اک آس کی تھوڑی قیمت پر
اک عہد کے تھوڑے حرفوں میں
یہ پھول یہ شجر یہ خواب سبھی
چاہو تو مفت بھی لے جاؤ
بس رنگوں کی آرائش سے
اور سبزے کی زیبائش سے
اک خوشبو بھری محبت سے
تم اپنے گھر آباد کرو
ہم تاجر اپنی خواہش کے
ہم گھاٹا کھانے آئے ہیں
ہم یونہی سودا کرتے ہیں
گر لینا ہے تو لے جاؤ
ہم بیچ سکے تو بیچیں گے
ازہر ندیم
No comments:
Post a Comment