Showing posts with label افضل لہرپوری. Show all posts
Showing posts with label افضل لہرپوری. Show all posts

Thursday, 9 July 2026

جو چاہیے وہ کس لیے اکرام نہیں ہے

 جو چاہیے وہ کس لیے اکرام نہیں ہے

اعمال کا معیار اگر خام نہیں ہے

دولت سے ہر اک چیز میسر نہیں ہوتی

ظالم کو کسی حال میں آرام نہیں ہے

ہوتے ہیں یہاں جس کے اشارے پہ تماشے

مجرم کے شمارے میں وہی نام نہیں ہے

Tuesday, 23 July 2024

کبھی نظر سے کبھی سلسلے سے نکلے ہیں

 کبھی نظر سے کبھی سلسلے سے نکلے ہیں

تمام زاویے ہر فلسفے سے نکلے ہیں

قدم قدم پہ نئے راز سامنے آئے

تِرے فراق میں جس راستے سے نکلے ہیں

مِرے خلاف جو سازش رچانے والے تھے

وہ سارے لوگ مرے قافلے سے نکلے ہیں

Saturday, 20 July 2024

رہنما سے کارواں کا رابطہ ہی کیا رہا

 رہنما سے کارواں کا رابطہ ہی کیا رہا

کارواں سے دور ہے تو رہنما ہی کیا رہا

آدمی کا آدمی سے واسطہ ہی کیا رہا

خود ہی سوچو زندگی کا فلسفہ ہی کیا رہا

رہبران قوم کے جذبات ہی جاتے رہے

منزل مقصود کا اب راستہ ہی کیا رہا

Thursday, 18 July 2024

جہاں ہے کعبہ وہاں دل دکھائی دیتا ہے

 بیان کرنا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے

جہاں ہے کعبہ وہاں دل دکھائی دیتا ہے

وہاں سے دور بہت دور اپنی منزل ہے

جہاں کتاب میں ساحل دکھائی دیتا ہے

زمین و آسماں کب تک کے آزمایں گے

کیا اہلِ دل کبھی بزدل دکھائی دیتا ہے