Showing posts with label دلشاد نسیم. Show all posts
Showing posts with label دلشاد نسیم. Show all posts

Sunday, 9 July 2023

میں جب بھی نعت لکھتی ہوں مدینہ یاد آتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میں جب بھی نعت لکھتی ہوں مدینہ یاد آتا ہے

کہ محبوبِ خدا سے میرا تو صدیوں کا ناطہ ہے

محبت کس کو کہتے ہیں کوئی پوچھے تو اللہ سے

کسی کے عشق میں کیسے کوئی دنیا سجاتا ہے

کہ جنت کی بشارت اس کو مل جاتی ہے دنیا میں

جو عشقِ مصطفٰیﷺ میں ساری دنیا کو بھلاتا ہے

Wednesday, 14 June 2023

نبی کے عشق میں ہر بات ہی بھلا کے چلیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نبیﷺ کے عشق میں ہر بات ہی بُھلا کے چلیں

چلو مدینے میں سر اور نظر جُھکا کے چلیں

کہ جس زمین پہ محبوبِ حقﷺ کا ڈیرہ ہے

وہیں پہ دِیپ عقیدت کے ہم جلا کے چلیں

کہاں پہ میں ہوں کہاں پہ تِرا خیال نبی ﷺ

چلو کہ دل سے سبھی وسوسے مِٹا کے چلیں

Friday, 31 March 2023

کتنا دلکش خیال بنتا ہے

 کتنا دلکش خیال بنتا ہے


دودھیا ہو رہا ہے منظر یہ 

ہاتھ میں چائے کی پیالی ہے

درمیاں بھاپ کی حسین  لپک

ساتھ تم  اور شام سردی کی

کتنا دلکش خیال بنتا ہے

Friday, 25 March 2022

اے غمگسار مرے دوست آزماتے نہیں

اے غمگسار! مرے دوست، آزماتے نہیں

جو جا رہے ہوں مِری جاں انہیں بلاتے نہیں

یہ درد و غم کے ہیں قصے تمہیں رلائیں گے

ہو مختصر بھی کہانی مگر سناتے نہیں

تمہیں ملیں گی دریچے میں منتظر شمعیں

کہیں بھی جائیں ہم آنکھوں کو لے کے جاتے نہیں

Wednesday, 19 January 2022

میری خزاں تو سبز ہوئی اس خمار میں

 میری خزاں تو سبز ہوئی اس خمار میں

آنے کا اس نے وعدہ کیا ہے بہار میں

رکھی ہوئی ہے لاج مِری میرے عشق نے

ورنہ تو کیا رکھا ہوا ہے انتظار میں

گھر بھی مجھے تو دشت سا لگتا ہے تیرے بن

لگتا نہیں ہے دل مِرا اجڑے دیار میں

Tuesday, 24 August 2021

آپ جب بھی کبھی مسکرانے لگے

 آپ جب بھی کبھی مسکرانے لگے

درد جتنے تھے میرے سہانے لگے 

رات پوری کھڑی ہے ابھی صحن میں

تارے مجھ کو ابھی سے جگانے لگے

خواب جلتے ہوئے رکھ دئیے راہ پر

بے سہارا تھے وہ سب ٹھکانے لگے

Sunday, 2 May 2021

میں اپنے خواب میں کچھ خاک میں ملاتی ہوں

 میں اپنے خواب میں کچھ خاک میں ملاتی ہوں

نہ جانے خاک سے ایسا میں کیا اٹھاتی ہوں

ستارے بھر کے میں دامن میں جب بھی لاتی ہوں

تمہاری راہ میں پھر شوق سے بچھاتی ہوں

پیاس دیکھ رہے ہیں یہ تشنہ لب میرے

میں اشک پیتی ہوں اور تشنگی مٹاتی ہوں

Sunday, 10 January 2021

وہ تیرا مجھ سے کہا حرف حرف سچ نکلا

 وہ تیرا مجھ سے کہا حرف حرف سچ نکلا

بھلا میں کون تِرا حرف حرف سچ نکلا

کہا تھا اس نے محبت فریب ہے دل کا

وہ جب بھی دور گیا حرف حرف سچ نکلا

انا پرستی میں اپنی مثال آپ تھا وہ

جو اس نے چاہا کیا حرف حرف سچ نکلا

Saturday, 9 January 2021

عطا ہے عشق اگر ہجر بھی عطائی ہے

 عطا ہے عشق اگر ہجر بھی عطائی ہے

کسی کی بات سے یہ بات یاد آئی ہے

تمہارے نام سے لکھے ہوئے خطوں کی قسم

تمہاری یاد سے کب دل کو اب رہائی ہے

