Showing posts with label شاہد کبیر. Show all posts
Showing posts with label شاہد کبیر. Show all posts

Sunday, 3 April 2022

روح کو قید کیے جسم کے ہالوں میں رہے

 روح کو قید کیے جسم کے ہالوں میں رہے

لوگ مکڑی کی طرح اپنے ہی جالوں میں رہے

جسم کو آئینہ دکھلاتے ہیں سائے، ورنہ

آدمی کے لیے اچھا تھا اجالوں میں رہے

وقت سے پہلے ہو کیوں ذہن پہ خورشید کا بوجھ

رات باقی ہے ابھی، چاند پیالوں میں رہے

Wednesday, 4 August 2021

اندر کا سکوت کہہ رہا ہے

 اندر کا سکوت کہہ رہا ہے

مٹی کا مکان بہہ رہا ہے 

شبنم کے عمل سے گل تھا لرزاں 

سورج کا عتاب سہہ رہا ہے 

بستر میں کھلا کہ تھا اکہرا 

وہ جسم جو تہہ بہ تہہ رہا ہے 

Wednesday, 5 May 2021

اس کی گلی میں پهر مجهے اک بار لے چلو

 مجبور کر کے پهر مجهے میرے یار! لے چلو

اس کی گلی میں پهر مجهے اک بار لے چلو

شاید یہ میرا وہم ہو، میرا خیال ہو

ممکن ہے میرے بعد سے، میرا ملال ہو

پچهتا رہا ہو پهر مجهے در سے اٹها کے وه

بیٹها ہو میری راه میں آنکهیں بچھا کے وه

Monday, 12 October 2020

اے زندگی اک بار تو نزدیک آ تنہا ہوں میں

 اے زندگی! اک بار تو، نزدیک آ تنہا ہوں میں

یا دور سے پھر دے مجھے کوئی صدا تنہا ہوں میں

مجھ سے بچھڑ کر کھو گیا، دنیا کی تُو اس بھیڑ میں

تجھ سے بچھڑ کر آج تک، اے بے وفا تنہا ہوں میں

اے جانِ تنہائی بتا، میں کیا کروں، جاؤں کہاں؟

دیتا نہیں کوئی مجھے، تیرا پتہ تنہا ہوں میں

Sunday, 23 August 2020

غم کا خزانہ تیرا بھی ہے میرا بھی

غم کا خزانہ تیرا بھی ہے، میرا بھی
یہ نذرانہ تیرا بھی ہے، میرا بھی
اپنے غم کو گیت بنا کر گا لینا
راگ پرانا تیرا بھی ہے، میرا بھی
کون ہے اپنا کون پرایا؟ کیا سوچیں
چھوڑ، زمانہ تیرا بھی ہے، میرا بھی

تمہارے شہر میں بھٹکے ہیں اجنبی کی طرح

تمہارے شہر میں بھٹکے ہیں اجنبی کی طرح
کسی نے بات بھی پوچھی نہ آدمی کی طرح
بہت گراں تھی شبِ تار، وہ تو خیر ہوئی
تم اس طرف جو نکل آئے چاندنی کی طرح
یہ ماہتاب سا کچھ ہے، کہ ماہتاب ہے یہ
ستارے سوچ میں ڈوبے ہیں فلسفی کی طرح

Wednesday, 27 May 2020

پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے

گیت/غزل

پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے
نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے
جسم کی بات نہیں، ان کے دل تک جانا تھا
لمبی دوری طے کرنے میں وقت تو لگتا ہے
گانٹھ اگر لگ جائے تو پھر رشتے ہوں یا ڈوری
لاکھ کریں کوشش کھلنے میں وقت تو لگتا ہے

نیند سے آنکھ کھلی ہے ابھی دیکھا کیا ہے

نیند سے آنکھ کھلی ہے، ابھی دیکھا کیا ہے
دیکھ لینا ابھی کچھ دیر میں دنیا کیا ہے
باندھ رکھا ہے کسی سوچ نے گھر سے ہم کو
ورنہ اپنا در و دیوار سے رشتہ کیا ہے
ریت کی، اینٹ کی، پتھر کی ہوں یا مٹی کی
کسی دیوار کے سائے کا بھروسہ کیا ہے

آج ہم بچھڑے تو پھر کتنے رنگیلے ہو گئے

آج ہم بچھڑے تو پھر کتنے رنگیلے ہو گئے
میری آنکھیں سرخ تیرے ہاتھ پیلے ہو گئے
اب تِری یادوں کے نشتر بھی ہوئے جاتے ہیں کند
ہم کو کتنے روز اپنے زخم چھیلے ہو گئے
کب کی پتھر ہو چکی تھیں منتظر آنکھیں، مگر
چھو کے دیکھا جو انہیں تو ہاتھ گیلے ہو گئے

زمیں پہ چل نہ سکا آسمان سے بھی گیا

زمیں پہ چل نہ سکا آسمان سے بھی گیا
کٹا کے پر کو پرندہ اڑان سے بھی گیا
تباہ کر گئی پکے مکان کی خواہش
میں اپنے گاؤں کے کچے مکان سے بھی گیا
پرائی آگ میں جل کر بھی کیا ملا تجھ کو
اُسے بچا نہ سکا اپنی جان سے بھی گیا

