دستِ نادیدہ گلو گیر تو ہے
صورتِ حال یہ گمبھیر تو ہے
شور حالات کی تصویر تو ہے
ہُو کا عالم بھی ہمہ گیر تو ہے
جانے کب اترے کمر میں خنجر
مجھ سے اک شخص بغلگیر تو ہے
دستِ نادیدہ گلو گیر تو ہے
صورتِ حال یہ گمبھیر تو ہے
شور حالات کی تصویر تو ہے
ہُو کا عالم بھی ہمہ گیر تو ہے
جانے کب اترے کمر میں خنجر
مجھ سے اک شخص بغلگیر تو ہے
اک تماشا بنا دیا انصاف
ہر نظر سے گرا دیا انصاف
بس اسی دن سے ہیں زوال کی سمت
ہم نے جب سے بھلا دیا انصاف
میرے منصف نے بھاری قدموں کے
راستے میں بچھا دیا انصاف
یہ کس حساب سے آئی ہمارے حصے موت
تمام عمر قیامت، تمام رستے موت
کُھلا کہ واعظِ عیار غیر کا ہے رفیق
سو ہم تو شوقِ شہادت میں مر گئے بے موت
ہے میرے گرد مسلسل کسی کرم کا حصار
گزر رہی ہے مسلسل نظر بچا کے موت