میرے ساتھ وہ نہ وفا کرے، وہ وفا کا کوئی صلہ نہ دے
مجھے خوف ہے اسی بات کا، کہیں رفتہ رفتہ بھُلا نہ دے
میری زندگی کی وہ جُستجو، میرے دل کی ہے وہی آرزو
میری ہر خوشی کا سبب ہے جو، کہیں وہ ہی مجھ کو رُلا نہ دے
اُسے اب تلک یہ پتا نہیں، میرے رت جگوں کا وہ نُور ہے
میرے سارے خواب اُسی کے ہیں، وہی آ کے مجھ کو جگا نہ دے
میری راکھ میں ہے دبی ہوئی، وہی آگ سی جو بُجھی نہیں
ذرا شوخ نظروں سے باز آ، مجھے اتنی تیز ہوا نہ دے
نزہت انجم
No comments:
Post a Comment