Showing posts with label کنول فیروز. Show all posts
Showing posts with label کنول فیروز. Show all posts

Thursday, 10 July 2025

سنگدل کو دل دینا حوصلوں کی باتیں ہیں

 سنگدل کو دل دینا حوصلوں کی باتیں ہیں

آئینوں کے افسانے کرچیوں کی باتیں ہیں

پھول پھول خاموشی، شاخ شاخ سناٹا

پیڑ پیڑ پنچھی ہیں پت جھڑوں کی باتیں ہیں

بارشوں کی رم جھم میں تو نہیں سمجھ سکتا

ہجر کتنا مہلک ہے آنسوؤں کی باتیں ہیں

Saturday, 11 January 2025

کبھی تو ہو گا مرے حق میں بھی زمانہ کوئی

 کبھی تو ہو گا مرے حق میں بھی زمانہ کوئی

مِرا خیال بھی رکھے گا غائبانہ کوئی

مجھے تُو پیار کی جُھوٹی کہانیاں نہ سنا

کہ اب نگاہ میں جچتا نہیں فسانہ کوئی

یہ دن تو ڈُوب گیا شام کے دُھندلکوں میں

وہ کل تلاش کرے گا نیا بہانہ کوئی

Sunday, 22 December 2024

فریب دے گا نظر کو شباب لگتا ہے

 فریب دے گا نظر کو شباب لگتا ہے

یہ ٹوٹ جائے گا، جامِ شراب لگتا ہے

تمام لفظوں میں نقش و نگار اس کے ہیں

وہ پھول چہرہ مجھے تو کتاب لگتا ہے

مِرے بدن میں سمندر ہیں پیاس کے یارو

ہر ایک شکل میں پانی سراب لگتا ہے

Monday, 9 December 2024

چپ چاپ زندہ رہنے کی راہیں ٹٹولیے

 چپ چاپ زندہ رہنے کی راہیں ٹٹولیے

بے وجہ نفسیات کی گِرہیں نہ کھولیے

دستک سی ہو رہی ہے سرِ منزلِ خیال

شاید کہ آ گئے ہیں وہ، دروازہ کھولیے

باتیں بڑی ہیں وقت بہت کم ہے دوستو

کچھ مجھ کو کہنے دیجیے کچھ آپ بولیے

Friday, 2 April 2021

تجھے دل میں بسا لیں شامل شام و سحر کر دیں

 تجھے دل میں بسا لیں شامل شام و سحر کر دیں

ادھر آ، غمِ جاناں تجھے ہم معتبر کر دیں

ہم آئے ہیں ہمارے ساتھ صبحِ ‌نو بھی آئی ہے

شبِ تاریک کے ماروں کو جا کر یہ خبر کر دیں

ہماری داستانِ عشق بھی دہرائے گی دنیا

اگر وہ ساتھ دیں تو ہم عاشقی کو معتبر کر دیں

Friday, 26 March 2021

سرخ ہونٹوں سے مرے دل پہ نشانی لکھ دے

 سرخ ہونٹوں سے مِرے دل پہ نشانی لکھ دے

تُو مِرے نام کے آگے کبھی جانی لکھ دے

عمر گزری ہے مِری شامِ فراتِ دل میں

میں ہوں پیاسا مِرے نسخے میں تو پانی لکھ دے

اب تِری یاد بھی کم کم ہی مجھے آتی ہے

جانے کس طرح سے گزری ہے جوانی لکھ دے