سنگدل کو دل دینا حوصلوں کی باتیں ہیں
آئینوں کے افسانے کرچیوں کی باتیں ہیں
پھول پھول خاموشی، شاخ شاخ سناٹا
پیڑ پیڑ پنچھی ہیں پت جھڑوں کی باتیں ہیں
بارشوں کی رم جھم میں تو نہیں سمجھ سکتا
ہجر کتنا مہلک ہے آنسوؤں کی باتیں ہیں
سنگدل کو دل دینا حوصلوں کی باتیں ہیں
آئینوں کے افسانے کرچیوں کی باتیں ہیں
پھول پھول خاموشی، شاخ شاخ سناٹا
پیڑ پیڑ پنچھی ہیں پت جھڑوں کی باتیں ہیں
بارشوں کی رم جھم میں تو نہیں سمجھ سکتا
ہجر کتنا مہلک ہے آنسوؤں کی باتیں ہیں
کبھی تو ہو گا مرے حق میں بھی زمانہ کوئی
مِرا خیال بھی رکھے گا غائبانہ کوئی
مجھے تُو پیار کی جُھوٹی کہانیاں نہ سنا
کہ اب نگاہ میں جچتا نہیں فسانہ کوئی
یہ دن تو ڈُوب گیا شام کے دُھندلکوں میں
وہ کل تلاش کرے گا نیا بہانہ کوئی
فریب دے گا نظر کو شباب لگتا ہے
یہ ٹوٹ جائے گا، جامِ شراب لگتا ہے
تمام لفظوں میں نقش و نگار اس کے ہیں
وہ پھول چہرہ مجھے تو کتاب لگتا ہے
مِرے بدن میں سمندر ہیں پیاس کے یارو
ہر ایک شکل میں پانی سراب لگتا ہے
چپ چاپ زندہ رہنے کی راہیں ٹٹولیے
بے وجہ نفسیات کی گِرہیں نہ کھولیے
دستک سی ہو رہی ہے سرِ منزلِ خیال
شاید کہ آ گئے ہیں وہ، دروازہ کھولیے
باتیں بڑی ہیں وقت بہت کم ہے دوستو
کچھ مجھ کو کہنے دیجیے کچھ آپ بولیے
تجھے دل میں بسا لیں شامل شام و سحر کر دیں
ادھر آ، غمِ جاناں تجھے ہم معتبر کر دیں
ہم آئے ہیں ہمارے ساتھ صبحِ نو بھی آئی ہے
شبِ تاریک کے ماروں کو جا کر یہ خبر کر دیں
ہماری داستانِ عشق بھی دہرائے گی دنیا
اگر وہ ساتھ دیں تو ہم عاشقی کو معتبر کر دیں
سرخ ہونٹوں سے مِرے دل پہ نشانی لکھ دے
تُو مِرے نام کے آگے کبھی جانی لکھ دے
عمر گزری ہے مِری شامِ فراتِ دل میں
میں ہوں پیاسا مِرے نسخے میں تو پانی لکھ دے
اب تِری یاد بھی کم کم ہی مجھے آتی ہے
جانے کس طرح سے گزری ہے جوانی لکھ دے