Showing posts with label راغب تحسین. Show all posts
Showing posts with label راغب تحسین. Show all posts

Saturday, 26 February 2022

دست نادیدہ گلو گیر تو ہے

 دستِ نادیدہ گلو گیر تو ہے

صورتِ حال یہ گمبھیر تو ہے

شور حالات کی تصویر تو ہے

ہُو کا عالم بھی ہمہ گیر تو ہے

جانے کب اترے کمر میں خنجر

مجھ سے اک شخص بغلگیر تو ہے

Sunday, 12 September 2021

اک تماشا بنا دیا انصاف

 اک تماشا بنا دیا انصاف

ہر نظر سے گرا دیا انصاف

بس اسی دن سے ہیں زوال کی سمت

ہم نے جب سے بھلا دیا انصاف

میرے منصف نے بھاری قدموں کے

راستے میں بچھا دیا انصاف

Wednesday, 1 September 2021

یہ کس حساب سے آئی ہمارے حصے موت

 یہ کس حساب سے آئی ہمارے حصے موت

تمام عمر قیامت، تمام رستے موت

کُھلا کہ واعظِ عیار غیر کا ہے رفیق

سو ہم تو شوقِ شہادت میں مر گئے بے موت

ہے میرے گرد مسلسل کسی کرم کا حصار

گزر رہی ہے مسلسل نظر بچا کے موت

Friday, 28 August 2020

گھر کو جنت نما بنائے وے ہیں

گھر کو جنت نما بنائے وے ہیں
آج کل وہ میرے گھر آئے وے ہیں
ہم سے  اپنا مقابلہ نہ کرو
ہم بڑے گہرے زخم کھائے وے ہیں
کچھ بُرا کر، گزر نہ جائیں کہیں
لوگ حالات کے ستائے وے ہیں

دشت بلا میں ابر نظر آ گیا تو کیا

دشتِ بلا میں ابر نظر آ گیا تو کیا
میں دور ہوں، وہ پاس اگر آ گیا تو کیا
ہم کو تو جھیلنا ہے مسلسل سفر کا دکھ
رستے میں اتفاق سے گھر آ گیا تو کیا
صحراؤں کے سفر سے بھی لوٹا ہوں سرخرو
آگے سمندروں کا سفر آ گیا تو کیا

کبھی عذاب طلب ہوں کبھی امان تلاش

کبھی عذاب طلب ہوں کبھی امان تلاش
میں دھوپ اوڑھ کے کرتا ہوں سائبان تلاش
خلانورد سے مشکل ہے اپنا کام، کہ ہم
زمیں کی گود میں کرتے ہیں آسمان تلاش
کہیں  جگہ نہ ملی ہم کو سر چھپانے کی
گھروں کے شہر میں کرتے رہے مکان تلاش

Wednesday, 26 August 2020

فضا خاموش غم آلود منظر لگ رہا ہے

فضا خاموش، غم آلود منظر لگ رہا ہے
بھلے کچھ بھی نہ ہو لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے
زمیں سے پاؤں جب لگ جائیں تو نظریں ملانا
ابھی تو آسماں سے آپ کا سر لگ رہا ہے
بہت جلدی میں ہوں، تصدیق پھر آ کر کروں گا
بظاہر دور سے تو وہ مِرا گھر لگ رہا ہے

نجانے کس راستے پہ ہم لوگ چل پڑے ہیں

نجانے کس راستے پہ ہم لوگ چل پڑے ہیں
کہ برسوں پہلے جہاں تھے اب بھی وہیں کھڑے ہیں
وگرنہ، سچ کے سفر میں تنہائی مار دیتی
چلو، یہ دو چار لوگ تو ساتھ چل پڑے ہیں
ابھی اجازت نہیں ملی رزق بانٹنے کی
جہاز ساحل پہ حکم کے منتظر کھڑے ہیں

