رسمِ وفا نبھانا تو غیرت کی بات ہے
وہ مجھ کو بھول جائیں یہ حیرت کی بات ہے
سب مجھ کو چاہتے ہیں یہ شہرت کی بات ہے
میں اُس کو چاہتی ہوں یہ قسمت کی بات ہے
اظہارِ عشق کر ہی دیا مجھ سے آپ نے
یہ بھی جناب آپ کی ہمت کی بات ہے
رسمِ وفا نبھانا تو غیرت کی بات ہے
وہ مجھ کو بھول جائیں یہ حیرت کی بات ہے
سب مجھ کو چاہتے ہیں یہ شہرت کی بات ہے
میں اُس کو چاہتی ہوں یہ قسمت کی بات ہے
اظہارِ عشق کر ہی دیا مجھ سے آپ نے
یہ بھی جناب آپ کی ہمت کی بات ہے
آج دشمن ہے نگہبان، خدا خیر کرے
ہے ہتھیلی پہ مِری جان، خدا خیر کرے
دیکھئے حق میرا ملتا ہے برابر کہ نہیں
اُس کے ہاتھوں میں ہے مِیزان، خدا خیر کرے
جو زمانے کو کبھی لُوٹ لیا کرتا تھا
وہ بنا بیٹھا ہے سلطان، خدا خیر کرے
میرے ساتھ وہ نہ وفا کرے، وہ وفا کا کوئی صلہ نہ دے
مجھے خوف ہے اسی بات کا، کہیں رفتہ رفتہ بھُلا نہ دے
میری زندگی کی وہ جُستجو، میرے دل کی ہے وہی آرزو
میری ہر خوشی کا سبب ہے جو، کہیں وہ ہی مجھ کو رُلا نہ دے
اُسے اب تلک یہ پتا نہیں، میرے رت جگوں کا وہ نُور ہے
میرے سارے خواب اُسی کے ہیں، وہی آ کے مجھ کو جگا نہ دے
جام ایسا تِری آنکھوں سے عطا ہو جائے
ہوش موجود رہے، اور نشہ ہو جائے
اس طرح میری طرف میرا مسیحا دیکھے
درد دل ہی میں رہے اور دوا ہو جائے
زندگانی کو ملے کوئی ہُنر ایسا بھی
سب میں موجود بھی ہو اور فنا ہو جائے
اس کی جُدائی کیسے گوارا کروں گی میں
وہ آئے یا نہ آئے، پکارا کروں گی میں
یاد آئے گا کسی کا وہ حیرت سے دیکھنا
جب آئینے میں اپنا نظارا کروں گی میں
اک جرم جو ہے آپ کو پانے کی آرزو
سن لیجئے یہ جُرم دوبارا کروں گی میں