پی کر بھی طبیعت میں تلخی ہے، گرانی ہے
اس دور کے شیشوں میں صہبا ہے کہ پانی ہے
اے حُسن! تجھے اتنا کیوں ناز جوانی ہے
یہ گل بدنی تیری اک رات کی رانی ہے
اس شہر کے قاتل کو دیکھا تو نہیں لیکن
مقتل سے جھلکتا ہے قاتل کی جوانی ہے
پی کر بھی طبیعت میں تلخی ہے، گرانی ہے
اس دور کے شیشوں میں صہبا ہے کہ پانی ہے
اے حُسن! تجھے اتنا کیوں ناز جوانی ہے
یہ گل بدنی تیری اک رات کی رانی ہے
اس شہر کے قاتل کو دیکھا تو نہیں لیکن
مقتل سے جھلکتا ہے قاتل کی جوانی ہے
رکھنا ہے تو پھولوں کو تو رکھ لے نگاہوں میں
خوشبو تو مسافر ہے کھو جائے گی راہوں میں
کیوں میری محبت سے برہم ہو زمیں والو
اک اور گُنہ رکھ لو دنیا کے گناہوں میں
کیفیت مے دل کا درماں نہ ہوئی، لیکن
رنگیں تو رہی دنیا کچھ دیر نگاہوں میں