Showing posts with label مبین نثار. Show all posts
Showing posts with label مبین نثار. Show all posts

Sunday, 13 March 2022

یہ کہہ کے رک گیا موسم انتظار کا

 یہ کہہ کے رک گیا موسم انتظار کا

کہ ابھی بنا نہیں موسم وصال کا

ہجر کی رات کوئی لمبی بھی نہیں

صرف شمار ہے ماہ و سال کا

عشق میں بے تابی کے کیا معانی

ملنا یوسف کا ہے یعقوب کے حال کا

Saturday, 29 January 2022

تو من کی کھڑکی کھول ذرا ہوا آئے گی

 تُو من کی کھڑکی کھول ذرا ہوا آئے گی

جھونکوں میں خوشبو اور صدا آئے گی

بند کر آنکھوں کو دنیا کا منظر رہنے دے

اک کائنات چل کر بے آواز آئے گی

ربِ کائنات کاعلم نہ دمِ تحریر میں آئے

ساگر بھی ہوں روشنائی کم پڑ جائے گی

Saturday, 25 December 2021

شعر کب ہوتا ہے غزل کب ہوتی ہے

 شعر کب ہوتا ہے غزل کب ہوتی ہے

جب خون جلتا ہے پر نم آنکھ ہوتی ہے

بے ثباتیٴ جہاں کی پرواہ نہیں کرتے

جن کی تلخیوں میں صحرا کی پیاس ہوتی ہے

شام آغوشِ تنہائی میں سمٹ جاتی ہے

جب رات ڈرتے ڈرتے سحر ہوتی ہے

Friday, 24 December 2021

اک تیر ہوں نکل چکا ہوں کمان سے

اک تیر↗ ہوں، نکل چکا ہوں کمان سے

تخیل ہے بڑھ کے سوچتا ہے گمان سے

یہ بھی کر لوں وہ بھی کر لوں کتنے کام ہیں

کتنے چلے گئے، کہتے کہتے جہان سے

سورج ڈوب گیا چاند ستاروں کی چُنر اوڑھے

حیرت سے تکتا ہے کہتا نہیں کچھ زبان سے

Wednesday, 4 August 2021

حسن پردوں میں عشق خلوتوں میں

 حسن پردوں میں، عشق خلوتوں میں

مقامِ شوق، نیم شب، تہجدوں میں

لذتِ ذکر سے جب آشنا ہو جائے دل

پھر نہیں سرور دنیا کی جلوتوں میں

راز رکھے جو وہی راز پائے بھی

پہلا درس مکتبۂ عشق کے درسوں میں

Saturday, 27 March 2021

اٹھا رکھا ہے دل سنگ گراں کی طرح

 اٹھا رکھا ہے دل سنگِ گراں کی طرح

دیا ہے قدرت نے بھی احساں کی طرح

دل کے معاملے سمجھ نہیں آتے

گہرا ہے بحرِ بے کراں کی طرح

اکثر خدا بھی رہتا ہے اس میں آ کر

کعبے جیسا یہ بھی ہے مکاں کی طرح