فریضہ ہے سو ہم نبھایا کریں گے
چراغوں کو مجلس میں لایا کریں گے
اندھیروں اُجالوں کی ہے یہ لڑائی
بُجھاؤ گے تم، ہم جلایا کریں گے
چُھپاؤ گے چہرہ کہاں تک تم اپنا
ہم اک آئینہ بن کے آیا کریں گے
کبھی گھر ہمیں بھی بُلا کر تو دیکھو
تمہیں ہم تمہیں سے مِلایا کریں گے
عدُو ہے تمہارا تمہارے ہی اندر
خُودی سے تمہیں ہم بچایا کریں گے
انا کا اگر بوجھ کم کر سکو تو
یہ وعدہ ہے سر پہ بٹھایا کریں گے
نوین جوشی
No comments:
Post a Comment