Thursday, 21 May 2020

تجھے دعا کے علاوہ فقیر کیا دے گا

کسی امیر کو کوئی فقیر کیا دے گا
غزل کی صنف کو شاہد کبیر کیا دے گا
انا کو بیچ کے عظمت خرید سکتے ہیں
ضمیر کیا ہے، کسی کو ضمیر کیا دے گا
بس اک گماں کے تعاقب میں لوگ چلتے ہیں
سفر کو سمت کوئی راہگیر کیا دے گا

روٹھنے والے سے کوئی کہہ دے یوں نہ روٹھے کہ دل ٹوٹ جائے

زندگی تو خفا ہم سے ہے ہی موت بھی نہ کہیں روٹھ جائے
روٹھنے والے سے کوئی کہہ دے یوں نہ روٹھے کہ دل ٹوٹ جائے
آہ کیونکر نہ پہنچے فغاں تک گھر جلے اور نہ نکلے، دھواں تک
اس کو دو گے تسلی کہاں تک جس کی تقدیر ہی پھوٹ جائے
گدگدی سے صبا کی مچل کر ناز کرتی ہے اپنے بدن پر
ان کی انگڑائیاں دیکھ لے گر شاخ گُل کی کمر ٹوٹ جائے

ہوتی نہیں وفا تو جفا ہی کیا کرو

ہوتی نہیں وفا تو جفا ہی کیا کرو
تم بھی تو کوئی رسمِ محبت ادا کرو
ہم تم پہ مر مٹے تو یہ کس کا قصور ہے
آئینہ لے کے ہاتھ میں خود فیصلہ کرو
اب ان پہ کوئی بات کا ہوتا نہیں اثر
منت کرو،۔ سوال کرو،۔ التجا کرو

Saturday, 6 February 2016

ٹھکراؤ اب کہ پیار کرو میں نشے میں ہوں

گیت/غزل

ٹھکراؤ اب کہ پیار کرو، میں نشے میں ہوں
جو چاہو میرے یار کرو، میں نشے میں ہوں
اب بھی دلا رہا ہوں یقینِ وفا،۔ مگر
میرا نہ اعتبار کرو، میں نشے میں ہوں
اب تم کو اختیار ہے، اے اہلِ  کارواں
جو راہ اختیار کرو، میں نشے میں ہوں

لوگ تیری آنکھوں کی مستیاں خریدیں گے

لوگ تیری آنکھوں کی مستیاں خریدیں گے
گیسوؤں سے ساون کی بدلیاں خریدیں گے
کہکشاں اتاریں گے مانگ سے ستاروں کی
تیرے ہر تبسم کی بجلیاں خریدیں گے 
بے اثر ہوئے گھنگھرو، اب وہ بیچ کر پائل
عاشقوں کے پیروں کی بیڑیاں خریدیں گے

گجرا مہکا کنگنا کھنکا کھن کھن آدھی رات کے بعد

گجرا مہکا، کنگنا کھنکا کھن کھن آدھی رات کے بعد
ٹوٹ گئے سب لاج حیا کے بندھن آدھی رات کے بعد
سوچ رہی ہے آس کی ماری بِرہن آدھی رات کے بعد
جلتا ہے کیوں آگ کے جیسے تن من آدھی رات کے بعد
دروازے پر گرتی ہے جب چلمن آدھی رات کے بعد
سُونا ہو جاتا ہے گھر کا آنگن آدھی رات کے بعد

بے چینیوں کو گھول کے اپنے گلاس میں

بے چینیوں کو گھول کے اپنے گلاس میں
ہم لوگ زہر پیتے ہیں جینے کی آس میں
کچھ لوگ آگ سے بھی بجھاتے ہیں پیاس کو
کچھ لوگ ہیں جو خون بھی پیتے ہیں پیاس میں
اوپر سے زندگی ہے بہت خوشنما، مگر
اندر سے کتنے زخم چھپے ہیں لباس میں

Thursday, 4 February 2016

نظریں چرا لو بند رکھو کان چپ رہو

نظریں چرا لو، بند رکھو کان، چپ رہو
سب لوگ چپ ہے تم بھی مِری جان چپ رہو
سچ بات کہہ کے صاحبو! شرمندگی نہ لو
سمجھیں گے لوگ آپ کو نادان، چپ رہو
ہر چیخ بے اثر ہے، ہر اک ظلم بے صدا
دے گا نہیں کسی پہ کوئی دھیان، چپ رہو

پھول کی طرح برستے ہیں ترے شہر کے لوگ

پھول کی طرح برستے ہیں تِرے شہر کے لوگ
یا مِرے حال پہ ہنستے ہیں تِرے شہر کے لوگ
کچھ تو احساس انہیں اپنی ملاقات کا ہے
ہم پہ آواز تو کستے ہیں تِرے شہر کے لوگ
میں بھٹکتا ہوں تِرے شہر کی ان سڑکوں پر
اور اس شہر میں بستے ہیں تِرے شہر کے لوگ

دعاؤں میں ہو گا اثر دھیرے دھیرے

دعاؤں میں ہو گا اثر دھیرے دھیرے
ملے گی نظر سے نظر دھیرے دھیرے
ملا کر نظر کیسے دامن بچانا
تمہیں آ گیا ہے ہنر دھیرے دھیرے
کوئی زخم دو، دل دکھاؤ، ستاؤ
اجازت ہے تم کو مگر دھیرے دھیرے