ہماری لاش کی تصویر بھی اتاری گئی
پھر اس کے پاؤں سے زنجیر بھی اتاری گئی
شہید ہونے کا پہلے ہُنر اتارا گیا
پھر آسمان سے شمشیر بھی اتاری گئی
ثمر کو عزمِ مصمم کے ساتھ جوڑا گیا
قلم اٹھانے پہ تحریر بھی اتاری گئی
ہماری لاش کی تصویر بھی اتاری گئی
پھر اس کے پاؤں سے زنجیر بھی اتاری گئی
شہید ہونے کا پہلے ہُنر اتارا گیا
پھر آسمان سے شمشیر بھی اتاری گئی
ثمر کو عزمِ مصمم کے ساتھ جوڑا گیا
قلم اٹھانے پہ تحریر بھی اتاری گئی
تِری یادوں سے پھر محفل کو گرما لوں تو آتا ہوں
یہی دو چار انگارے ہیں دہکا لوں تو آتا ہوں
میں اپنے رزق سے، حصے کا غم کھا لوں تو آتا ہوں
تِری دہلیز تک دامن کو پھیلا لوں تو آتا ہوں
یہ حسنِ خلق کا پرچہ بہت کمزور ہے میرا
سبق پھر سے ذرا اِک بار دہرا لوں تو آتا ہوں
دن فقیرانہ کٹے، مقبرہ شاہانہ بنا
تیرا دیوانہ بنا ہوں تو یہ افسانہ بنا
آخِرش خاک کا پُتلا تو بنا ڈالا ہے
اتنا کافی ہے مجھے اور تماشا نہ بنا
ذرہ ذرہ مجھے گُھلنا ہے تو مت جوڑ مجھے
قطرہ قطرہ مجھے رونا ہے تو دریا نہ بنا
کٹھ پتلیاں تھیں ہم، یہ تماشا کسی کا تھا
رقصِ جنوں میں ہم تھے، اشارہ کسی کا تھا
پیاسے تو تھے سراب گزیدہ، وہ ہم نہ تھے
اپنا تو نخلِ جان تھا، صحرا کسی کا تھا
تُو نے تو شہر غم میں گزارے ہیں چار دن
جیسا ہمارا حال تھا، ایسا کسی کا تھا؟
سرد آہوں سے ٹھٹھرے ہوئے قلب و جاں
اب کے اوجِ دسمبر میں پِگھلے
تو آنکھوں سے وہ آبشاریں برآمد ہوئیں
سب نشاں دُھل گئے
کوئی یاد آ گیا
ایک کاندھا جو کتنا مہربان تھا