روح کو قید کیے جسم کے ہالوں میں رہے
لوگ مکڑی کی طرح اپنے ہی جالوں میں رہے
جسم کو آئینہ دکھلاتے ہیں سائے، ورنہ
آدمی کے لیے اچھا تھا اجالوں میں رہے
وقت سے پہلے ہو کیوں ذہن پہ خورشید کا بوجھ
رات باقی ہے ابھی، چاند پیالوں میں رہے
روح کو قید کیے جسم کے ہالوں میں رہے
لوگ مکڑی کی طرح اپنے ہی جالوں میں رہے
جسم کو آئینہ دکھلاتے ہیں سائے، ورنہ
آدمی کے لیے اچھا تھا اجالوں میں رہے
وقت سے پہلے ہو کیوں ذہن پہ خورشید کا بوجھ
رات باقی ہے ابھی، چاند پیالوں میں رہے
اندر کا سکوت کہہ رہا ہے
مٹی کا مکان بہہ رہا ہے
شبنم کے عمل سے گل تھا لرزاں
سورج کا عتاب سہہ رہا ہے
بستر میں کھلا کہ تھا اکہرا
وہ جسم جو تہہ بہ تہہ رہا ہے
مجبور کر کے پهر مجهے میرے یار! لے چلو
اس کی گلی میں پهر مجهے اک بار لے چلو
شاید یہ میرا وہم ہو، میرا خیال ہو
ممکن ہے میرے بعد سے، میرا ملال ہو
پچهتا رہا ہو پهر مجهے در سے اٹها کے وه
بیٹها ہو میری راه میں آنکهیں بچھا کے وه
اے زندگی! اک بار تو، نزدیک آ تنہا ہوں میں
یا دور سے پھر دے مجھے کوئی صدا تنہا ہوں میں
مجھ سے بچھڑ کر کھو گیا، دنیا کی تُو اس بھیڑ میں
تجھ سے بچھڑ کر آج تک، اے بے وفا تنہا ہوں میں
اے جانِ تنہائی بتا، میں کیا کروں، جاؤں کہاں؟
دیتا نہیں کوئی مجھے، تیرا پتہ تنہا ہوں میں