راستہ کوئی دیکھتا ہو گا
کوئی آگے نکل گیا ہو گا
رات پہلو میں سو گئی میرے
رات کو چین آ گیا ہو گا
مری آنکھوں میں اشک آنے لگے
کیا مجھے عشق اب عطا ہو گا
جس کو ماضی سکون دیتا ہے
کس طرح مجھ کو بھولتا ہو گا
خوب صورت ہیں اس لیے پتھر
کوئی ان میں خدا رہا ہو گا
زندگی تلخ تو نہیں، لیکن
واقعہ کوئی ہو گیا ہو گا
دلشاد نسیم
No comments:
Post a Comment