یہ کہہ کے رک گیا موسم انتظار کا
کہ ابھی بنا نہیں موسم وصال کا
ہجر کی رات کوئی لمبی بھی نہیں
صرف شمار ہے ماہ و سال کا
عشق میں بے تابی کے کیا معانی
ملنا یوسف کا ہے یعقوب کے حال کا
حسرتِ دید میں آنکھیں وبران ہوئیں
رہا روشن چہرہ کسی کے جمال کا
حرفِ شکایت لب پر گوارا نہیں ہے
معاملہ ہے غیرتِ صبر کے پامال کا
مبین نثار
No comments:
Post a Comment