Showing posts with label شعیب بخاری. Show all posts
Showing posts with label شعیب بخاری. Show all posts

Saturday, 3 July 2021

یہ اب کھلا ہے کہ اتنا غبار تھا مجھ میں

 یہ اب کھُلا ہے کہ اتنا غُبار تھا مجھ میں

اس انتشار سے پہلے قرار تھا مجھ میں

اکٹھے رہتے تھے ہم دو الگ مکانوں میں

میں یار میں تھا مکیں اور یار تھا مجھ میں

میں اس وجود سے نکلا تو مجھ پہ بھید کھُلا

وہ میں ہی تھا جو بہت بے قرار تھا مجھ میں

Friday, 28 May 2021

بھول بھی جائیں تجھے زخم پرانا بھی تو ہو

 بھُول بھی جائیں تجھے زخم پرانا بھی تو ہو 

جی بھی لیں جینے کو جینے کا بہانہ بھی تو ہو 

ہم نے سیکھا ہی نہیں ترکِ مروت کا سبق 

بات بڑھتی ہے، مگر بات بڑھانا بھی تو ہو 

اب کے مقتل کو کسی میلے کی زینت کر دو 

پھر تماشہ جو سجے ساتھ زمانہ بھی تو ہو 

Monday, 24 May 2021

آنکھوں نے اسے تجھ سے چھپانا بھی نہیں ہے

 آنکھوں نے اسے تجھ سے چھُپانا بھی نہیں ہے

جو خواب مجھے تجھ کو دِکھانا بھی نہیں ہے

کھُلنے کی نہیں تجھ پہ مِری ذات کی پرتیں

یہ شعر مجھے تجھ کو سُنانا بھی نہیں ہے

کیوں نیند سے لبریز ہوئی جاتی ہیں آنکھیں 

جب تجھ کو مِرے خواب میں آنا بھی نہیں ہے

Tuesday, 8 December 2020

ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے اخیر ہے

 ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے، اخیر ہے

یہ دل بھی کیا لکیر کا فقیر ہے، اخیر ہے

ہمارے ساتھ حادثہ بھی دفعتاً نہیں ہوا

جو ہاتھ میں نصیب کی لکیر ہے، اخیر ہے

ہمارے قتل پر ہمیں ہی دوش دے رہے ہیں آپ

جناب من جو آپ کا ضمیر ہے، اخیر ہے

Friday, 27 November 2020

اپنی تنہائی کے اسباب سمجھ آنے لگے

 اپنی تنہائی کے اسباب سمجھ آنے لگے

جب مجھے ٹھیک سے احباب سمجھ آنے لگے

میں نے اک بار یونہی ہاتھ چھڑایا تجھ سے

خود پہ کھلتے ہوئے ابواب سمجھ آنے لگے

فائدہ یہ ہوا اشجار کی صحبت کا ہمیں

باروَر ہونے کے آداب سمجھ آنے لگے

Thursday, 12 November 2020

محور ذات وہی وعدہ فراموش رہے

 محورِ ذات وہی وعدہ فراموش رہے

ہم یہی سوچ کے اک عمر سِیہ پوش رہے

قصۂ غم ہے کہیں اور سنانے کا نہیں

ہم کو درکار ہے دیوار جو خاموش رہے

سارے الزام سرِ بزم ہمِیں پر آئے

اور ہم اہلِ مروت تھے کہ خاموش رہے