Thursday, 10 December 2020

راستہ کوئی دیکھتا ہو گا

 راستہ کوئی دیکھتا ہو گا

کوئی آگے نکل گیا ہو گا

رات پہلو میں سو گئی میرے

رات کو چین آ گیا ہو گا 

مری آنکھوں میں اشک آنے لگے

کیا مجھے عشق اب عطا ہو گا

جس کو ماضی سکون دیتا ہے

کس طرح مجھ کو بھولتا ہو گا

خوب صورت ہیں اس لیے پتھر

کوئی ان میں خدا رہا ہو گا

زندگی تلخ تو نہیں، لیکن

واقعہ کوئی ہو گیا ہو گا


دلشاد نسیم

No comments:

Post a Comment