022

بارش تم نے کیا اس کی آواز سنی ہے

 بارش تم نے کیا اس کی آواز سنی ہے؟


بارش تم نے کیا اس کی آواز سنی ہے

کومل نرم سی بوندوں جیسی

قطرہ قطرہ ایک لطافت جس کے اندر

موسم کی رنگینی جیسا اس کا لہجہ

کیا تم نے محسوس کیا ہے

Friday, 4 February 2022

وہ دن بھی تھے یہ دن بھی ہیں

 وہ دن بھی تھے


وہ دن بھی تھے

ہوا رنگوں کی خوشبو سے ہمارا نام لکھتی تھی

دعا آنگن میں آتی تھی تو ہر سُو روشنی سی پھیل جاتی تھی

بدن کے منطقے میں خواب کے موسم سدا شاداب رہتے تھے

گلابوں کی لطافت سوچ پر آ کر اترتی تو

Sunday, 30 May 2021

تلافی اب بھی ممکن ہے مداوا ہو بھی سکتا ہے

 اگر وہ شخص چاہے تو


تلافی اب بھی ممکن ہے

مداوا ہو بھی سکتا ہے

یہ موسم جو یہاں پر آن ٹھہرا ہے

اسے اذنِ وِداع دے کر

نئی رُت آبھی سکتی ہے

Friday, 28 May 2021

یہ آنکھیں اب بھلا کیسے تمہیں سوچیں

 یہ آنکھیں اب بھلا کیسے تمہیں سوچیں

تمہارے نقش پھیلے ہیں ہوا میں چار سُو دیکھو

تمہارے خواب کا موسم

بدن کی سرحدِ ادراک سے آگے کا قصہ ہے

کبھی دریا کے پانی پر تمہارا عکس بنتا ہے

کبھی کوئی دھنک ان آسمانوں پر تمہارا نام لکھتی ہے

Friday, 18 December 2020

اگر ہم خوبصورت تھے

 اگر ہم خوبصورت تھے 

( نذرِ احمد شمیم)


ہمارے لب اگر گیتوں کی اک تجسیم کرتے تھے 

ہماری بات میں رقصاں اگر شوخی، شرارت تھی 

ہماری ذات کے اندر اگر کوئی حرارت تھی 

اگر ہم چاہتوں کی اس طرح تفہیم کرتے تھے 

کہ خوشبو بانٹتے تھے، روشنی تقسیم کرتے تھے 

Wednesday, 16 December 2020

اگر تم گیت ہوتے تو فضا میں نغمگی ہوتی

 اگر تم گیت ہوتے تو


اگر تم گیت ہوتے تو

فضا میں نغمگی ہوتی

زمیں پر تازگی ہوتی

یہ جنگل رقص میں ہوتا

پرندے وجد میں آتے

شجر مسحور ہو جاتے

Monday, 14 December 2020

اتنی چھوٹی بات نہیں ہے

 اتنی چھوٹی بات نہیں ہے


اتنی چھوٹی بات نہیں ہے

اتنی سیدھی راہ نہیں یہ چاہت والی

اتنا تن آسانی کا یہ کام نہیں

اتنے موسم گیان میں رہنا پڑتا ہے

اتنے جنگل خود میں کاٹنے پڑتے ہیں

Sunday, 13 December 2020

دل نظم ہوا جاں نظم ہوئی

 دل نظم ہوا، جاں نظم ہوئی

یہ روح کوئی مِضراب بنی

یہ خواب، خیال، حقیقت سب

اک وحدت کا اظہار ہوئے

ہر منظر میں، ہر رستے پر

اک خواہش کی تصویر بنی

کچھ باتیں میں صرف تمہی سے کہتا ہوں

کچھ باتیں


 کچھ باتیں میں صرف تمہی سے کہتا ہوں

کچھ باتیں دریا سے ہی ہو سکتی ہیں

کچھ باتیں صحرا کی ریت سے ممکن ہیں

کچھ باتیں بس جنگل ہی سن سکتا ہے

کچھ باتیں تاروں سے کرنے والی ہیں

کچھ باتیں پھولوں کے سننے والی ہیں