کانٹوں کی حکومت میں نزاکت تھی بریدہ
مقتل کے تعاقب میں عداوت تھی بریدہ
معصوم امیدوں کہ جہاں پر تھے اڑے سر
سیہون کے زاہدوں کی بشارت تھی بریدہ
ہر روز میں پڑھتا ہوں جگر گوش فسانے
اخبار کی سرخی کی عبارت تھی بریدہ
کانٹوں کی حکومت میں نزاکت تھی بریدہ
مقتل کے تعاقب میں عداوت تھی بریدہ
معصوم امیدوں کہ جہاں پر تھے اڑے سر
سیہون کے زاہدوں کی بشارت تھی بریدہ
ہر روز میں پڑھتا ہوں جگر گوش فسانے
اخبار کی سرخی کی عبارت تھی بریدہ
کربِ تاریک کو یوں بے نقاب کرنا تھا
ہر شبِ غم کو مجھے آفتاب کرنا تھا
دل کی چوٹوں کہ مؤلف کو اک قلم سونپا
غم کے دوران، غمِ احتساب کرنا تھا
رتجگے مشقِ سخن کثرتِ تکرار روا
پستئ روح کو بھی صحت یاب کرنا تھا
چلو ایسا بھی کرتے ہیں، نئے فقرے بناتے ہیں
غزل میں مضطرب آنکھوں کو شادابی سکھاتے ہیں
چلو ایسا بھی کرتے ہیں، فسردہ خوف میں ہیں جو
شجاعت کی بلندی پر انہیں جینا سکھاتے ہیں
چلو ایسا بھی کرتے ہیں، فلک سے چاندنی لے کر
اندھیری بستیوں میں دیپ کی مانند سجاتے ہیں
بات ہی بات میں بُرہان بدل جاتے ہیں
بات بڑھتی ہے تو عنوان بدل جاتے ہیں
مسندیں بھی وہی دربان و تماشے بھی وہی
سب وہی رہتا ہے، خاقان بدل جاتے ہیں
جو ہیں انسان انہیں وقت سے تشبیب نہ کر
کون کہتا ہے کہ انسان بدل جاتے ہیں
روح کی سر زمیں پہ ایک ہی چھایا ہوا شخص
میرے احساس کہ رنگوں میں سمایا ہوا شخص
اس قدر سوچ کی مسند پہ آ کے بیٹھا ہے
میرے ہر شعر کی آمد میں ہے آیا ہوا شخص
اپنی مٹی سے بہت پیار ہے اس کو شاید
روز مرتا ہے وہ پردیس میں لایا ہوا شخص