Showing posts with label وسیم تاشف. Show all posts
Showing posts with label وسیم تاشف. Show all posts

Monday, 10 May 2021

ابھی ابھی جو فلک پار سے گزارے گئے

 ابھی ابھی جو فلک پار سے گزارے گئے

تمہاری آنکھ سے ایسے کئی ستارے گئے

تمہارے ہونٹ سے نکلے ہر ایک لفظ کی خیر

کہ جیسے ان پہ گلابوں کے پھول وارے گئے

کسی نے نیند میں آ کر نہیں چُھوا ہم کو

یہ بال خواب میں رہ کر نہیں سنوارے گئے

Sunday, 25 April 2021

اس کی تصویر کیا لگی ہوئی ہے

 اس کی تصویر کیا لگی ہوئی ہے

پورے کمرے میں روشنی ہوئی ہے

کچھ بھی ترتیب میں نہیں تھا یہاں

اس کے آنے سے بہتری ہوئی ہے

دل کسی اور جا اَڑا ہوا ہے

روح کسی اور میں پھنسی ہوئی ہے

Thursday, 8 April 2021

بعض اوقات فراغت میں اک ایسا لمحہ آتا ہے

 بعض اوقات فراغت میں اک ایسا لمحہ آتا ہے

جس میں ہم ایسوں کو اچھا خاصا رونا آتا ہے

سب اس شخص سے مل کر بالکل تازہ دم ہو جاتے ہیں

پھر اس دن تصویر میں سب کا چہرہ اچھا آتا ہے

باغ سے پھول چرانے والی لڑکی کو یہ کیا معلوم

اس کے قدموں کی ہر چاپ پہ پھول کو کھلنا آتا ہے

سو جاؤں پر کیسے سویا جا سکتا ہے

 سو جاؤں، پر کیسے سویا جا سکتا ہے؟

اس کو بند آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے

پانی پر تصویر بنائی جا سکتی ہے

اس کا نام ہوا پر لکھا جا سکتا ہے

اب میں جتنی چاہوں خاک اُڑا سکتا ہوں

جتنا چاہوں، اُتنا رویا جا سکتا ہے

آنکھ وہ اس طرح سے بھائی مجھے

 آنکھ وہ اس طرح سے بھائی مجھے

پار کرنی پڑے گی کھائی مجھے

میں فلک سے کلام کرنے لگا

اُس نے ایسی زباں سِکھائی مجھے

وہ کتابوں میں آ رہا تھا نظر

اچھی لگنے لگی پڑھائی مجھے

Wednesday, 7 April 2021

ہم ایک ہوا میں سانس لے سکتے ہیں

 ہم ایک ہوا میں سانس لے سکتے ہیں

بھاگ کر آزاد ہونے کے لیے

ہم گھڑی کی سوئیوں کو

روک سکتے ہیں

ایک دوسرے میں ٹھہرنے کے لیے

تم میرے سمندر میں اترو