Showing posts with label ادریس آزاد. Show all posts
Showing posts with label ادریس آزاد. Show all posts

Wednesday, 17 May 2023

ہماری لاش کی تصویر بھی اتاری گئی

 ہماری لاش کی تصویر بھی اتاری گئی

پھر اس کے پاؤں سے زنجیر بھی اتاری گئی

شہید ہونے کا پہلے ہُنر اتارا گیا

پھر آسمان سے شمشیر بھی اتاری گئی

ثمر کو عزمِ مصمم کے ساتھ جوڑا گیا

قلم اٹھانے پہ تحریر بھی اتاری گئی

Thursday, 2 September 2021

تری یادوں سے پھر محفل کو گرما لوں تو آتا ہوں

 تِری یادوں سے پھر محفل کو گرما لوں تو آتا ہوں

یہی دو چار انگارے ہیں دہکا لوں تو آتا ہوں

میں اپنے رزق سے، حصے کا غم کھا لوں تو آتا ہوں

تِری دہلیز تک دامن کو پھیلا لوں تو آتا ہوں

یہ حسنِ خلق کا پرچہ بہت کمزور ہے میرا

سبق پھر سے ذرا اِک بار دہرا لوں تو آتا ہوں

Thursday, 15 July 2021

دن فقیرانہ کٹے مقبرہ شاہانہ بنا

 دن فقیرانہ کٹے، مقبرہ شاہانہ بنا

تیرا دیوانہ بنا ہوں تو یہ افسانہ بنا

آخِرش خاک کا پُتلا تو بنا ڈالا ہے

اتنا کافی ہے مجھے اور تماشا نہ بنا

ذرہ ذرہ مجھے گُھلنا ہے تو مت جوڑ مجھے

قطرہ قطرہ مجھے رونا ہے تو دریا نہ بنا

Thursday, 22 April 2021

کٹھ پتلیاں تھیں ہم یہ تماشہ کسی کا تھا

 کٹھ پتلیاں تھیں ہم، یہ تماشا کسی کا تھا

رقصِ جنوں میں ہم تھے، اشارہ کسی کا تھا

پیاسے تو تھے سراب گزیدہ، وہ ہم نہ تھے

اپنا تو نخلِ جان تھا، صحرا کسی کا تھا

تُو نے تو شہر غم میں گزارے ہیں چار دن

جیسا ہمارا حال تھا، ایسا کسی کا تھا؟

Monday, 19 April 2021

سرد آہوں سے ٹھٹھرے ہوئے قلب و جاں

 سرد آہوں سے ٹھٹھرے ہوئے قلب و جاں

اب کے اوجِ دسمبر میں پِگھلے

تو آنکھوں سے وہ آبشاریں برآمد ہوئیں

سب نشاں دُھل گئے

کوئی یاد آ گیا

ایک کاندھا جو کتنا مہربان تھا

Tuesday, 20 March 2018

ایک وہم کا ازالہ

ایک وہم کا ازالہ

تم برا نہ مانو تو
ایک بات کہتا ہوں
یہ جو وہم ہے تم کو
سب خرید سکتے ہو
جسم، زلف، آنکھیں اور
لب خرید سکتے ہو

وہ حشر خیز عنایات پر اتر آیا

وہ حشر خیز عنایات پر اتر آیا
بلا کا رنگ ہے اور رات پر اتر آیا
میں خود اداس کھڑا تھا کٹے درخت کے پاس
پرندہ اڑ کے مِرے ہاتھ پر اتر آیا
وہ مجھ سے توڑنے والا ہے پھر کوئی وعدہ
وہ پھر سیاسی بیانات پر اتر آیا

حسن کندن ہے ترا اور نکھر جائے گا

حسن کندن ہے تِرا اور نکھر جائے گا
جب جوانی کا حسیں دور گزر جائے گا
تُو مِرے دل سے دبے پاؤں نکل جائے تو کیا
میرے ہاتھوں کی لکیروں سے کدھر جائے گا؟
نام لکھتا ہے مِرا اپنی ہتھیلی پہ مگر
میں نے پوچھا تو کھڑے پاؤں مُکر جائے گا

ہم ایسے لوگ شیشے میں اتر جاتے ہیں دلدارا

ہم ایسے لوگ شیشے میں اتر جاتے ہیں دلدارا
چھنک کر ٹوٹ جاتے ہیں، بکھر جاتے ہیں دلدارا
ہر ا رہتا ہے دنیا میں ہر اِک پودا محبت کا
جہاں تک شاخ جاتی ہے ثمر جاتے ہیں دلدارا
ہمارے دل کی چنگاری کو بس اک پھونک کافی ہے
زیادہ سانس لے کوئی تو ڈر جاتے ہیں دلدارا

Friday, 2 February 2018

مری شراب تمنا مرے گلاس میں ہے

مِری شرابِ تمنا مِرے گلاس میں ہے
اسی لیے تو یہ منظر ابھی حواس میں ہے
نہ اشک پی کے میسر ہوئی وہ سیرابی
جو انتظار کے دو پتھروں کی پیاس میں ہے
میں اپنے آپ سے رہتا ہوں دور عید کے دن
اک اجنبی سا تکلف نئے لباس میں ہے