اجل نظر کرم ان پر یہ جتنے لوگ بیٹھے ہیں

اجل نظرِ کرم ان پر، یہ جتنے لوگ بیٹھے ہیں
کہ بستی جل رہی ہے اور مزے سے لوگ بیٹھے ہیں
اندھیرے میں سفر ہوتا رہا تو کون دیکھے گا
تھکن سے رہنما بیٹھا کہ پہلے لوگ بیٹھے ہیں
قرینہ مے کشی کا ہے، نہ قدرِِ بادہ و مِینا
یہ کیسا میکدہ ہے اور کیسے لوگ بیٹھے ہیں

Tuesday, 25 August 2020

تلاش کون کرے گا مجھے گماں سے پرے

تلاش کون کرے گا مجھے گماں سے پرے؟
میں چھپ گیا ہوں کہیں اپنے جسم و جاں سے پرے
بس ایک دھوپ کی شدت کے یاد کچھ بھی نہیں
تمام عمر گزاری ہے سائباں سے پرے
ذرا سی بات پہ ہم سے خدا گریزاں ہے
ذرا سی دیر کو سوچا تھا آسماں سے پرے

زمیں کا درد ہے اور خوف آسمان کا ہے

زمیں کا درد ہے اور خوف آسمان کا ہے
ہمارے واسطے یہ وقت امتحان کا ہے
میں شہر بھر کا ہدف ہوں یقیں سے کیسے کہوں
جو آ رہا ہے ادھر تیر، کس کمان کا ہے؟
یہ دھوپ ہے جو مسلسل سفر میں رکھتی ہے
رکاوٹوں میں بڑا ہاتھ سائبان کا ہے

پھر نئی شب نئی کہانی سن

پھر نئی شب نئی کہانی سُن
ہو گئی اک بھری جوانی سن
یہ گھڑی پھر نصیب ہو کہ نہ ہو
زندگی آ، میری کہانی سن
کشتیاں  زیرِ آسماں محبوس
یخ ہوا کر گئی ہے پانی سن

Monday, 24 August 2020

جس کے پلو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کے بوٹ

جس کے پلو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کے بوٹ
ایسی دربار سے بخشی ہوئی دستار پہ تھو
جو فقط اپنے ہی لوگوں کا گلا کاٹتی ہو
ایسی تلوار مع صاحبِ تلوار پہ تھو
شہر آشوب زدہ، اس پہ قصیدہ گوئی
گنبدِ دہر کے اس پالتو فنکار پہ تھو

روشنی مر گئی اندھیروں میں

اک دیا بھی نہیں بچا گھر میں
روشنی مر گئی اندھیروں میں
مونگ دلتے ہیں روز سینے پر
حوصلہ ہے بلا کا سڑکوں میں
کھا گیا ان کا غم جو مدت سے
جی رہے ہیں سیاہ کمروں میں

شراب و ابر و گل موجود ہو تب وہ نہیں ہوتا

شراب و ابر و گل موجود ہو، تب وہ نہیں ہوتا
ہم اکثر سوچتے ہیں جس طرح، سب وہ نہیں ہوتا
مرے جاتے ہیں کیوں ہم عارضی شہرت کی خواہش میں
جسے کھونا ہو دن میں، حاصلِ شب وہ نہیں ہوتا
یہاں ہر شے جگہ سے بے جگہ محسوس ہوتی ہے
یہاں جو جس جگہ ہے، اس کا منصب وہ نہیں ہوتا

اک تماشہ ہے تری خلد سے آیا ہوا شخص

اک تماشا ہے تِری خُلد سے آیا ہوا شخص
ہو گیا تجھ سے خفا، تیرا بنایا ہوا شخص
شوقِ کردار کشی نےتجھے رسوا رکھا
سرخرو اب بھی ہے بہتان لگایا ہوا شخص
حدِ پاتال سے بھی نیچے چلا جاتا ہے
خانۂ چشم کی کھڑکی سے گِرایا ہوا شخص