Sunday, 10 April 2022

اک آس کی تھوڑی قیمت پر

 اک آس کی تھوڑی قیمت پر

اک عہد کے تھوڑے حرفوں میں

یہ پھول یہ شجر یہ خواب سبھی

چاہو تو مفت بھی لے جاؤ

بس رنگوں کی آرائش سے

اور سبزے کی زیبائش سے

اک خوشبو بھری محبت سے

تم اپنے گھر آباد کرو

ہم تاجر اپنی خواہش کے

ہم گھاٹا کھانے آئے ہیں

ہم یونہی سودا کرتے ہیں

گر لینا ہے تو لے جاؤ

ہم بیچ سکے تو بیچیں گے


ازہر ندیم

No comments:

Post a Comment