ابھی ابھی جو فلک پار سے گزارے گئے
تمہاری آنکھ سے ایسے کئی ستارے گئے
تمہارے ہونٹ سے نکلے ہر ایک لفظ کی خیر
کہ جیسے ان پہ گلابوں کے پھول وارے گئے
کسی نے نیند میں آ کر نہیں چُھوا ہم کو
یہ بال خواب میں رہ کر نہیں سنوارے گئے
ابھی ابھی جو فلک پار سے گزارے گئے
تمہاری آنکھ سے ایسے کئی ستارے گئے
تمہارے ہونٹ سے نکلے ہر ایک لفظ کی خیر
کہ جیسے ان پہ گلابوں کے پھول وارے گئے
کسی نے نیند میں آ کر نہیں چُھوا ہم کو
یہ بال خواب میں رہ کر نہیں سنوارے گئے
اس کی تصویر کیا لگی ہوئی ہے
پورے کمرے میں روشنی ہوئی ہے
کچھ بھی ترتیب میں نہیں تھا یہاں
اس کے آنے سے بہتری ہوئی ہے
دل کسی اور جا اَڑا ہوا ہے
روح کسی اور میں پھنسی ہوئی ہے
بعض اوقات فراغت میں اک ایسا لمحہ آتا ہے
جس میں ہم ایسوں کو اچھا خاصا رونا آتا ہے
سب اس شخص سے مل کر بالکل تازہ دم ہو جاتے ہیں
پھر اس دن تصویر میں سب کا چہرہ اچھا آتا ہے
باغ سے پھول چرانے والی لڑکی کو یہ کیا معلوم
اس کے قدموں کی ہر چاپ پہ پھول کو کھلنا آتا ہے
سو جاؤں، پر کیسے سویا جا سکتا ہے؟
اس کو بند آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے
پانی پر تصویر بنائی جا سکتی ہے
اس کا نام ہوا پر لکھا جا سکتا ہے
اب میں جتنی چاہوں خاک اُڑا سکتا ہوں
جتنا چاہوں، اُتنا رویا جا سکتا ہے
آنکھ وہ اس طرح سے بھائی مجھے
پار کرنی پڑے گی کھائی مجھے
میں فلک سے کلام کرنے لگا
اُس نے ایسی زباں سِکھائی مجھے
وہ کتابوں میں آ رہا تھا نظر
اچھی لگنے لگی پڑھائی مجھے
ہم ایک ہوا میں سانس لے سکتے ہیں
بھاگ کر آزاد ہونے کے لیے
ہم گھڑی کی سوئیوں کو
روک سکتے ہیں
ایک دوسرے میں ٹھہرنے کے لیے
تم میرے سمندر میں اترو