عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اے بقا چارۂ درد کیا چاہیۓ
شہرِ خیرالوریٰؐ کی ہوا چاہیۓ
خاکِ بطحا پہ سجدے کی ہے آرزو
کوئے طیبہ میں رہنے کو جا چاہیۓ
میں کہاں اور کہاں مدحِ شمس الضحیٰؐ
میرے لفظوں کو ان کی ضیاء چاہیۓ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اے بقا چارۂ درد کیا چاہیۓ
شہرِ خیرالوریٰؐ کی ہوا چاہیۓ
خاکِ بطحا پہ سجدے کی ہے آرزو
کوئے طیبہ میں رہنے کو جا چاہیۓ
میں کہاں اور کہاں مدحِ شمس الضحیٰؐ
میرے لفظوں کو ان کی ضیاء چاہیۓ
اسے کہنا
یہاں سب کچھ
تمہارے بِن ادھورا ہے
گئے لمحوں کی یادیں ہیں
عذابِ زندگانی ہے
فراقِ ناگہانی ہے