Thursday, 8 April 2021

بعض اوقات فراغت میں اک ایسا لمحہ آتا ہے

 بعض اوقات فراغت میں اک ایسا لمحہ آتا ہے

جس میں ہم ایسوں کو اچھا خاصا رونا آتا ہے

سب اس شخص سے مل کر بالکل تازہ دم ہو جاتے ہیں

پھر اس دن تصویر میں سب کا چہرہ اچھا آتا ہے

باغ سے پھول چرانے والی لڑکی کو یہ کیا معلوم

اس کے قدموں کی ہر چاپ پہ پھول کو کھلنا آتا ہے

ہم یہ بات بڑے بوڑھوں سے اکثر سنتے آئے ہیں

دائیں ہاتھ میں کھجلی ہو تو جیب میں پیسہ آتا ہے

جب بھی اس کو رشتے کی تصویر دکھائی جاتی ہے

اس کے ذہن میں فوراً میرے جیسا لڑکا آتا ہے

ہم سائے کی اونچی دیواروں سے اتنا فرق پڑا

پہلے گھر میں دھوپ آ جاتی تھی اب سایا آتا ہے

اس آواز کو سننے والے کان مبارک کہلاتے ہیں

ان آنکھوں کو دیکھنے والو خواب میں دریا آتا ہے


وسیم تاشف

No comments:

Post a Comment