Sunday, 13 March 2022

یہ کہہ کے رک گیا موسم انتظار کا

 یہ کہہ کے رک گیا موسم انتظار کا

کہ ابھی بنا نہیں موسم وصال کا

ہجر کی رات کوئی لمبی بھی نہیں

صرف شمار ہے ماہ و سال کا

عشق میں بے تابی کے کیا معانی

ملنا یوسف کا ہے یعقوب کے حال کا

حسرتِ دید میں آنکھیں وبران ہوئیں

رہا روشن چہرہ کسی کے جمال کا

حرفِ شکایت لب پر گوارا نہیں ہے

معاملہ ہے غیرتِ صبر کے پامال کا


مبین نثار

No comments:

Post a Comment