جو چاہیے وہ کس لیے اکرام نہیں ہے
اعمال کا معیار اگر خام نہیں ہے
دولت سے ہر اک چیز میسر نہیں ہوتی
ظالم کو کسی حال میں آرام نہیں ہے
ہوتے ہیں یہاں جس کے اشارے پہ تماشے
مجرم کے شمارے میں وہی نام نہیں ہے
جو چاہیے وہ کس لیے اکرام نہیں ہے
اعمال کا معیار اگر خام نہیں ہے
دولت سے ہر اک چیز میسر نہیں ہوتی
ظالم کو کسی حال میں آرام نہیں ہے
ہوتے ہیں یہاں جس کے اشارے پہ تماشے
مجرم کے شمارے میں وہی نام نہیں ہے
کبھی نظر سے کبھی سلسلے سے نکلے ہیں
تمام زاویے ہر فلسفے سے نکلے ہیں
قدم قدم پہ نئے راز سامنے آئے
تِرے فراق میں جس راستے سے نکلے ہیں
مِرے خلاف جو سازش رچانے والے تھے
وہ سارے لوگ مرے قافلے سے نکلے ہیں
رہنما سے کارواں کا رابطہ ہی کیا رہا
کارواں سے دور ہے تو رہنما ہی کیا رہا
آدمی کا آدمی سے واسطہ ہی کیا رہا
خود ہی سوچو زندگی کا فلسفہ ہی کیا رہا
رہبران قوم کے جذبات ہی جاتے رہے
منزل مقصود کا اب راستہ ہی کیا رہا
بیان کرنا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے
جہاں ہے کعبہ وہاں دل دکھائی دیتا ہے
وہاں سے دور بہت دور اپنی منزل ہے
جہاں کتاب میں ساحل دکھائی دیتا ہے
زمین و آسماں کب تک کے آزمایں گے
کیا اہلِ دل کبھی بزدل دکھائی دیتا ہے