Showing posts with label ساگر اعجاز. Show all posts
Showing posts with label ساگر اعجاز. Show all posts

Monday, 14 March 2022

کانٹوں کی حکومت میں نزاکت تھی بریدہ

 کانٹوں کی حکومت میں نزاکت تھی بریدہ

مقتل کے تعاقب میں عداوت تھی بریدہ

معصوم امیدوں کہ جہاں پر تھے اڑے سر

سیہون کے زاہدوں کی بشارت تھی بریدہ

ہر روز میں پڑھتا ہوں جگر گوش فسانے

اخبار کی سرخی کی عبارت تھی بریدہ

Tuesday, 11 January 2022

کرب تاریک کو یوں بے نقاب کرنا تھا

 کربِ تاریک کو یوں بے نقاب کرنا تھا

ہر شبِ غم کو مجھے آفتاب کرنا تھا

دل کی چوٹوں کہ مؤلف کو اک قلم سونپا

غم کے دوران، غمِ احتساب کرنا تھا

رتجگے مشقِ سخن کثرتِ تکرار روا

پستئ روح کو بھی صحت یاب کرنا تھا

Saturday, 1 January 2022

چلو ایسا بھی کرتے ہیں نئے فقرے بناتے ہیں

 چلو ایسا بھی کرتے ہیں، نئے فقرے بناتے ہیں

غزل میں مضطرب آنکھوں کو شادابی سکھاتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں، فسردہ خوف میں ہیں جو

شجاعت کی بلندی پر انہیں جینا سکھاتے ہیں

چلو ایسا بھی کرتے ہیں، فلک سے چاندنی لے کر

اندھیری بستیوں میں دیپ کی مانند سجاتے ہیں

Saturday, 11 December 2021

بات ہی بات میں برہان بدل جاتے ہیں

 بات ہی بات میں بُرہان بدل جاتے ہیں

بات بڑھتی ہے تو عنوان بدل جاتے ہیں

مسندیں بھی وہی دربان و تماشے بھی وہی

سب وہی رہتا ہے، خاقان بدل جاتے ہیں

جو ہیں انسان انہیں وقت سے تشبیب نہ کر

کون کہتا ہے کہ انسان بدل جاتے ہیں

Sunday, 17 October 2021

روح کی سر زمیں پہ ایک ہی چھایا ہوا شخص

 روح کی سر زمیں پہ ایک ہی چھایا ہوا شخص

میرے احساس کہ رنگوں میں سمایا ہوا شخص

اس قدر سوچ کی مسند پہ آ کے بیٹھا ہے

میرے ہر شعر کی آمد میں ہے آیا ہوا شخص

اپنی مٹی سے بہت پیار ہے اس کو شاید

روز مرتا ہے وہ پردیس میں لایا ہوا شخص