یہ اب کھُلا ہے کہ اتنا غُبار تھا مجھ میں
اس انتشار سے پہلے قرار تھا مجھ میں
اکٹھے رہتے تھے ہم دو الگ مکانوں میں
میں یار میں تھا مکیں اور یار تھا مجھ میں
میں اس وجود سے نکلا تو مجھ پہ بھید کھُلا
وہ میں ہی تھا جو بہت بے قرار تھا مجھ میں
یہ اب کھُلا ہے کہ اتنا غُبار تھا مجھ میں
اس انتشار سے پہلے قرار تھا مجھ میں
اکٹھے رہتے تھے ہم دو الگ مکانوں میں
میں یار میں تھا مکیں اور یار تھا مجھ میں
میں اس وجود سے نکلا تو مجھ پہ بھید کھُلا
وہ میں ہی تھا جو بہت بے قرار تھا مجھ میں
بھُول بھی جائیں تجھے زخم پرانا بھی تو ہو
جی بھی لیں جینے کو جینے کا بہانہ بھی تو ہو
ہم نے سیکھا ہی نہیں ترکِ مروت کا سبق
بات بڑھتی ہے، مگر بات بڑھانا بھی تو ہو
اب کے مقتل کو کسی میلے کی زینت کر دو
پھر تماشہ جو سجے ساتھ زمانہ بھی تو ہو
آنکھوں نے اسے تجھ سے چھُپانا بھی نہیں ہے
جو خواب مجھے تجھ کو دِکھانا بھی نہیں ہے
کھُلنے کی نہیں تجھ پہ مِری ذات کی پرتیں
یہ شعر مجھے تجھ کو سُنانا بھی نہیں ہے
کیوں نیند سے لبریز ہوئی جاتی ہیں آنکھیں
جب تجھ کو مِرے خواب میں آنا بھی نہیں ہے
ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے، اخیر ہے
یہ دل بھی کیا لکیر کا فقیر ہے، اخیر ہے
ہمارے ساتھ حادثہ بھی دفعتاً نہیں ہوا
جو ہاتھ میں نصیب کی لکیر ہے، اخیر ہے
ہمارے قتل پر ہمیں ہی دوش دے رہے ہیں آپ
جناب من جو آپ کا ضمیر ہے، اخیر ہے
اپنی تنہائی کے اسباب سمجھ آنے لگے
جب مجھے ٹھیک سے احباب سمجھ آنے لگے
میں نے اک بار یونہی ہاتھ چھڑایا تجھ سے
خود پہ کھلتے ہوئے ابواب سمجھ آنے لگے
فائدہ یہ ہوا اشجار کی صحبت کا ہمیں
باروَر ہونے کے آداب سمجھ آنے لگے
محورِ ذات وہی وعدہ فراموش رہے
ہم یہی سوچ کے اک عمر سِیہ پوش رہے
قصۂ غم ہے کہیں اور سنانے کا نہیں
ہم کو درکار ہے دیوار جو خاموش رہے
سارے الزام سرِ بزم ہمِیں پر آئے
اور ہم اہلِ مروت تھے کہ خاموش رہے