پرانا دیکھ کے البم مجھے خیال آیا

ہماری عمر سے لمبی تو یہ جدائی ہے

Sunday, 3 January 2021

سن اے بہار یہ دستک تری لہو ہو گی

 سن، اے  بہار! یہ دستک تِری لہو ہو گی

نہ گھر پہ کوئی اگر ہو تو کھٹکھٹاتے نہیں

طبیب میرا یہ کہتا ہے میں  ہوا بدلوں 

کوئی بتائے کہ بدلاؤ راس آتے نہیں 

تم اپنے دل کا یہ پنجرہ بھی چاہے کھول رکھو

ہم ایسے پنچھی کبھی پر کو بھی ہلاتے نہیں 

Friday, 1 January 2021

پیروں میں جو پائل ہے

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


پیروں میں جو پائل ہے

تُو دیکھ پلٹ کر ہی

دل کتنوں کا گھائل ہے


دلشاد نسیم

ان آندھیوں کے ساتھ کئی گھونسلے گئے

 ان آندھیوں کے ساتھ کئی گھونسلے گئے

تم کیا گئے کہ میرے تو سب حوصلے گئے 

اک خواب میں نے دیکھا تھا پچھلے پہر کوئی 

اگلے پہر کی نیند کے لو سلسلے گئے 

اک چاند آسمان پہ اک میرے سامنے 

ان قربتوں میں دل کے سبھی فاصلے گئے 

Thursday, 31 December 2020

زمانے کو الفت کا دستور کر دوں

 زمانے کو الفت کا دستور کر دوں

میں تیری کہانی کو مشہور کر دوں

تِرے سامنے رو لوں جی چاہتا ہے

تِرے دل کو بھی غم سے میں چور کر دوں

مسیحا کا احساں نہیں چاہتی ہوں

میں زخموں کو اپنے ہی انگور کر دوں

Saturday, 12 December 2020

نہ جانے کیسی محبت کے وعدے رات جلے

 نہ جانے کیسی محبت کے وعدے رات جلے

جلا جو خط📧 تو میرے دونوں ہاتھ جلے

گنوا کے بیٹھی ہوں میں آج اپنا صبر و قرار 

کہ ساتھ چاند کے میری تو ساری رات جلے 

میں اس کہانی کا کردار ہوں کہ جس میں سدا 

وفا کو لکھنے سے پہلے ہی میرا ہاتھ جلے 

Friday, 11 December 2020

تیری الفت وصول ہو جیسے

 تیری الفت وصول ہو جیسے 

نعمتوں کا نزول ہو جیسے 

تُو مرے آسماں کا تارہ ہے 

دل تری رہ کی دھول ہو جیسے 

تیرے تابع ہی چلنے لگتا ہے 

وقت تیرا اصول ہو جیسے 

Thursday, 10 December 2020

اس قدر تلخیاں ہیں جیون میں

تلخیاں


 ہیں جدائی سے پہلے کی باتیں

شوخ تھا اور وہ ہنستا رہتا تھا

کافی اس کو کسیلی لگتی تھی

چائے پیتا مٹھاس کی خاطر

اب ملا مجھ کو وہ زمانے بعد

ہم نے خوابوں کی فصل اگائی

 استقبال


ہم نے خوابوں کی فصل اگائی لیکن

تعبیروں کی فصل نہیں کاٹی

بے موسمی بارشوں نے ہم کو بہت نقصان پہنچایا 

زندہ رہے تو اگلے برس 

بارش کے ہونے سے پہلے ہی 

راستہ کوئی دیکھتا ہو گا

 راستہ کوئی دیکھتا ہو گا

کوئی آگے نکل گیا ہو گا

رات پہلو میں سو گئی میرے

رات کو چین آ گیا ہو گا 

مری آنکھوں میں اشک آنے لگے

کیا مجھے عشق اب عطا ہو گا

وہ تو گریہ بھی مسلسل نہیں ہونے دیتے

 وہ تو گریہ بھی مسلسل نہیں ہونے دیتے

یہ مرا سوگ مکمل نہیں ہونے دیتے

مجھ کو رونے بھی نہیں دیتے ہیں تنہائی میں

میری آنکھوں کو وہ بادل نہیں ہونے دیتے

تھام لیتے ہیں وہ بپھری ہوئی لہروں کو بھی

اور دریا کو بھی جل تھل نہیں ہونے دیتے

Tuesday, 8 December 2020

آگ کو پانیوں سے خطرہ ہے

آگ کو پانیوں سے خطرہ ہے

تیری تابانیوں سے خطرہ ہے

جو سمجھتے ہیں عقلِ کل خود کو

ان کی نادانیوں سے خطرہ ہے

کچھ بھی کہتی نہیں ہے یہ بارِش

مجھ کو طغیانیوں سے خطرہ ہے