Showing posts with label بقا بلوچ. Show all posts
Showing posts with label بقا بلوچ. Show all posts

Wednesday, 24 November 2021

شہر خیرالوریٰ کی ہوا چاہیے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اے بقا چارۂ درد کیا چاہیۓ

شہرِ خیرالوریٰؐ کی ہوا چاہیۓ

خاکِ بطحا پہ سجدے کی ہے آرزو

کوئے طیبہ میں‌ رہنے کو جا چاہیۓ

میں کہاں اور کہاں مدحِ شمس الضحیٰؐ

میرے لفظوں کو ان کی ضیاء چاہیۓ

Sunday, 16 May 2021

اسے کہنا یہاں سب کچھ تمہارے بن ادھورا ہے

 اسے کہنا

یہاں سب کچھ

تمہارے بِن ادھورا ہے

گئے لمحوں کی یادیں ہیں

عذابِ زندگانی ہے

فراقِ ناگہانی ہے

Sunday, 11 December 2016

لعل مٹی میں ملاتے کیوں ہو

لعل مٹی میں ملاتے کیوں ہو
ہمنشیں! اشک بہاتے کیوں ہو
ہاں اگر پیار ہے مجھ سے تو کہو
تم مجھے اتنا رُلاتے کیوں ہو
گر مٹانا ہی ضروری ٹھہرا
رائیگاں نقش بناتے کیوں ہو

کیسا لمحہ آن پڑا ہے

کیسا لمحہ آن پڑا ہے
ہنستا گھر ویران پڑا ہے
بستر پر کچھ پھول پڑے ہیں
آنگن میں گلدان پڑا ہے
کرچی کرچی سپنے سارے
دل میں اک ارمان پڑا ہے

جتنے منظر دیکھے ہم نے

جتنے منظر دیکھے ہم نے
دل کے اندر دیکھے ہم نے
اڑتی خاک زمیں پر دیکھی
رنگ فلک پر دیکھے ہم نے
تم نے صرف کنارے دیکھے
سات سمندر دیکھے ہم نے

اب نہیں درد چھپانے کا قرینہ مجھ میں

اب نہیں درد چھپانے کا قرینا مجھ میں
کیا کروں بس گیا اک شخص انوکھا مجھ میں
اس کی آنکھیں مجھے محصور کئے رکھتی ہیں
وہ جو اک شخص ہے مدت سے صف آرا مجھ میں
اپنی مٹی سے رہی ایسی رفاقت مجھ کو
پھیلتا جاتا ہے اک ریت کا صحرا مجھ میں

اک عمر سے میں بات یہی سوچ رہا ہوں

اک عمر سے میں بات یہی سوچ رہا ہوں
تم چھوڑ نہ دو ساتھ، یہی سوچ رہا ہوں
ٹوٹا ہے مِرے دل کی طرح تیرا فسوں بھی
اے شہرِ طلسمات! یہی سوچ رہا ہوں
کب روح میں اترے گا تِری روح کا پرتَو
کب ہو گی ملاقات، یہی سوچ رہا ہوں

Tuesday, 5 April 2016

عمر بھر کچھ خواب دل پر دستکیں دیتے رہے

عمر بھر کچھ خواب دل پر دستکیں دیتے رہے
ہم کہ مجبور وفا تھے،۔ آہٹیں سنتے رہے
جب تخیل استعاروں میں ڈھلا، تو شہر میں
دیر تک حسنِ بیاں کے تذکرے ہوتے رہے
دِیپ یادوں کے جلے تو ایک بے چینی رہی
اتنی بے چینی کہ شب بھر کروٹیں لیتے رہے

وعدے جھوٹے قسمیں جھوٹی

وعدے جھوٹے قسمیں جھُوٹی
دنیا کی سب باتیں جھوٹی
کھینچی ہیں جو سچے دل سے
وہ بے نام لکیریں جھوٹی
اس کی آنکھیں بول رہی ہیں
سب خوشرنگ شبیہیں جھوٹی

کیا پوچھتے ہو کہ کیسا ہوں

کیا پوچھتے ہو کہ کیسا ہوں
اک سرد ہوا کا جھونکا ہوں
ہے میری روح میں بے چینی
میں اپنے آپ میں الجھا ہوں
ہے میرا سایا اور کوئی
میں اور کسی کا سایا ہوں

کم کم رہنا غم کے سرخ جزیروں میں

کم کم رہنا غم کے سرخ جزیروں میں
یہ جو سرخ جزیرے ہیں، سب خونی ہیں
کم کم بہنا دل دریا کے دھارے پر
یہ جو غم کے دھارے ہیں، سب خونی ہیں
ہجر کی پہلی شام ہو یا ہو وصل کا دن
جتنے منظر نامے ہیں، سب خونی ہیں