یہ کہہ کے رک گیا موسم انتظار کا
کہ ابھی بنا نہیں موسم وصال کا
ہجر کی رات کوئی لمبی بھی نہیں
صرف شمار ہے ماہ و سال کا
عشق میں بے تابی کے کیا معانی
ملنا یوسف کا ہے یعقوب کے حال کا
یہ کہہ کے رک گیا موسم انتظار کا
کہ ابھی بنا نہیں موسم وصال کا
ہجر کی رات کوئی لمبی بھی نہیں
صرف شمار ہے ماہ و سال کا
عشق میں بے تابی کے کیا معانی
ملنا یوسف کا ہے یعقوب کے حال کا
تُو من کی کھڑکی کھول ذرا ہوا آئے گی
جھونکوں میں خوشبو اور صدا آئے گی
بند کر آنکھوں کو دنیا کا منظر رہنے دے
اک کائنات چل کر بے آواز آئے گی
ربِ کائنات کاعلم نہ دمِ تحریر میں آئے
ساگر بھی ہوں روشنائی کم پڑ جائے گی
شعر کب ہوتا ہے غزل کب ہوتی ہے
جب خون جلتا ہے پر نم آنکھ ہوتی ہے
بے ثباتیٴ جہاں کی پرواہ نہیں کرتے
جن کی تلخیوں میں صحرا کی پیاس ہوتی ہے
شام آغوشِ تنہائی میں سمٹ جاتی ہے
جب رات ڈرتے ڈرتے سحر ہوتی ہے
اک تیر↗ ہوں، نکل چکا ہوں کمان سے
تخیل ہے بڑھ کے سوچتا ہے گمان سے
یہ بھی کر لوں وہ بھی کر لوں کتنے کام ہیں
کتنے چلے گئے، کہتے کہتے جہان سے
سورج ڈوب گیا چاند ستاروں کی چُنر اوڑھے
حیرت سے تکتا ہے کہتا نہیں کچھ زبان سے
حسن پردوں میں، عشق خلوتوں میں
مقامِ شوق، نیم شب، تہجدوں میں
لذتِ ذکر سے جب آشنا ہو جائے دل
پھر نہیں سرور دنیا کی جلوتوں میں
راز رکھے جو وہی راز پائے بھی
پہلا درس مکتبۂ عشق کے درسوں میں
اٹھا رکھا ہے دل سنگِ گراں کی طرح
دیا ہے قدرت نے بھی احساں کی طرح
دل کے معاملے سمجھ نہیں آتے
گہرا ہے بحرِ بے کراں کی طرح
اکثر خدا بھی رہتا ہے اس میں آ کر
کعبے جیسا یہ بھی ہے مکاں کی طرح