اک آس کی تھوڑی قیمت پر
اک عہد کے تھوڑے حرفوں میں
یہ پھول یہ شجر یہ خواب سبھی
چاہو تو مفت بھی لے جاؤ
بس رنگوں کی آرائش سے
اور سبزے کی زیبائش سے
اک آس کی تھوڑی قیمت پر
اک عہد کے تھوڑے حرفوں میں
یہ پھول یہ شجر یہ خواب سبھی
چاہو تو مفت بھی لے جاؤ
بس رنگوں کی آرائش سے
اور سبزے کی زیبائش سے
لیکن تم ان سب سے خوبصورت ہو
میں زیادہ سے زیادہ ایک تتلی کو سوچ سکتا ہوں
تمہارے رنگوں کو دیکھتے ہوئے
یا کسی چڑیا کو
تمہاری نزاکت کو تصور کرتے ہوئے
تمہاری سبک رو شرارتیں
بارش تم نے کیا اس کی آواز سنی ہے؟
بارش تم نے کیا اس کی آواز سنی ہے
کومل نرم سی بوندوں جیسی
قطرہ قطرہ ایک لطافت جس کے اندر
موسم کی رنگینی جیسا اس کا لہجہ
کیا تم نے محسوس کیا ہے
وہ دن بھی تھے
وہ دن بھی تھے
ہوا رنگوں کی خوشبو سے ہمارا نام لکھتی تھی
دعا آنگن میں آتی تھی تو ہر سُو روشنی سی پھیل جاتی تھی
بدن کے منطقے میں خواب کے موسم سدا شاداب رہتے تھے
گلابوں کی لطافت سوچ پر آ کر اترتی تو
اگر وہ شخص چاہے تو
تلافی اب بھی ممکن ہے
مداوا ہو بھی سکتا ہے
یہ موسم جو یہاں پر آن ٹھہرا ہے
اسے اذنِ وِداع دے کر
نئی رُت آبھی سکتی ہے
یہ آنکھیں اب بھلا کیسے تمہیں سوچیں
تمہارے نقش پھیلے ہیں ہوا میں چار سُو دیکھو
تمہارے خواب کا موسم
بدن کی سرحدِ ادراک سے آگے کا قصہ ہے
کبھی دریا کے پانی پر تمہارا عکس بنتا ہے
کبھی کوئی دھنک ان آسمانوں پر تمہارا نام لکھتی ہے
اگر ہم خوبصورت تھے
( نذرِ احمد شمیم)
ہمارے لب اگر گیتوں کی اک تجسیم کرتے تھے
ہماری بات میں رقصاں اگر شوخی، شرارت تھی
ہماری ذات کے اندر اگر کوئی حرارت تھی
اگر ہم چاہتوں کی اس طرح تفہیم کرتے تھے
کہ خوشبو بانٹتے تھے، روشنی تقسیم کرتے تھے
اگر تم گیت ہوتے تو
اگر تم گیت ہوتے تو
فضا میں نغمگی ہوتی
زمیں پر تازگی ہوتی
یہ جنگل رقص میں ہوتا
پرندے وجد میں آتے
شجر مسحور ہو جاتے
اتنی چھوٹی بات نہیں ہے
اتنی چھوٹی بات نہیں ہے
اتنی سیدھی راہ نہیں یہ چاہت والی
اتنا تن آسانی کا یہ کام نہیں
اتنے موسم گیان میں رہنا پڑتا ہے
اتنے جنگل خود میں کاٹنے پڑتے ہیں
دل نظم ہوا، جاں نظم ہوئی
یہ روح کوئی مِضراب بنی
یہ خواب، خیال، حقیقت سب
اک وحدت کا اظہار ہوئے
ہر منظر میں، ہر رستے پر
اک خواہش کی تصویر بنی
کچھ باتیں
کچھ باتیں میں صرف تمہی سے کہتا ہوں
کچھ باتیں دریا سے ہی ہو سکتی ہیں
کچھ باتیں صحرا کی ریت سے ممکن ہیں
کچھ باتیں بس جنگل ہی سن سکتا ہے
کچھ باتیں تاروں سے کرنے والی ہیں
کچھ باتیں پھولوں کے سننے والی ہیں