شراب و ابر و گل موجود ہو، تب وہ نہیں ہوتا
ہم اکثر سوچتے ہیں جس طرح، سب وہ نہیں ہوتا
مرے جاتے ہیں کیوں ہم عارضی شہرت کی خواہش میں
جسے کھونا ہو دن میں، حاصلِ شب وہ نہیں ہوتا
یہاں ہر شے جگہ سے بے جگہ محسوس ہوتی ہے
پسِ محراب و منبر سے کشادِ فکر کہتی ہے
کرے جو راستے مسدود، مذہب وہ نہیں ہوتا
مِرے آنسو، ہنسی، چپ، گفتگو، ملنے، بچھڑنے سے
سمجھ لیتے ہو جو تم، میرا مطلب وہ نہیں ہوتا
وہ ہو تو ذہن قیدِ فکر سے آزاد ہوتا ہے
زمانے بھر کے غم رکھتا ہوں میں جب وہ نہیں ہوتا
وہ دن بھی تھے کہ جب اس کو بہت چاہا، بہت سوچا
یہ سب کچھ اب بھی ہوتا ہے، مگر اب وہ نہیں ہوتا
راغب تحسین
No comments:
Post a Comment