Showing posts with label شمیم کرہانی. Show all posts
Showing posts with label شمیم کرہانی. Show all posts

Sunday, 3 April 2022

پی کر بھی طبیعت میں تلخی ہے گرانی ہے

 پی کر بھی طبیعت میں تلخی ہے، گرانی ہے

اس دور کے شیشوں میں صہبا ہے کہ پانی ہے

اے حُسن! تجھے اتنا کیوں ناز جوانی ہے

یہ گل بدنی تیری اک رات کی رانی ہے

اس شہر کے قاتل کو دیکھا تو نہیں لیکن

مقتل سے جھلکتا ہے قاتل کی جوانی ہے

Wednesday, 11 January 2017

انمول سہی نایاب سہی بے دام و درم بک جاتے ہیں

انمول سہی نایاب سہی بے دام و درم بک جاتے ہیں
بس پیار ہماری قیمت ہے مل جائے تو ہم بک جاتے ہیں
سکوں کی چمک پہ گرتے ہوئے دیکھا ہے شیخ و برہمن کو
پھر میرے کھنڈر کی قیمت کیا جب دیر و حرم بک جاتے ہیں
کیا شرمِ خودی کیا پاسِ حیا، غربت کی اندھیری راتوں میں
کتنے ہی بُتانِ زہرہ جبیں با دیدۂ نم بک جاتے ہیں

رکھنا ہے تو پھولوں کو تو رکھ لے نگاہوں میں

 رکھنا ہے تو پھولوں کو تو رکھ لے نگاہوں میں

خوشبو تو مسافر ہے کھو جائے گی راہوں میں

کیوں میری محبت سے برہم ہو زمیں والو

اک اور گُنہ رکھ لو دنیا کے گناہوں میں

کیفیت مے دل کا درماں نہ ہوئی، لیکن

رنگیں تو رہی دنیا کچھ دیر نگاہوں میں

Tuesday, 10 January 2017

وہ دل بھی جلاتے ہیں رکھ دیتے ہیں مرہم بھی

وہ دل بھی جلاتے ہیں رکھ دیتے ہیں مرہم بھی
کیا طرف طبیعت ہے شعلہ بھی ہیں شبنم بھی
خاموش نہ تھا دل بھی خوابیدہ نہ تھے ہم بھی
تنہا تو نہیں گزرا تنہائی کا عالم بھی
چھلکا ہے کہیں شیشہ ڈھلکا ہے کہیں آنسو
گلشن کی ہواؤں میں نغمہ بھی ہے ماتم بھی

ہمیں تھے ایسے سر پھرے ہمیں تھے ایسے منچلے

ہمیں تھے ایسے سر پھرے ہمیں تھے ایسے منچلے 
کہ تیرے غم کی رات میں چراغ کی طرح جلے
ملے کوئی تو پھر مزے نہ زندگی کے پوچھئے 
کٹے جو رات دِیر میں تو مۓ کدے میں دن ڈھلے
کھلی ہوئی ہر اک کلی مہک رہی ہے شاخ پر 
تو کچھ اداس پھول بھی پڑے ہیں شاخ کے تلے

قید غم حیات سے ہم کو چھڑا لیا

قیدِ غمِ حیات سے ہم کو چھڑا لیا
اچھا کِیا کہ آپ نے اپنا بنا لیا
ہونے دیا نہ ہم نے اندھیرا شبِ فراق
بجھنے لگا چراغ تو دل کو جلا لیا
دنیا کے پاس ہے کوئی اس طنز کا جواب
دیوانہ اپنے حال پہ خود مسکرا لیا

Saturday, 7 January 2017

گلی گلی ہے اندھیرا تو میرے ساتھ چلو

گلی گلی ہے اندھیرا تو میرے ساتھ چلو
تمہیں خیال ہے میرا تو ساتھ چلو
میں جا رہا ہوں اجالوں کی جستجو کیلئے
ستا رہا ہو اندھیرا تو میرے ساتھ چلو
جنوں کے دشت میں اک چھاؤنی بسا لیں گے
نہیں ہے کوئی بسیرا تو میرے ساتھ چلو

نکل پڑے ہیں صنم رات کے شوالے سے

نکل پڑے ہیں صنم رات کے شوالے سے
کچھ آج شہرِ غریباں میں ہیں اجالے سے
چلو پلٹ بھی چلیں اپنے مۓ کدہ کی طرف
یہ آ گئے کس اندھیرے میں ہم اجالے سے
خدا کرے کہ بکھر جائیں میرے شانوں پر
سنور رہے ہیں یہ بادل جو کالے کالے سے

درد شناس دل نہیں جلوہ طلب نظر نہیں

درد شناس دل نہیں، جلوہ طلب نظر نہیں
حادثہ کتنا سخت ہے ان کو ابھی خبر نہیں
اور بڑھے گا دردِ دل رات جو بھیگ جائے گی
دیکھ نہ وقت کی طرف وقت بھی چارہ گر نہیں
کس کو خبر کہ ہم سے کب آپ نگاہ پھیر لیں
نشہ تو دھوپ چھاؤں ہے بادہ بھی معتبر نہیں

Wednesday, 30 November 2016

ذوالفقار حیدری پہلا حصہ

عارفانہ کلام منقبت سلام
ذوالفقار حیدری پہلا حصہ

باطل شکن، مجاہدِ ایماں تھی ذوالفقار
تدبیرِ چارہ سازئِ انساں تھی ذوالفقار
شیرِ خدا کی جنبشِ مژگاں تھی ذوالفقار
آئینۂ جلالتِ یزداں تھی ذوالفقار
روشن ہے کائنات پہ قیمت میں قدر میں
اتری تھی آسمان سے چمکی تھی بدر میں