فلیش بیک

فلیش بیک

اتنی مدت کے بعد لوٹا ہوں
لوگ اپنی گلی کے یاد نہیں
حافظے پر بھی اعتماد نہیں
کون رہتا تھا اس محلے میں

کس کی خاطر میں روز بن ٹھن کر
گھر سے سہ پہر میں نکلتا تھا

Tuesday, 21 February 2017

طالوت نکل آئے ہیں جالوت نکل آئے

طالُوت نکل آئے ہیں جالُوت نکل آئے
اس ’کہنہ قبیلے‘ سے کئی پُوت نکل آئے
جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھے تُو
اندر سے مِرے عالمَ لاہوت نکل آئے
خوابوں کو لہو کرنے سے تب تک نہ ہٹوں گا
جب تک نہ مِری آنکھ سے یاقُوت نکل آئے

عجلت کو اختیار نہ کر انتظار کر

عجلت کو اختیار نہ کر انتظار کر
خود پر جنوں سوار نہ کر انتظار کر
یہ اضطرار ضعفِ جنوں کی دلیل ہے
یوں خود کو بے قرار نہ کر انتظار کر
مانا کہ شہرِ دل کی فصیلوں میں چھید ہیں
قائم ابھی حصار نہ کر انتظار کر

تو رزم گاہ تجسس میں دو بدو بھی نہیں

تُو رزم گاہِ تجسس میں دو بدو بھی نہیں
شکست خوردہ نہیں میں تو سرخرو بھی نہیں
اسے تو عالمِ لاہوت کہہ کے ٹال دیا
وہاں سے خاک ملے گی وہاں تو ’ہُو‘ بھی نہیں
تجھے جہاں کے پس و پیش میں تلاش کیا
تو جا بہ جا بھی نہیں ہے، تو رو برو بھی نہیں

Monday, 14 November 2016

یوں بظاہر تو پس پشت نہ ڈالو گے ہمیں

یوں بظاہر تو پسِ پشت نہ ڈالو گے ہمیں
جانتے ہیں بڑی عزت سے نکالو گے ہمیں
اتنے ظالم نہ بنو کچھ تو مروت سیکھو
تم پہ مرتے ہیں تو کیا مار ہی ڈالو گے ہمیں
تم نہیں آئے نہیں آئے مگر سوچا تھا
ہم اگر روٹھ بھی جائیں تو منا لو گے ہمیں

میں نے تو اس جانے والے سے بس اتنا کہنا تھا

میں نے تو اس جانے والے سے بس اتنا کہنا تھا
یوں تو پیار نہیں کرنا تھا، جب دو دن ہی رہنا تھا
تم نے ہمدردی سے دیکھا، میری اپنی غلطی ہے
اشکوں کو میں پی جاتا تو اشکوں نے کیوں بہنا تھا
شور مچانا بے مطلب تھا، چِلانا بے معنی تھا 
خود کو چوٹ لگا بیٹھا تھا درد تو آخر سہنا تھا

ہم اپنے حصے کا سارا ثواب جھیلتے ہیں

ہم اپنے حصے کا سارا ثواب جھیلتے ہیں
جو لفظ لکھتےہیں اس کا حساب جھیلتے ہیں
ابھی بھی حور و شرابِ طہور کی خاطر
بہت سے لوگ بہت سا عذاب جھیلتے ہیں
غنی، غنی ہے جو تعبیر بن برستا ہے
کہ ہم غنی ہیں جو خوابوں کے خواب جھیلتے ہیں

Friday, 22 May 2015

آخر کو ترا درد سے یارانہ ہوا نا

آخر کو تِرا درد سے یارانہ ہوا نا
تُو اُن کی عنایات سے بے گانہ ہوا نا
ویسے تو بہت بانٹتا پھِرتا ہوں محبت
دل کھول کے دیتا نہیں، دریا نہ ہوا نا
ملتی ہے شراب اور، شباب اور، کباب اور
جنت نہ ہوئی آپ کی، مے خانہ ہوا نا

کچھ لوگ جو جاتے ہیں پلٹتے ہی نہیں ہیں

کچھ لوگ جو جاتے ہیں پلٹتے ہی نہیں ہیں
اور ان کے بِنا دن ہیں کہ کٹتے ہی نہیں ہیں
بِکھرے ہی کچھ ایسے ہیں کہ کیا شعر کہوں میں
گیسُو تِرے لفظوں میں سِمٹتے ہی نہیں ہیں
ماتھے پہ جو آئے ہیں یہ ہاتھوں سے ہٹا لوں
پر، بال جو شیشے میں ہیں ہٹتے ہی نہیں ہیں

وہ ضبط جو اس درد کے مارے میں نہیں تھا

وہ ضبط جو اس درد کے مارے میں نہیں تھا
وہ آپ کے ابرو کے اشارے میں نہیں تھا
ہر لفظ میں اس کے، مِری باتوں کی جھلک تھی
اِک لفظ بھی اس کا مِرے بارے میں نہیں تھا
میں نے تِری دنیا کی ہرایک چیز خریدی
پر پیار کا سودا مِرے وارے میں نہیں تھا