Showing posts with label رحمان جامی. Show all posts
Showing posts with label رحمان جامی. Show all posts

Sunday, 29 October 2023

نہ جانے بات ہے کیا ہر طرف خوشی سی ہے

 افسوں

(آج لوٹا ہوں آپ سے مل کر)


نہ جانے بات ہے کیا

ہر طرف خوشی سی ہے

ہر ایک شئے پہ چھنی

جیسے چاندنی سی ہے

خیال و خواب سہی

ایک زندگی سی ہے

Tuesday, 8 August 2023

میں کہ مفلس غریب اک شاعر

 اتنا بتائیے مجھ کو


میں کہ مفلس غریب اک شاعر

آپ اور آپ کی گِراں مائی

آپ اور آپ کی یہ رعنائی

ایک سورج اور ایک تاریکی

ایک دانا، اور ایک سودائی

کیا علاقہ ہے آپ میں مجھ میں

Saturday, 3 June 2023

مرے ندیم محبت کی آرزو لے کر

 اجتہاد


مِرے ندیم محبت کی آرزو لے کر

میں تیرے در پہ جب آیا تو پیار مِل نہ سکا

کسی کے آنے کی خبریں ہیں اور مِرا دل ہے

ہزار رنج و الم اپنے سر اُٹھائے ہوئے

بہار آئی مگر پھر بھی دل نہیں مسرُور

بہار میں بھی مِرا دل ہے چوٹ کھائے ہوئے

Monday, 29 May 2023

میں نے چاہا تھا بہاروں میں ملوں میں تم سے

 احساس کا نور


میں نے چاہا تھا بہاروں میں ملوں میں تم سے

یہ خزاں راہ میں حائل تھی شراروں کو لیے

میں بھی گُم صُم سا رہا وقت کی آواز کے ساتھ

تم بھی آئیں نہ کبھی ساتھ بہاروں کو لیے


سرسراتی رہیں دامن کی ہوائیں یوں ہی

Wednesday, 24 May 2023

بحر جذبات میں آیا ہے تلاطم کیسا

 ارمان


بحرِ جذبات میں آیا ہے تلاطم کیسا

میں جو بکھرا ہوں تو اب مجھ کو سمٹنا ہو گا

میں نے کیا کیا نہ کیا دل کے بہلنے کے لیے

مجھ کو معلوم ہے ہر غم سے نمٹنا ہو گا


سرِ بازار تماشے کی طرح ہیں ارماں

چارہ گر کوئی مداوا تو نہیں ہے دل کا

Tuesday, 23 May 2023

جب سے اس کا ساتھ چھٹا ہے

 اس کی سہیلی سے


جب سے اس کا ساتھ چھٹا ہے

میری طرح تم بھی بے کل ہو

کتنی حیران، کتنی گم صم

دیکھ کے تم کو اس عالم میں

اب مجھ کو بھی رحم آتا ہے


تم اس کی ہمراز رہی ہو

Wednesday, 9 November 2022

آدم ہے نہ حوا ہے زماں ہے نہ زمیں ہے

 آدم ہے نہ حوا ہے زماں ہے نہ زمیں ہے 

وہ کون ہے جو کُن میں مگر پردہ نشیں ہے 

مانا کہ نہیں ہوں تِرے الطاف کے قابل 

تُو پھر بھی مِرے حال سے غافل تو نہیں ہے 

بندہ ہوں تِرا غیب پہ ایمان ہے میرا 

اوروں کو نہ ہو مجھ کو مگر تیرا یقیں ہے