افسوں
(آج لوٹا ہوں آپ سے مل کر)
نہ جانے بات ہے کیا
ہر طرف خوشی سی ہے
ہر ایک شئے پہ چھنی
جیسے چاندنی سی ہے
خیال و خواب سہی
ایک زندگی سی ہے
افسوں
(آج لوٹا ہوں آپ سے مل کر)
نہ جانے بات ہے کیا
ہر طرف خوشی سی ہے
ہر ایک شئے پہ چھنی
جیسے چاندنی سی ہے
خیال و خواب سہی
ایک زندگی سی ہے
اتنا بتائیے مجھ کو
میں کہ مفلس غریب اک شاعر
آپ اور آپ کی گِراں مائی
آپ اور آپ کی یہ رعنائی
ایک سورج اور ایک تاریکی
ایک دانا، اور ایک سودائی
کیا علاقہ ہے آپ میں مجھ میں
اجتہاد
مِرے ندیم محبت کی آرزو لے کر
میں تیرے در پہ جب آیا تو پیار مِل نہ سکا
کسی کے آنے کی خبریں ہیں اور مِرا دل ہے
ہزار رنج و الم اپنے سر اُٹھائے ہوئے
بہار آئی مگر پھر بھی دل نہیں مسرُور
بہار میں بھی مِرا دل ہے چوٹ کھائے ہوئے
احساس کا نور
میں نے چاہا تھا بہاروں میں ملوں میں تم سے
یہ خزاں راہ میں حائل تھی شراروں کو لیے
میں بھی گُم صُم سا رہا وقت کی آواز کے ساتھ
تم بھی آئیں نہ کبھی ساتھ بہاروں کو لیے
سرسراتی رہیں دامن کی ہوائیں یوں ہی
ارمان
بحرِ جذبات میں آیا ہے تلاطم کیسا
میں جو بکھرا ہوں تو اب مجھ کو سمٹنا ہو گا
میں نے کیا کیا نہ کیا دل کے بہلنے کے لیے
مجھ کو معلوم ہے ہر غم سے نمٹنا ہو گا
سرِ بازار تماشے کی طرح ہیں ارماں
چارہ گر کوئی مداوا تو نہیں ہے دل کا
اس کی سہیلی سے
جب سے اس کا ساتھ چھٹا ہے
میری طرح تم بھی بے کل ہو
کتنی حیران، کتنی گم صم
دیکھ کے تم کو اس عالم میں
اب مجھ کو بھی رحم آتا ہے
تم اس کی ہمراز رہی ہو
آدم ہے نہ حوا ہے زماں ہے نہ زمیں ہے
وہ کون ہے جو کُن میں مگر پردہ نشیں ہے
مانا کہ نہیں ہوں تِرے الطاف کے قابل
تُو پھر بھی مِرے حال سے غافل تو نہیں ہے
بندہ ہوں تِرا غیب پہ ایمان ہے میرا
اوروں کو نہ ہو مجھ کو مگر تیرا یقیں ہے