ذوالفقار حیدری دوسرا حصہ

عارفانہ کلام منقبت سلام
ذوالفقار حیدری دوسرا حصہ

خوش طرز و خوش صفات تھی شمشیرِ حیدری
آئینۂ ثبات تھی شمشیرِ حیدری
حلالِ مشکلات تھی شمشیرِ حیدری
حکمت کی ایک بات تھی شمشیرِ حیدری
ظلمت سے محوِ جنگ تھی تنویر کے لیے
تخریب کرتی پھرتی تھی تعمیر کے لیے

ذوالفقار حیدری تیسرا حصہ

عارفانہ کلام منقبت سلام
ذوالفقار حیدری تیسرا حصہ

لطفِ رسولؐ، رحمتِ باری تھی ذوالفقار
صحرا میں بوئے بہاری تھی ذوالفقار
سارے عرب میں جاری و ساری تھی ذوالفقار
ذہنِ ستم پہ ضربتِ کاری تھی ذوالفقار
محوِ دوا تھی مائلِ پیکار تو نہ تھی
کفار کا علاج تھی تلوار تو نہ تھی

ذوالفقار حیدری چوتھا حصہ

عارفانہ کلام منقبت سلام
ذوالفقار حیدری چوتھا حصہ

رعبِ غضب سے گورکنوں کو دبا لیا
بنتِ نبی کی قبر کو جس نے بچا لیا
لیتی تھی منکروں کے دلوں کی تلاشیاں
مقصد یہ تھا کہ دور کرے بدقماشیاں
دلداریاں بڑھیں تو مٹیں دل خراشیاں
کرتی تھی ریگزار میں وہ تخم پاشیاں

ذوالفقار حیدری پانچواں حصہ

عارفانہ کلام منقبت سلام
ذوالفقار حیدری پانچواں حصہ

تقدیسِ ذوالفقار کی کیا گفتگو کریں
دامن نچوڑ دے تو فرشتے وضو کریں
ظلمت شکن چراغِ رہِ اہلِ اعتبار
ایماں پسند حُسنِ تیقن کی جلوہ زار
چلتی تھی ساتھ ساتھ لیے دین کی بہار
منشائے ذوالفقار تھا منشائے کردگار

ذوالفقار حیدری چھٹا حصہ

عارفانہ کلام منقبت سلام
ذوالفقار حیدری چھٹا حصہ

مسلک تھا ذوالفقار کا ایمان و اعتقاد
رکھتی تھی اپنے مالکِ صابر پہ اعتماد
دینا پڑی مؤرخِ عالم کو چپ کی داد
تھی سیفِ مرتضیٰ کی خموشی بھی اک جہاد
اسلام پر فساد کا در کھولتی نہ تھی
بعدِ رسولﷺ مصلحتاً بولتی نہ تھی

ذوالفقار حیدری ساتواں حصہ

عارفانہ کلام منقبت سلام
ذوالفقار حیدری ساتواں حصہ

پیغامِ انقلاب تھی شمشیرِ حیدری
پھیلا رہی تھی دہر میں آئینِ ہمسری
دیتی نہ تھی گدا پہ سلاطیں کو برتری
مطلق اسے پسند نہ تھی نابرابری
بڑھتا تھا اہلِ زر جو کوئی گھات کے لیے
کرتی تھی اس کو قتل مساوات کے لیے

ذوالفقار حیدری آٹھواں حصہ

عارفانہ کلام منقبت سلام
ذوالفقار حیدری آٹھواں حصہ

خونی تھی ذوالفقار، نہ قاتل تھی ذوالفقار
علمِ کتابِ پاک پہ عامل تھی ذوالفقار
دل ہنس پڑے، جدا حسد و کینہ ہو گئے
سینوں سے دور غصۂ دیرینہ ہو گئے
قلبِ جہاں، خلوص کا گنجینہ ہو گئے
لات و منات قصۂ پارینہ ہو گئے

ذوالفقار حیدری نواں حصہ

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام

ذوالفقار حیدری نواں حصہ

اورنگ کے لیے نہ زر و تاج کے لیے
کوشاں تھی اس زمین کی معراج کے لیے
دانا تھی، دور بیں تھی، حقیقت شعار تھی
اسرارِ رزم و بزم کی آئینہ دار تھی
عہدِ مصالحت ہو تو حرفِ قرار تھی
تلوار تھی کہ مصلحتِ کردگار تھی

ذوالفقار حیدری دسواں حصہ

عارفانہ کلام منقبت سلام
ذوالفقار حیدری دسواں حصہ

شعلوں کو لالہ زار بناتی چلی گئی
ہر بولہب کی آگ بجھاتی چلی گئی
دنیائے شعلہ خو کیلئے نارِ جاں گسل
آتش فشاں مدام، شرر بار مستقل
لیکن جہانِ مہر و محبت میں نرم دل
آلِ خلیلؑ کے لیے خنکئ معتدل

ذوالفقار حیدری گیارہواں حصہ

عارفانہ کلام منقبت سلام
ذوالفقار حیدری گیارہواں حصہ

افسوس، حکمِ جنگ نہیں ذوالفقار کو
ورنہ الٹ کے رکھ دے ابھی کارزار کو
پانی پلائے لا کے شہِ دل فگار کو
پر کیا کرے، وہ مصلحتِ کردگار کو
تیغِ ظفر ہے فاتحِ بدر و حنین کی
چپ چاپ تک رہی ہے جو صورت حسین کی