Wednesday, 5 May 2021

اس کی گلی میں پهر مجهے اک بار لے چلو

 مجبور کر کے پهر مجهے میرے یار! لے چلو

اس کی گلی میں پهر مجهے اک بار لے چلو

شاید یہ میرا وہم ہو، میرا خیال ہو

ممکن ہے میرے بعد سے، میرا ملال ہو

پچهتا رہا ہو پهر مجهے در سے اٹها کے وه

بیٹها ہو میری راه میں آنکهیں بچھا کے وه

اس نے بهی تو کیا تها مجهے پیار. لے چلو

اس کی گلی میں پهر مجهے ایک بار لے چلو


اب اس گلی میں کوئی نہ آئے گا میرے بعد

اس در پہ کون خون بہائے گا میرے بعد

میں نے تو سنگ و خشت سے ٹکرا کے اپنا سر

گُلنار کر دئیے تھے لہو سے وہ بام و در

پھر مُنتظر ہیں وہ در و دیوار لے چلو

اس کی گلی میں پھر مجھے اک بار لے چلو


وہ جس نے میرے سینے کو زخموں سے بھر دیا

چھُڑوا کے اپنا در مجھے در در کا کر دیا

مانا کہ اس کے ظلم و ستم سے ہوں نیم جاں

پھر بھی میں سخت جاں ہوں پہنچ جاؤں گا وہاں

سو بار جاؤں گا مجھے سو بار لے چلو

اس کی گلی میں پھر مجھے اک بار لے چلو


دیوانہ کہہ کے لوگوں نے ہر بات ٹال دی

دنیا نے میرے پاؤں میں زنجیر ڈال دی

چاہو جو تم تو میرا مقدر سنوار دو

یارو یہ میرے پاؤں کی بیڑی اُتار دو

یا کھینچتے ہوئے سر بازار لے چلو

اس کی گلی میں پھر مجھے اک بار لے چلو


اس کی گلی کو جانتا، پہچانتا ہوں میں

وه میری قتل گاه ہے یہ مانتا ہوں میں

اس کی گلی میں موت مقدر کی بات ہے

شاید یہ موت اہل وفا کی حیات ہے

میں خود بهی مانگتا ہوں طلبگار لے چلو

اس کی گلی میں پهر مجهے ایک بار لے چلو


شاہد کبیر

No comments:

Post a Comment